کراچی کا سیاسی حل نکالنے کی کوشش نہیں کی گئیمظہر عباس

حالات خراب کرنے میں کچھ اور لوگ بھی ملوث ہیں تاہم متحدہ بڑی ذمہ دار ہے:ہارون رشید.

ایم کیوایم اپنے مشکل ترین دور سے گذر رہی ہے،سیلم صافی، ٹو دی پوائنٹ میں گفتگو فوٹو : فائل

ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز مظہر عباس نے کہا ہے کہ کراچی ایک آتش فشاں ہے۔

جس سے لاوا ہر وقت نکلتا رہتا ہے، عجیب بات ہے کہ ایک تنظیم کو دہشتگرد قرار دیتے ہیں پھر اس سے اتحاد بھی کر لیتے ہیں۔ کراچی کا سیاسی حل نکالنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ٹو دی پوائنٹ میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ 1992 میں کراچی میں ہونے والے فوجی آپریشن، اس کے بعد ہونے والا پولیس آپریشن الٹ پڑا، پولیس آپریشن میں صرف جرائم پیشہ افراد ہی نہیں بلکہ ایم کیو ایم کے عام کارکن بھی ہلاک ہوئے، اس آپریشن کے خلاف دنیا چیخ اٹھی، شعیب سڈل نے درجنوں پولیس اہلکاروں کو ماورائے عدالت قتل کے الزام میں برطرف کیا۔ انہوں نے ایم کیو ایم میں تبدیلی کا عمل اس سے پہلے بھی ہوا ہے، 1991 آفاق احمد اور عامر خان اور بہت سے کارکن اس کو چھوڑ گئے۔




عظیم احمد طارق کے قتل کے بعد بھی بہت سی تبدیلیاں آئیں۔ اور پھر اس کے بعد 1993 میں بھی تبدیلیاں آئیں، اس وقت ایم کیو ایم میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے، ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچے میں اس وقت جو تبدیلیاں کی جا رہی ہیں ان کو 11 مئی کے انتخابات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے، پی ٹی آئی ایم کیو ایم کے گھروں تک پہنچ گئی ہے، پارٹی کے کارکنوں کے گھر والوں نے ایم کیو ایم کی بجائے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا تاہم تنظیم نو کی وجہ چاہے کچھ بھی ہو یہ مثبت عمل ہوتا ہے۔ کالم نگار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ کراچی میں کون فساد کرتا ہے، کون ٹارگٹ کلنگ کرتا ہے ،کس نے میڈیا کو دھمکیاں دی ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔

انہوں نے کہ کہ ان کی معلومات کے مطابق الطاف حیسن نے جو آخری تقریر کی ہے اس کے دوران جب میڈیا کے لوگوں کو نکال دیا گیا تھا تو انہوں نے سوال کیا کہ کراچی پر امن کیوں ہے، کیا الطاف حیسن پر یہ اچانک انکشاف ہوا کہ ان کی پارٹی میں بھتہ خوری اور چائنا کٹنگ میں ملوث کارکن بھی ہیں۔کراچی کے حالات خراب کرنے میں کچھ اور لوگ بھی ملوث ہیں تاہم ایم کیو ایم سب سے بڑی ذمہ دار ہے، وزیر اعظم اپنی ایجنسیوں سے پوچھیں کی کون کتنا ذمہ دار ہے، وہ خوف سے معاملات چلاتے رہے اور خوف کی زنجیر اب ٹوٹ رہی ہے۔
Load Next Story