پاک انڈونیشیا آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت اکتوبر میں ہوگی

انڈونیشی سفارتخانے کے تحت دوطرفہ تجارت اور پام آئل کی صنعت میں امکانات پر کانفرنس

پام آئل صحت کیلیے مفید،پاکستان میں خدشات دور کرنے کیلیے آگہی پھیلانا ہوگی، سفیر۔ فوٹو: فائل

انڈونیشین سفارتخانے کے تحت کراچی میں پاک انڈونیشیا تجارت اور پام آئل کی صنعت کے امکانات کے بارے میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس میں انڈونیشیا کے سفیر امری سویودھی ایون انڈونیشیا کے کراچی میں تعینات قونصل جنرل پریاناماتو توتوک سمیت اندونیشین پام آئل انڈسٹری کے نمائندوں اور پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انڈونیشیا کے سفیر نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات قائم ہیں۔


پاکستان انڈونیشیا سے پام آئل درآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے بارے میں صحت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہورہا ہے تاہم پام آئل صحت کے لیے مفید ہے۔

اس سلسلے میں حکومت کے علاوہ خود صنعت کو بھی آگہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انڈونیشیا کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع اور سی پیک منصوبے کی وجہ سے پاکستان میں انڈونیشیا کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

کانفرنس میں شریک ماہرین نے پام آئل کو صحت کے لیے محفوظ قرار دیا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا سے پام آئل کی ایکسپورٹ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور پاکستان پام آئل درآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔
Load Next Story