امریکا و بھارت کے درمیان معاہدے پاکستان کو زبانی دلاسے
امریکا و بھارت کے درمیان تعلقات کی پینگیں خوب بڑھ رہی ہیں جس کے مضر اثرات لامحالہ پاکستان پر پڑ رہے ہیں۔
امریکا و بھارت کے درمیان تعلقات کی پینگیں خوب بڑھ رہی ہیں جس کے مضر اثرات لامحالہ پاکستان پر پڑ رہے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جیمز میٹس کے بھارت دورے کے دوران امریکا اور بھارت کے درمیان اہم فوجی معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں جس کے تحت بھارت امریکا سے حساس دفاعی ٹیکنالوجی کی خریداری کرسکے گا۔ واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ پاکستان کے مختصر دورے کے بعد بھارت پہنچے تھے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ امریکا و بھارت کے درمیان تعلقات کی پینگیں خوب بڑھ رہی ہیں جس کے مضر اثرات لامحالہ پاکستان پر پڑ رہے ہیں، واضح رہے کہ مائیک پومپیو نے بدھ کو پاکستان کے دورے میں وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل سے بھی ملاقات کی تھی لیکن اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، افغانستان میں امن عمل اور پاکستان کے لیے امریکی امداد کی معطلی کے مسئلے پر بات چیت کی گئی لیکن کسی بھی قسم کے معاہدے یا پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت نہ ہوسکی۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پومپیو نے پاکستان سے روانگی کے وقت میڈیا سے گفتگو میں ایسے بیانات دیے جن پر کسی صورت دو طرفہ مذاکرات میں گفتگو نہیں ہوئی تھی، جو کہ پاکستانی خارجہ حکام کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی۔ 'امریکی وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان اور اس کے اثرات' کے حوالے سے منعقدہ ایکسپریس فورم میں ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں نے اپنی رائے میں بلاشبہ اس دورہ کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں تاہم اس سے برف ضرور پگھلے گی۔
امریکا کے ساتھ ہمارا رشتہ حاکم اور محکوم کا رہا ہے، افسوس ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر امریکا کو رعایت دی اور ایسے مطالبات بھی مان لیے جن پر خود امریکا حیرت کا شکار ہوا مگر اس کا نقصان پاکستان کا ہوا۔ یہ یقیناً ہماری کمزور خارجہ پالیسی کے باعث ہوا۔ دوسری جانب بھارت نے نہایت چالاکی اور ہوشیاری سے نہ صرف امریکا کو اپنی مٹھی میں کرلیا بلکہ خطے میں کئی فوائد بھی حاصل کیے۔
امریکی وزیر دفاع کے دورہ بھارت میں نہ صرف اہم فوجی معاہدے کیے گئے بلکہ واشنگٹن نے نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارتی شمولیت کی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے، دونوں ممالک نے داؤد ابراہیم کی پاکستان میں تلاش کے لیے بھی معاہدہ کیا۔ بھارت اور امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ پٹھان کوٹ، اڑی اور سرحد پار دہشتگرد حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جب کہ دونوں ممالک نے متحد، خودمختار، جمہوری، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے عزم کا اظہار کیا۔
امریکا و بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدوں سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بگڑے گا بلکہ بھارت جو پہلے ہی ہٹ دھرمی اور ریاستی دہشت گردی کا کردار ادا کررہا ہے اس کی شدت میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جس کا اندازہ بھارت کے لب و لہجے سے صاف ہورہا ہے۔
بھارت امریکا معاہدے ، بیانات اور اقدامات پاکستان کے لیے نئے خدشات و خطرات لیے ہوئے ہیں۔ پاک امریکا تعلقات کے 70 سالہ ماضی میں پاکستان کو امریکا سے یکطرفہ خودغرضی، دباؤ، پابندیوں، ناروا سلوک اور یکطرفہ مطالبات کی شکایات رہیں۔ پاکستان کی تمام قربانیوں اور امریکا کی ہاں میں ہاں ملانے کے باوجود امریکی ڈو مور کا مطالبہ ختم نہ ہوسکا۔
بین الاقوامی تعلقات میں ریاستیں اپنے مفادات کا تحفظ کرتی اور اپنی خارجہ پالیسی اسی بنیاد پر مرتب کرتی ہیں، لیکن پاکستانی زعما نے ہمیشہ یہی غلطی کی جس کا خمیازہ آج تک قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہمیں سر اٹھا کر چلنا ہوگا اور امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ امریکا و بھارت کے درمیان تعلقات کی پینگیں خوب بڑھ رہی ہیں جس کے مضر اثرات لامحالہ پاکستان پر پڑ رہے ہیں، واضح رہے کہ مائیک پومپیو نے بدھ کو پاکستان کے دورے میں وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل سے بھی ملاقات کی تھی لیکن اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، افغانستان میں امن عمل اور پاکستان کے لیے امریکی امداد کی معطلی کے مسئلے پر بات چیت کی گئی لیکن کسی بھی قسم کے معاہدے یا پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت نہ ہوسکی۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پومپیو نے پاکستان سے روانگی کے وقت میڈیا سے گفتگو میں ایسے بیانات دیے جن پر کسی صورت دو طرفہ مذاکرات میں گفتگو نہیں ہوئی تھی، جو کہ پاکستانی خارجہ حکام کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی۔ 'امریکی وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان اور اس کے اثرات' کے حوالے سے منعقدہ ایکسپریس فورم میں ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں نے اپنی رائے میں بلاشبہ اس دورہ کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں تاہم اس سے برف ضرور پگھلے گی۔
امریکا کے ساتھ ہمارا رشتہ حاکم اور محکوم کا رہا ہے، افسوس ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر امریکا کو رعایت دی اور ایسے مطالبات بھی مان لیے جن پر خود امریکا حیرت کا شکار ہوا مگر اس کا نقصان پاکستان کا ہوا۔ یہ یقیناً ہماری کمزور خارجہ پالیسی کے باعث ہوا۔ دوسری جانب بھارت نے نہایت چالاکی اور ہوشیاری سے نہ صرف امریکا کو اپنی مٹھی میں کرلیا بلکہ خطے میں کئی فوائد بھی حاصل کیے۔
امریکی وزیر دفاع کے دورہ بھارت میں نہ صرف اہم فوجی معاہدے کیے گئے بلکہ واشنگٹن نے نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارتی شمولیت کی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے، دونوں ممالک نے داؤد ابراہیم کی پاکستان میں تلاش کے لیے بھی معاہدہ کیا۔ بھارت اور امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ پٹھان کوٹ، اڑی اور سرحد پار دہشتگرد حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جب کہ دونوں ممالک نے متحد، خودمختار، جمہوری، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے عزم کا اظہار کیا۔
امریکا و بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدوں سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بگڑے گا بلکہ بھارت جو پہلے ہی ہٹ دھرمی اور ریاستی دہشت گردی کا کردار ادا کررہا ہے اس کی شدت میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جس کا اندازہ بھارت کے لب و لہجے سے صاف ہورہا ہے۔
بھارت امریکا معاہدے ، بیانات اور اقدامات پاکستان کے لیے نئے خدشات و خطرات لیے ہوئے ہیں۔ پاک امریکا تعلقات کے 70 سالہ ماضی میں پاکستان کو امریکا سے یکطرفہ خودغرضی، دباؤ، پابندیوں، ناروا سلوک اور یکطرفہ مطالبات کی شکایات رہیں۔ پاکستان کی تمام قربانیوں اور امریکا کی ہاں میں ہاں ملانے کے باوجود امریکی ڈو مور کا مطالبہ ختم نہ ہوسکا۔
بین الاقوامی تعلقات میں ریاستیں اپنے مفادات کا تحفظ کرتی اور اپنی خارجہ پالیسی اسی بنیاد پر مرتب کرتی ہیں، لیکن پاکستانی زعما نے ہمیشہ یہی غلطی کی جس کا خمیازہ آج تک قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہمیں سر اٹھا کر چلنا ہوگا اور امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔