کان کنوں کی ہلاکتوں پر توجہ دینے کی ضرورت
2010ء سے2018ء کے درمیان 45 واقعات میں 318 کان کن لقمہ اجل بن چکے ہیں
2010ء سے2018ء کے درمیان 45 واقعات میں 318 کان کن لقمہ اجل بن چکے ہیں فوٹو : فائل
بلوچستان میں گزشتہ آٹھ سال کے دوران کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 318 کان کنوں کی ہلاکت کے حوالے سے مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک وکیل نے عدالت عظمیٰ کے روبرو عرضداشت پیش کی ہے جس میں اس ایشو پر سوموٹو نوٹس لینے اور ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ بلاشبہ کان کنی انتہائی مشکل پیشہ ہے' اس لیے کان کنوں کی حفاظت کے انتظامات بھی جدید تقاضوں کے مطابق ہونے چاہئیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے' پاکستان میں کان کنوں کی ہلاکتوں کی شرح بہت بلند ہے۔
عرضداشت میں ایسے 45 واقعات پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کے نتیجے میں 318 کان کن لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ حادثات 2010ء سے2018ء کے درمیان پیش آئے اور معقول حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ قیمتی انسانی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔ اس سال کے صرف پہلے آٹھ ماہ میں بلوچستان میں کم از کم 50 کان کن ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ صرف اگست کے ایک مہینے میں17 کان کن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کان کنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ گہری کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور ہنر مندوں کی جان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے معاوضوں کو بھی بڑھایا جائے۔
عرضداشت میں ایسے 45 واقعات پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کے نتیجے میں 318 کان کن لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ حادثات 2010ء سے2018ء کے درمیان پیش آئے اور معقول حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ قیمتی انسانی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔ اس سال کے صرف پہلے آٹھ ماہ میں بلوچستان میں کم از کم 50 کان کن ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ صرف اگست کے ایک مہینے میں17 کان کن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کان کنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ گہری کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور ہنر مندوں کی جان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے معاوضوں کو بھی بڑھایا جائے۔