نئی حکومت کا قیام براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید

جمہوری عمل سے مثبت عالمی تاثرپیدا ہوا،نئی حکومت گورننس، قیام امن و توانائی پرتوجہ مرکوز، واضح سمت کاتعین، کمھیڈے اینڈو

طویل مدتی سرمایہ کاری کے حصول کی کوشش، تیز معاشی ترقی کیلیے اعلیٰ اختیاراتی اقتصادی وسرمایہ کاری کمیٹی قائم کی جائے، صدر اوورسیز انویسٹرز چیمبر فوٹو: اے ایف پی/فائل

پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی غیرملکی کمپنیوں نے نئی حکومت کی جانب سے بہترکاروباری ماحول اور درست سمت کے تعین کے نتیجے میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 5 تا6 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کی امید ظاہر کی ہے۔

واضح رہے کہ 2008 میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی مالیت 5 ارب 41 کروڑ 2 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی تھی مگر پھر اس میں تیزی سے کمی ہوئی اور 2012 میں ایف ڈی آئی کی مالیت 82 کروڑ7 لاکھ ڈالر تک محدود ہوگئی تھی تاہم مارچ میں پی پی حکومت کی میعاد پوری ہونے کے بعد سے 2 ماہ کے دوران بہتری کے نتیجے میں رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی مالیت 85 کروڑ 35 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

اوورسیز انویسٹرزچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کمھیڈے اینڈونے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف ودیگررہنماؤں کو جمہوری عمل آگے بڑھنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ کمھیڈے اینڈو نے کہا کہ اوورسیز چیمبرکو امید ہے کہ نئی حکومت معیشت کی ترقی کے لیے بہترین اقدامات کے ساتھ درست سمت کا تعین کرنے میں کامیاب ہوجائے گی اور گورننس کو بہتر بناکر سیکیورٹی، انرجی مسائل سمیت تجارت وصنعت کے حوالے سے دیگرغیرمستقل پالیسیوں میں تسلسل کی راہ اختیار کرے گی کیونکہ انہی منفی عوامل اور پالیسیوں میں عدم تسلسل کے سبب ماضی میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری متاثر رہی ہے۔




انہوں نے کہا کہ جاری جمہوری عمل سے پیداہونے والا مثبت بین الاقوامی تاثر حصص مارکیٹ میں بیرونی سرمایہ کاروں کی تیزی سے بڑھتی دلچسپی کی صورت میں جھلک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مینوفیکچرنگ اور انفرااسٹرکچرمیں طویل مدتی بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کی کوشش کی جانی چاہییجس سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرکے معاشی نمو میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے اور تیز اقتصادی ترقی کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی اقتصادی وسرمایہ کاری کمیٹی تشکیل دے جس میں تمام اہم کاروباری باڈیز بالخصوص اوآئی سی سی آئی کو بھی نمائندگی دی جائے تاکہ یہ کمیٹی ملک کی معاشی صورتحال کا وقتاًفوقتاًجائزہ لے اورتیز رفتار معاشی ترقی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دے۔

او آئی سی سی آئی معیشت کی بہتری اور گورننس میں بہتری کے لیے اپنی تجاویزحکومت کے ساتھ شیئر کرتا رہا ہے جن میں ٹیکس، پبلک سیکٹرمیں تبدیلیاں اور پالیسیوں پر بہتر عمل سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی پاکستان میں 190 بین الاقوامی کمپنیوں کا نمائندہ ادارہ ہے جو 33 مختلف ممالک سے تعلق رکھتی ہیں اور ملک کے مجموعی جی ڈی پی اور ٹیکس کا ایک چوتھائی حصہ ہونے کے ساتھ بڑے پیمانے پر روزگار اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر بھی کرتی ہیں۔
Load Next Story