اے بی ڈی ویلیئرزپی ایس ایل کے7 میچز کیلیے دستیاب
2 لاکھ 20 ہزار ڈالر معاوضے کی پیشکش،فی میچ31 ہزار 500 ڈالر ملیں گے۔
پلاٹینیم کیٹیگری میں فرنچائززکے پاس 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر کا ہی بجٹ موجود۔ فوٹو: فائل
اے بی ڈی ویلیئرز پی ایس ایل کے7 میچز کیلیے دستیاب ہوں گے۔
پی سی بی نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ سابق جنوبی افریقی اسٹار اے بی ڈی ویلیئرز بھی پی ایس ایل فور کیلیے دستیاب ہوں گے، ذرائع کے مطابق انھوں نے 7میچز میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی جس کیلیے2 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی بات ہوئی ہے، یوں انھیں فی میچ 31 ہزار 500 ڈالر معاوضہ ملے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فرنچائززکے پاس سب سے بڑی کیٹیگری پلاٹینیم کے کھلاڑی کا زیادہ سے زیادہ بجٹ2 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہے۔ وہ 10 میچز کیلیے دستیاب اور فی میچ معاوضہ 25 ہزار ڈالر بنتا ہے، مگر ڈی ویلیئرز کے معاملے میں یہ رقم بڑھ جائے گی، اسی کے ساتھ جس ٹیم نے ڈی ویلیئرز کو 2 لاکھ 20 ہزار ڈالر میں خریدا اس کے پاس بجٹ میں30 ہزار ڈالر ہی بچیں گے، اتنی رقم میں کوئی بڑا پلیئر نہیں ملے گا، البتہ وہ سپلیمینٹری کیٹیگری سے کسی کو لے سکیںگے۔
ذرائع کے مطابق لیگ کو کامیاب بنانے کیلیے پی سی بی نے ڈی ویلیئرز کو منہ مانگی رقم کی پیشکش کر دی مگر دیگر عوامل کا خیال نہیں رکھا، اب اگر کسی فرنچائز کو بجٹ بڑھانے کی اجازت دی تو وہ قوانین کی خلاف ورزی ہوگی، دوسری صورت ان سے معاہدہ کرنے والی ٹیم کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پی سی بی نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ سابق جنوبی افریقی اسٹار اے بی ڈی ویلیئرز بھی پی ایس ایل فور کیلیے دستیاب ہوں گے، ذرائع کے مطابق انھوں نے 7میچز میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی جس کیلیے2 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی بات ہوئی ہے، یوں انھیں فی میچ 31 ہزار 500 ڈالر معاوضہ ملے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فرنچائززکے پاس سب سے بڑی کیٹیگری پلاٹینیم کے کھلاڑی کا زیادہ سے زیادہ بجٹ2 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہے۔ وہ 10 میچز کیلیے دستیاب اور فی میچ معاوضہ 25 ہزار ڈالر بنتا ہے، مگر ڈی ویلیئرز کے معاملے میں یہ رقم بڑھ جائے گی، اسی کے ساتھ جس ٹیم نے ڈی ویلیئرز کو 2 لاکھ 20 ہزار ڈالر میں خریدا اس کے پاس بجٹ میں30 ہزار ڈالر ہی بچیں گے، اتنی رقم میں کوئی بڑا پلیئر نہیں ملے گا، البتہ وہ سپلیمینٹری کیٹیگری سے کسی کو لے سکیںگے۔
ذرائع کے مطابق لیگ کو کامیاب بنانے کیلیے پی سی بی نے ڈی ویلیئرز کو منہ مانگی رقم کی پیشکش کر دی مگر دیگر عوامل کا خیال نہیں رکھا، اب اگر کسی فرنچائز کو بجٹ بڑھانے کی اجازت دی تو وہ قوانین کی خلاف ورزی ہوگی، دوسری صورت ان سے معاہدہ کرنے والی ٹیم کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔