قومی ادارہ امراض قلب میں میکینکل ہارٹ لگوانے والے 2 مریض جاں بحق

ایک مریض کا سیہون، دوسرے کا تعلق اسلام آباد سے تھا، 4 مریضوں کو میکینکل ہارٹ لگائے گئے تھے۔

ادارے کے ناقص منصوبے کے باعث سوالیہ نشان اٹھ گئے، پی ایم ڈی سی سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ فوٹو انٹرنیٹ

قومی ادارہ امراض قلب کی انتظامیہ کی ناقص منصوبہ کی وجہ سے میکینکل ہارٹ لگائے جانے کے منصوبے پرسوالیہ نشان اٹھ گئے، اسپتال میں میکینکل ہارٹ لگوانے والے 2 مریض دم توڑ گئے۔

قومی ادارہ امراض قلب میں کمزور دل کے مریضوںکو میکینکل ہارٹ (میکینکل ڈیوائیس) لگائے جانے کے منصوبے اعلان 9 جولائی 2018 کو اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر ندیم قمر نے پریس کانفرنس کے ذریعے کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھاکہ قومی ادارہ امراض قلب میں پہلی بار ناکارہ یا کمزور دل کے مریضوں کومیکینک ہارٹ لگانے کا عمل شروع کردیا گیا 9 جولائی کو پہلی مریضہ نفیسہ خاتون کومیکینکل ہارٹ لگایا گیا تھا جس کے بعد اسلام آباد کا رہائشی نعیم بخاری کو یہ ڈیوائیس لگائی گئی دونوں مریضوں کو 10دن بعد اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

بعدازاں تیسرے مریض بنارس اورگزشتہ دنوں سیہون سے تعلق رکھنے والے چوتھے مریض محمودکوبھی میکینکل ہارٹ لگایا گیا تاہم محمود اتوارکی شب اسپتال میں دم توڑگیا، دونوں مریضوںکی اموات اسپتال انتظامیہ نے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم ایکسپریس کو اسپتال کے بعض ڈاکٹروں نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں مریضوں کی حالت میکینکل ڈیوائیس لگانے کے بعد سنبھل نہ سکی اوردونوں مریض مختلف اوقات میں انتقال کرگئے۔

قومی ادارہ امراض قلب اسپتال انتطامیہ نے امریکا میں میکینکل ہارٹ لگانے والے ڈاکٹر پرویز چوہدری کو اس منصوبے کا سربراہ مقررکرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز چوہدری کو قومی ادارہ امراض قلب میں ملازمت دی جنھوں نے چند ماہ قبل اسپتال جوائن کیا اوراس منصوبے پرکام شروع کیا۔


اسپتال کے بعض ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں میکینکل ہارٹ شروع کرنے سے قبل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے مذکورہ تیکنک کی اجازت بھی نہیں لی گئی تھی جبکہ بیرون ملک سے پاکستان آکر پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے اجازت لینا لازمی ہوتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ میکینکل ہارٹ لگانے کے بعد مریض 10سال نارمل زندگی گزار سکے گا جبکہ دل کے ٹرانسپلانٹ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ میکینکل ڈیوائیس علاج نہیں بلکہ ٹرانسپلانٹ کے لیے ایک پل (برج) کا کام کرتی ہے ۔ میکینکل ڈیوائیس کے بعد مریض کے دل کی پیوندکاری لازمی ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی ادارہ امراض قلب انتظامیہ نے دل کی پیوندکاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد ازمرگ دل کے عطیہ کے حوالے سے پالیسی وضع نہیںکی گئی تھی اس طرح یہ منصوبہ انتہائی عجلت اور ناقص منصوبہ بندی اور غیر ذمے داری کے ساتھ شروع کیا گیا تھا جبکہ اسپتال کے بعض ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ دل میں لگائی جانے والی ڈیوائیس کوسیاسی طور پر استعمال کیا جس کا فائدہ انتخابی مہم کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کو ہوا۔

واضح رہے کہ میکینکل ہارٹ لگانے کے بعد مریض کودل کی پیوندکاری کرنا ضروری ہوتی ہے جبکہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ میکینکل ہارٹ لگوانے کے بعد مریض 10سال نارمل زندگی گزار سکے گا۔
Load Next Story