بیگم کلثوم نواز کی رحلت

بیگم کلثوم نواز کا جسد خاکی جمعہ کو پاکستان پہنچے گا جس کے بعد ان کی تدفین ہو گی۔

بیگم کلثوم نواز کا جسد خاکی جمعہ کو پاکستان پہنچے گا جس کے بعد ان کی تدفین ہو گی۔ فوٹو: فائل

MUNICH:
سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز منگل کو لندن کے ہارلے کلینک میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں، (انا للہ و انا الیہ راجعون) میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کو اڈیالہ جیل میں ان کے انتقال کی اطلاع دی گئی۔ اس کے بعد بیگم کلثوم نواز کی تجہیز و تدفین میں شرکت کے لیے میاں محمد نواز شریف' مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو12گھنٹے کے لیے پیرول پر رہا کیا گیا جس کے بعد وہ تینوں جاتی امرا رائیونڈ پہنچ گئے' بعدازاں پنجاب حکومت نے ان کی پیرول پر رہائی کی 3روز کے لیے مزید توسیع کر دی ہے۔

بیگم کلثوم نواز کا جسد خاکی جمعہ کو پاکستان پہنچے گا جس کے بعد ان کی تدفین ہو گی۔ لندن میں ان کی نماز جنازہ ریجنٹ پارک اسلامک سینٹر میں آج بروز جمعرات ادا کی جائے گی۔ بیگم کلثوم نواز گلے کے کینسر میں مبتلا تھیں۔ اطلاعات کے مطابق بیگم کلثوم کی ہارلے کلینک میں اتوار کی شب اچانک طبیعت زیادہ بگڑ گئی جس پر انھیں دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 68 برس تھی۔ بیگم کلثوم نواز کا انتقال برطانوی وقت کے مطابق صبح سوا گیارہ بجے ہوا۔

ہارلے اسٹریٹ کلینک کے ذرایع کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کے پھیپھڑوں کا مسئلہ سنگین ہو گیا تھا۔ انتقال کے وقت ان کے بیٹے حسین نواز، حسن نواز، چھوٹی بیٹی اسماء اور اسحاق ڈار بھی اسپتال میں موجود تھے۔

بیگم کلثوم نواز گزشتہ برس17اگست کو اچانک لندن روانہ ہوئی تھیں۔ لندن پہنچنے پر ان کے ٹیسٹ لیے گئے اور 22اگست کو ان کے گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل زیر علاج تھیں۔ دوران علاج طبیعت بگڑنے پر وہ کئی مرتبہ وینٹی لیٹر پر رہیں۔ وہ تقریباً ایک سال 25 دن تک لندن میں زیر علاج رہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے محترمہ کلثوم نواز کے انتقال پر دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہادر خاتون تھیں، حکومت لواحقین کو قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم کرے گی۔ ملک کے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان' سیاسی و مذہبی کارکنوں' اہل علم اور دیگر تمام طبقات نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہارکیا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے بھی ان کے انتقال پر تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے محترمہ کلثوم نواز کے انتقال کے سوگ میں سیاسی سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں۔


تین بار خاتون اول کا اعزاز رکھنے والی محترمہ کلثوم نواز 1950ء کولاہورکے علاقے مصری شاہ میں ڈاکٹر حفیظ بٹ کے ہاں پیدا ہوئیں۔ کلثوم نواز رستم زمان گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم لاہور کے مدرسۃ البنات سے حاصل کی جب کہ میٹرک لیڈی گریفن اسکول سے کیا۔ انھوں نے ایف ایس سی اسلامیہ کالج لاہور برائے خواتین سے کیا اور اسی کالج سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔

ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انھوں نے اردو لٹریچر میں ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی' پھر انھوں نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ، اسی دوران ان کی میاں نواز شریف سے منگنی ہوگئی۔ بیگم کلثوم نواز 2اپریل 1971 کو محمد نواز شریف سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز جب کہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسما نواز ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی رائے کو خاص اہمیت دیتے تھے۔

پارٹی ذرایع کا کہنا ہے کہ نواز شریف پر محترمہ کلثوم نواز کا گہرا اثر رہا ہے وہ ان کی باتیں بہت توجہ سے سنتے تھے۔ بہت سے لوگوں کے بارے میں محترمہ کلثوم نواز کی رائے ہی غالب ہوتی تھی اور جب وہ درست ثابت ہوتیں تو ظاہر ہے ان کی اہمیت اور بڑھ جاتی تھی۔ محترمہ کلثوم نواز مشرقی روایات کی امین شخصیت تھیں جن کی اپنے خاندان میں مرکزی حیثیت رہی۔

1999ء میں جب جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور انھیں اور میاں شہباز شریف کو جیل میں ڈال دیا تو اس انتہائی مشکل وقت میں انھوں نے سیاست میں قدم رکھا اور مسلم لیگ ن کی قیادت کی' اس وقت اگر وہ آگے نہ بڑھتیں تو شاید مسلم لیگ ن کا شیرازہ بکھر جاتا' میاں نواز شریف اور ان کا خاندان پاناما کیس میں الجھا تو اس وقت بھی انھوں نے ان کا حوصلہ بڑھایا'نواز شریف کی نااہلی کے بعد ان کی خالی کردہ نشست این اے 120 سے مسلم لیگ ن نے انھیں امیدوار نامزد کیا' وہ ان دنوں لندن میں بستر علالت پر تھیں' اس کے باوجود وہ اس حلقے سے کامیاب ہوئیں۔

خیال یہی کیا جا رہا تھا کہ وہ صحت یاب ہو کر وطن واپس آئیں تو مسلم لیگ کو وہ سنبھالا دیں گی' بہرحال زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے' محترمہ کلثوم نواز نے انتہائی شاندار' پروقار انداز میں بڑی جراتمندی سے زندگی گزاری' پاکستان کے عوام ان کے اس شاندار کردارکو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اﷲ تعالی مرحومہ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے درجات بلند کرے۔
Load Next Story