پاکستان کی جمہوریت
عام آدمی ایک گدھا بن کر رہ گیا ہے جو خرکار کے قبضے میں ہوتا ہے۔
barq@email.com
QUETTA:
روایتی دانشور جن کا کام ہی باتوں کے بتنگڑ بنانا ہوتا ہے اور خوب صورت الفاظ سے مزین و منقش جملے تراشنا ان کا ہنر ہوتا ہے، ان کی نگاہوں میں تو جمہوریت اس دور کی وہ نعمت غیر مترقبہ ہے کہ انسانیت اس کے فیوض و برکات میں نہال اور شرابور ہو چکی ہے بلکہ وہ جو فردوس گم گشتہ ابن آدم سے چھن گئی تھی، وہ اب جمہوریت کی شکل میں اسے دوبارہ مل چکی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت نے انسان کو جتنا درد دیا، دکھ پہنچایا اور انسانیت کے مرتبے سے گرایا ہے، اتنا شاید بادشاہت حتیٰ کہ آمریت نے بھی نہ کیا ہو۔
ایک بڑا ہی خوب صورت جملہ جمہوریت کے طرف دار جو بہ تکرار دہراتے ہیں، یہ ہے کہ جمہوریت نام ہے عوام پر عوام کی حکومت عوام کے ذریعے، لیکن اس کی حقیقت کیا ہے؟ یہ جمہوریت زدوں سے پوچھئے جو دراصل عوام پر خواص کی حکومت، خواص کے ذریعے ہوتی ہے۔ بادشاہت میں زیادہ سے زیادہ حکمران کا خاندان یا مخصوص ٹولہ جو بہرحال محدود ہوتا ہے، عوام پر حکومت کرتا ہے، لیکن جمہوریت میں پورے گینگ کے گینگ پارٹیوں کے نام پر استحصالی لوگوں کا ایک گروہ لے کر عوام پر حملہ آور ہوتا ہے اور چونکہ اس کو یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ یہ مہلت کا عرصہ محدود ہے تو وہ لامحدود پیمانے پر عوام کو لوٹتا ہے،
اس کی مدت ختم ہوتے ہی دوسرا ٹولہ آتا ہے، وہ کفن چور کے بیٹے کی طرح باپ کو بخشواتا ہے اور یوں اپنا کام کر کے دوسرے ٹولے کے لیے راہ ہموار کر کے چلا جاتا ہے، چونکہ روایتی اور سکہ بند قسم کے دانشوروں کو اس کا احساس ہوتا ہے اس لیے اسی صورت حال کے لیے پھر ایک اور جملہ تراشا گیا ہے کہ بری سے بری جمہوریت بھی اچھی سے اچھی بادشاہت یا آمریت سے بہتر ہوتی ہے لیکن حقیقت اس کے قطعی برعکس ہے جہاں تک ہم نے تاریخ کو پڑھا ہے، جغرافیے کو دیکھا ہے اور حقیقت کو پرکھا ہے تو یہ ثابت ہوا ہے کہ بری سے بری بادشاہت بھی اچھی سے اچھی جمہوریت سے اچھی ہوتی ہے اور یہ کوئی دعویٰ بے دلیل نہیں ہے اور نہ ہی دانشورانہ طوطے ہم اڑا رہے ہیں بلکہ ثابت بھی کر سکتے ہیں، اچھی اچھی جمہوریتیں آج کل امریکا یا یورپ میں پائی جاتی ہیں، کچھ کچھ اپنے پڑوس کا ملک بھی مدعی ہے لیکن وہاں جا کر دیکھئے کہ کیا ہو رہا ہے اور عام آدمی کی حالت کیا بن گئی ہے۔
عام آدمی ایک گدھا بن کر رہ گیا ہے جو خرکار کے قبضے میں ہوتا ہے۔ وہ دن رات کام کرتا ہے، بوجھ ڈھوتا ہے، ہڈیاں گھساتا ہے اور جو کچھ بھی کماتا ہے وہ انکم ٹیکس ویلتھ ٹیکس یہ ٹیکس وہ ٹیکس بتا کر ''سرکار''لے جاتی ہے جو جمہوری سرکار کہلاتی ہے، اس جمہوریت میں باقاعدہ ایک خاص طبقے کے افراد باریاں لگا کر آتے ہیں اور خرکار کا فرض ادا کرتے ہیں، یوں کہئے کہ عوام شہد کے چھتے کی کارکن مکھیاں ہوتی ہیں ۔۔۔ باری باری آنے والے خرکار نکھٹو ہوتے ہیں اور ''جمہوریت'' ملکہ مکھی ہوتی ہے جو نئے کارکن مکھیوں اور نکھٹوؤں کو پیدا کرتی ہے، تقریباً ایسا ہی بادشاہت میں بھی ہوتا ہے کیونکہ حکمرانی جہاں کہیں اور جیسی بھی ہو تاریخ کے کسی بھی دور میں ہو، جغرافیے کے کسی بھی صفحے پر ہوں، لگ بھگ ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن بادشاہت اور جمہوریت میں جو سب سے بڑا فرق ہے، وہ وہی ہے جو مالک اور اجارہ دار میں ہوتا ہے۔
بادشاہت میں ایک خاندان یا ایک طبقہ حکمرانی تو کرتا ہے لیکن ساتھ ہی جن پر حکمرانی کرتا ہے ان کو ''اپنا'' بھی سمجھتا ہے اور وہی سلوک کرتا ہے جو کوئی ''اپنی چیز'' سے کرتا ہے جب کہ اجارہ دار کو پتہ ہوتا ہے کہ اسے جو کچھ بھی اس زمین سے حاصل کرنا ہے وہ ''پٹے'' کے ان چند سال میں حاصل کرنا ہے، اس محدود عرصے کے بعد یہ زمین اس کے ہاتھ سے نکل جانی ہے یا نئے سرے سے نئی قیمت پر نیا اجارہ کرنا ہے، اس کی عملی مثالیں اجارے اور پٹے پر لینے والی زمینوں کی ہیں، اجارہ دار زمین سے فصلیں لیتا ہے لیکن جتنی جتنی اجارہ ختم ہونے کی تاریخ قریب آتی ہے زمین کو کھاد وغیرہ کم دیتا ہے اور فصلیں زیادہ لیتا ہے۔
آخری فصل میں تو جوار یا کوئی ایسی فصل بوتا ہے جو زمین کی رگ رگ سے طاقت کھینچ کر تقریباً مردہ کر دیتی ہے اور نئے والے آتے ہی رونا شروع کرتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے، خیر دنیا میں اس وقت بھانت بھانت کی جمہوریتیں بھی رائج ہیں اور بادشاہتیں بھی چل رہی ہیں، سب کا الگ الگ جائزہ لینا تو ممکن نہیں ہے، اس لیے نمونے کے طور پر ہم دو مثالیں لیتے ہیں ۔۔۔ سعودی عرب کی بادشاہت اور پاکستان کی جمہوریت۔۔۔ کیونکہ ان دونوں کے بہت چرچے ہوتے رہتے ہیں اور ان دونوں میں موازنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ دونوں ممالک میں اپنے ملک کے لیے اپنے لوگوں کے لیے اپنی زمین کے لیے کیا کیا کچھ ہوتا رہتا ہے، لمبی چوڑی شماریات کو ایک طرف کر دیجیے جو کچھ دونوں طرز ہائے حکومت کرتی رہی ہیں وہ ہر ہر سطح پر نمایاں ہے۔
سب سے پہلے تو حکمرانوں کی تعداد یا حکمران طبقے کا عددی حساب لگاتے ہیں۔ سعودی عرب میں حکمران خاندان اور حکمران طبقے کا حساب اگر ہم لگائیں گے تو اس کی تعداد زیادہ سے زیادہ سیکڑوں خاندانوں میں نکلے گی لیکن اس کے برعکس اپنی جمہوریت میں دیکھئے تو مرکزی سطح پر، صوبائی سطح پر، ضلعی سطح پر حتیٰ کہ انتخابی حلقہ جات کی سطح پر بے حد و حساب ہے، وہاں ایک بادشاہ لیکن یہاں ہر ''منتخب نمایندہ'' کہلانے والا الگ الگ ایک خود مختار بادشاہ ہوتا ہے اور اگر جمہوریت کے جھنڈے گاڑنے والی پارٹیوں کا حساب لگایا جائے تو باقاعدہ قدیم بھارت کے ٹھگوں، پنڈتوں، نیڈاروں اور ڈاکوؤں کے گروہ در گروہ نظر آئیں گے،جمہوری بادشاہوں کو چونکہ ووٹوں کی ضرورت بھی پڑتی رہتی ہے اس لیے ''ووٹ بینک'' کے نام پر چمچوں اور غنڈوں موالیوں کی ایک فوج ظفر موج الگ سے رکھی جاتی ہے، بادشاہت میں چونکہ نہ ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے غنڈے بدمعاش اور چمچے پالنا پڑتے ہیں اور نہ ہی باری بدلنے کا ڈر ہوتا ہے اس لیے وہ بڑے آرام سے کام کی ایک ٹیم بنا کر حکومت کرتے ہیں۔
فالتو کے وزیروں کی فوج رکھتے ہیں نہ مختلف قسم کی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی نہایت ہی گراں بہا اور بے پناہ خرچہ پر اسمبلیاں وغیرہ پالنا پڑتی ہیں جو کچھ کرنا ہوتا ہے، چٹکی بجاتے ہی کر ڈالتے ہیں۔ وقت اور وزیروں ممبروں وغیرہ کے نام پر مزید نکھٹو بھی نہیں پالنا پڑتے ہیں جو کام اپنی زمین اپنی ملکیت اور اپنی چیز کے لیے کرنا ہوتا ہے کر ڈالتے ہیں، برسوں تک لٹکائے نہیں رکھتے۔ سمجھنے کے لیے ایک بڑی عام سی مثال لیتے ہیں۔
آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ فلاں فلاں کو سائیکل یا گاڑی دی تھی، اس نے تباہ کر دی کیونکہ مانگے کی چیز تھی، بے دردی سے استعمال کی، جتنی توڑ پھوڑ کی ہے اسے یونہی چھوڑ کر مالک کو واپس کر دی لیکن مالک اس چیز کو استعمال کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے کام لیتا ہے۔ ہر پرزے کا خیال رکھتا ہے، تیل گریس کا خیال رکھتا ہے اور چھوٹی سی خرابی کو بھی فوراً دور کر دیتا ہے کیونکہ وہ اس کی اپنی ہوتی ہے یہ ''اپنی اور پرائی'' ہونے کا احساس ہی اصل چیز ہے۔
روایتی دانشور جن کا کام ہی باتوں کے بتنگڑ بنانا ہوتا ہے اور خوب صورت الفاظ سے مزین و منقش جملے تراشنا ان کا ہنر ہوتا ہے، ان کی نگاہوں میں تو جمہوریت اس دور کی وہ نعمت غیر مترقبہ ہے کہ انسانیت اس کے فیوض و برکات میں نہال اور شرابور ہو چکی ہے بلکہ وہ جو فردوس گم گشتہ ابن آدم سے چھن گئی تھی، وہ اب جمہوریت کی شکل میں اسے دوبارہ مل چکی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت نے انسان کو جتنا درد دیا، دکھ پہنچایا اور انسانیت کے مرتبے سے گرایا ہے، اتنا شاید بادشاہت حتیٰ کہ آمریت نے بھی نہ کیا ہو۔
ایک بڑا ہی خوب صورت جملہ جمہوریت کے طرف دار جو بہ تکرار دہراتے ہیں، یہ ہے کہ جمہوریت نام ہے عوام پر عوام کی حکومت عوام کے ذریعے، لیکن اس کی حقیقت کیا ہے؟ یہ جمہوریت زدوں سے پوچھئے جو دراصل عوام پر خواص کی حکومت، خواص کے ذریعے ہوتی ہے۔ بادشاہت میں زیادہ سے زیادہ حکمران کا خاندان یا مخصوص ٹولہ جو بہرحال محدود ہوتا ہے، عوام پر حکومت کرتا ہے، لیکن جمہوریت میں پورے گینگ کے گینگ پارٹیوں کے نام پر استحصالی لوگوں کا ایک گروہ لے کر عوام پر حملہ آور ہوتا ہے اور چونکہ اس کو یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ یہ مہلت کا عرصہ محدود ہے تو وہ لامحدود پیمانے پر عوام کو لوٹتا ہے،
اس کی مدت ختم ہوتے ہی دوسرا ٹولہ آتا ہے، وہ کفن چور کے بیٹے کی طرح باپ کو بخشواتا ہے اور یوں اپنا کام کر کے دوسرے ٹولے کے لیے راہ ہموار کر کے چلا جاتا ہے، چونکہ روایتی اور سکہ بند قسم کے دانشوروں کو اس کا احساس ہوتا ہے اس لیے اسی صورت حال کے لیے پھر ایک اور جملہ تراشا گیا ہے کہ بری سے بری جمہوریت بھی اچھی سے اچھی بادشاہت یا آمریت سے بہتر ہوتی ہے لیکن حقیقت اس کے قطعی برعکس ہے جہاں تک ہم نے تاریخ کو پڑھا ہے، جغرافیے کو دیکھا ہے اور حقیقت کو پرکھا ہے تو یہ ثابت ہوا ہے کہ بری سے بری بادشاہت بھی اچھی سے اچھی جمہوریت سے اچھی ہوتی ہے اور یہ کوئی دعویٰ بے دلیل نہیں ہے اور نہ ہی دانشورانہ طوطے ہم اڑا رہے ہیں بلکہ ثابت بھی کر سکتے ہیں، اچھی اچھی جمہوریتیں آج کل امریکا یا یورپ میں پائی جاتی ہیں، کچھ کچھ اپنے پڑوس کا ملک بھی مدعی ہے لیکن وہاں جا کر دیکھئے کہ کیا ہو رہا ہے اور عام آدمی کی حالت کیا بن گئی ہے۔
عام آدمی ایک گدھا بن کر رہ گیا ہے جو خرکار کے قبضے میں ہوتا ہے۔ وہ دن رات کام کرتا ہے، بوجھ ڈھوتا ہے، ہڈیاں گھساتا ہے اور جو کچھ بھی کماتا ہے وہ انکم ٹیکس ویلتھ ٹیکس یہ ٹیکس وہ ٹیکس بتا کر ''سرکار''لے جاتی ہے جو جمہوری سرکار کہلاتی ہے، اس جمہوریت میں باقاعدہ ایک خاص طبقے کے افراد باریاں لگا کر آتے ہیں اور خرکار کا فرض ادا کرتے ہیں، یوں کہئے کہ عوام شہد کے چھتے کی کارکن مکھیاں ہوتی ہیں ۔۔۔ باری باری آنے والے خرکار نکھٹو ہوتے ہیں اور ''جمہوریت'' ملکہ مکھی ہوتی ہے جو نئے کارکن مکھیوں اور نکھٹوؤں کو پیدا کرتی ہے، تقریباً ایسا ہی بادشاہت میں بھی ہوتا ہے کیونکہ حکمرانی جہاں کہیں اور جیسی بھی ہو تاریخ کے کسی بھی دور میں ہو، جغرافیے کے کسی بھی صفحے پر ہوں، لگ بھگ ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن بادشاہت اور جمہوریت میں جو سب سے بڑا فرق ہے، وہ وہی ہے جو مالک اور اجارہ دار میں ہوتا ہے۔
بادشاہت میں ایک خاندان یا ایک طبقہ حکمرانی تو کرتا ہے لیکن ساتھ ہی جن پر حکمرانی کرتا ہے ان کو ''اپنا'' بھی سمجھتا ہے اور وہی سلوک کرتا ہے جو کوئی ''اپنی چیز'' سے کرتا ہے جب کہ اجارہ دار کو پتہ ہوتا ہے کہ اسے جو کچھ بھی اس زمین سے حاصل کرنا ہے وہ ''پٹے'' کے ان چند سال میں حاصل کرنا ہے، اس محدود عرصے کے بعد یہ زمین اس کے ہاتھ سے نکل جانی ہے یا نئے سرے سے نئی قیمت پر نیا اجارہ کرنا ہے، اس کی عملی مثالیں اجارے اور پٹے پر لینے والی زمینوں کی ہیں، اجارہ دار زمین سے فصلیں لیتا ہے لیکن جتنی جتنی اجارہ ختم ہونے کی تاریخ قریب آتی ہے زمین کو کھاد وغیرہ کم دیتا ہے اور فصلیں زیادہ لیتا ہے۔
آخری فصل میں تو جوار یا کوئی ایسی فصل بوتا ہے جو زمین کی رگ رگ سے طاقت کھینچ کر تقریباً مردہ کر دیتی ہے اور نئے والے آتے ہی رونا شروع کرتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے، خیر دنیا میں اس وقت بھانت بھانت کی جمہوریتیں بھی رائج ہیں اور بادشاہتیں بھی چل رہی ہیں، سب کا الگ الگ جائزہ لینا تو ممکن نہیں ہے، اس لیے نمونے کے طور پر ہم دو مثالیں لیتے ہیں ۔۔۔ سعودی عرب کی بادشاہت اور پاکستان کی جمہوریت۔۔۔ کیونکہ ان دونوں کے بہت چرچے ہوتے رہتے ہیں اور ان دونوں میں موازنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ دونوں ممالک میں اپنے ملک کے لیے اپنے لوگوں کے لیے اپنی زمین کے لیے کیا کیا کچھ ہوتا رہتا ہے، لمبی چوڑی شماریات کو ایک طرف کر دیجیے جو کچھ دونوں طرز ہائے حکومت کرتی رہی ہیں وہ ہر ہر سطح پر نمایاں ہے۔
سب سے پہلے تو حکمرانوں کی تعداد یا حکمران طبقے کا عددی حساب لگاتے ہیں۔ سعودی عرب میں حکمران خاندان اور حکمران طبقے کا حساب اگر ہم لگائیں گے تو اس کی تعداد زیادہ سے زیادہ سیکڑوں خاندانوں میں نکلے گی لیکن اس کے برعکس اپنی جمہوریت میں دیکھئے تو مرکزی سطح پر، صوبائی سطح پر، ضلعی سطح پر حتیٰ کہ انتخابی حلقہ جات کی سطح پر بے حد و حساب ہے، وہاں ایک بادشاہ لیکن یہاں ہر ''منتخب نمایندہ'' کہلانے والا الگ الگ ایک خود مختار بادشاہ ہوتا ہے اور اگر جمہوریت کے جھنڈے گاڑنے والی پارٹیوں کا حساب لگایا جائے تو باقاعدہ قدیم بھارت کے ٹھگوں، پنڈتوں، نیڈاروں اور ڈاکوؤں کے گروہ در گروہ نظر آئیں گے،جمہوری بادشاہوں کو چونکہ ووٹوں کی ضرورت بھی پڑتی رہتی ہے اس لیے ''ووٹ بینک'' کے نام پر چمچوں اور غنڈوں موالیوں کی ایک فوج ظفر موج الگ سے رکھی جاتی ہے، بادشاہت میں چونکہ نہ ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے غنڈے بدمعاش اور چمچے پالنا پڑتے ہیں اور نہ ہی باری بدلنے کا ڈر ہوتا ہے اس لیے وہ بڑے آرام سے کام کی ایک ٹیم بنا کر حکومت کرتے ہیں۔
فالتو کے وزیروں کی فوج رکھتے ہیں نہ مختلف قسم کی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی نہایت ہی گراں بہا اور بے پناہ خرچہ پر اسمبلیاں وغیرہ پالنا پڑتی ہیں جو کچھ کرنا ہوتا ہے، چٹکی بجاتے ہی کر ڈالتے ہیں۔ وقت اور وزیروں ممبروں وغیرہ کے نام پر مزید نکھٹو بھی نہیں پالنا پڑتے ہیں جو کام اپنی زمین اپنی ملکیت اور اپنی چیز کے لیے کرنا ہوتا ہے کر ڈالتے ہیں، برسوں تک لٹکائے نہیں رکھتے۔ سمجھنے کے لیے ایک بڑی عام سی مثال لیتے ہیں۔
آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ فلاں فلاں کو سائیکل یا گاڑی دی تھی، اس نے تباہ کر دی کیونکہ مانگے کی چیز تھی، بے دردی سے استعمال کی، جتنی توڑ پھوڑ کی ہے اسے یونہی چھوڑ کر مالک کو واپس کر دی لیکن مالک اس چیز کو استعمال کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے کام لیتا ہے۔ ہر پرزے کا خیال رکھتا ہے، تیل گریس کا خیال رکھتا ہے اور چھوٹی سی خرابی کو بھی فوراً دور کر دیتا ہے کیونکہ وہ اس کی اپنی ہوتی ہے یہ ''اپنی اور پرائی'' ہونے کا احساس ہی اصل چیز ہے۔