اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں احتساب آرڈیننس میں ترامیم پر متفق
چیئرمین نیب سے گرفتاری کااختیارواپس لیکرعدالت کے سپرد کرنیکی تجویزپروزارت قانون سے رائے لینے کا فیصلہ
آئندہ اجلاس میں وفاقی وزیرقانون و انصاف فروغ نسیم مدعو ،ریفرنس پر فیصلے سے قبل الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے،ارکان۔ فوٹو: فائل
سینیٹ قانونی اصلاحات کے بارے میں خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے احتساب آرڈیننس میں ترامیم پر اتفاق کیاہے،چیئرمین نیب سے گرفتاری کا اختیار واپس لینے اور یہ اختیار عدالت کے سپردکرنے کی تجویز پر وزارت قانون وانصاف سے رائے لینے کافیصلہ کرلیا گیا۔
فاروق نائیک کی زیرصدارت خصوصی کمیٹی کے اجلاس میںوزارت قانون کے مشیرجسٹس (ر) رضا خان سمیت وزارت قانون کے حکام سابق سینئرپارلیمینٹرین قانون دان انور بھنڈرنے شرکت کی۔مسلم لیگ ن کی نمائندگی سینیٹر جاوید عباسی نے کی۔اجلاس میںاس بات پراتفاق کیا گیا کہ عام آدمی کو متاثرکرنیوالے قوانین کو بہتر بنایا جائے، نیب آرڈیننس سے سب سے زیادہ عوامی شکایات ہیں۔
جاوید عباسی نے کہا کہ پرویزمشرف کے دورمیںنشانہ بنانے کیلیے یہ آرڈیننس لایا گیا،پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے ادوار میں دو بڑی اسمبلیاں گزر گئیں مگر نیب آرڈیننس میں پارلیمنٹ کامنہ نہیں دیکھا تمام جماعتوں کو نیب آرڈیننس کے بارے میں شکایات ہیں ماضی میں پارلیمانی احتساب کمیٹی میںکام ہوا تھامگر سیاسی جماعتیں پیچھے ہٹ گئیں اوریہ معاملہ طے نہ ہوسکا، اس بات پراتفاق ہوگیا تھاکہ نیب کے مجوزہ قانون کے تحت گرفتاری کا اختیار عدالت کے پاس ہوناچاہیے۔ دونوں جماعتوں کے ارکان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ریفرنس پر فیصلہ ہونے سے پہلے کسی پر الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے ۔
جاوید عباسی نے کہا کہ کسی بھی شخصیت کو دنیا بھر میں بے عزت وبدنام کردیا جاتا ہے ریفرنس کے بعد بھی کچھ نہیں ملتا جب تک ریفرنس دائر نہ ہوجائے نیب کو کسی کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے اور گرفتاری بھی عدالت کی اجازت سے ہونی چاہیے ۔ کمیٹی کنوینیئر نے مسلم لیگ ن کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔
آئندہ اجلاس میں وزیر قانون وانصاف فروغ نسیم کو مدعو کرلیا گیا۔دونوں جماعتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیاہے کہ نیب عدالتوں کو برقرار رکھنا چاہیے اس حوالے سے چھیڑچھاڑکی ضرورت نہیں عوامی نقصانات کے ازالے کیلیے متعلقہ قانون کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ تجویز کے تحت میڈیاسمیت کسی بھی سرکاری ادارے سے عوام کو کسی بھی قسم کا جانی مالی ، املاک یاعزت پر آنیوالے حرف پر ہرجانہ ادا کیا جائیگا۔
فاروق نائیک کی زیرصدارت خصوصی کمیٹی کے اجلاس میںوزارت قانون کے مشیرجسٹس (ر) رضا خان سمیت وزارت قانون کے حکام سابق سینئرپارلیمینٹرین قانون دان انور بھنڈرنے شرکت کی۔مسلم لیگ ن کی نمائندگی سینیٹر جاوید عباسی نے کی۔اجلاس میںاس بات پراتفاق کیا گیا کہ عام آدمی کو متاثرکرنیوالے قوانین کو بہتر بنایا جائے، نیب آرڈیننس سے سب سے زیادہ عوامی شکایات ہیں۔
جاوید عباسی نے کہا کہ پرویزمشرف کے دورمیںنشانہ بنانے کیلیے یہ آرڈیننس لایا گیا،پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے ادوار میں دو بڑی اسمبلیاں گزر گئیں مگر نیب آرڈیننس میں پارلیمنٹ کامنہ نہیں دیکھا تمام جماعتوں کو نیب آرڈیننس کے بارے میں شکایات ہیں ماضی میں پارلیمانی احتساب کمیٹی میںکام ہوا تھامگر سیاسی جماعتیں پیچھے ہٹ گئیں اوریہ معاملہ طے نہ ہوسکا، اس بات پراتفاق ہوگیا تھاکہ نیب کے مجوزہ قانون کے تحت گرفتاری کا اختیار عدالت کے پاس ہوناچاہیے۔ دونوں جماعتوں کے ارکان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ریفرنس پر فیصلہ ہونے سے پہلے کسی پر الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے ۔
جاوید عباسی نے کہا کہ کسی بھی شخصیت کو دنیا بھر میں بے عزت وبدنام کردیا جاتا ہے ریفرنس کے بعد بھی کچھ نہیں ملتا جب تک ریفرنس دائر نہ ہوجائے نیب کو کسی کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے اور گرفتاری بھی عدالت کی اجازت سے ہونی چاہیے ۔ کمیٹی کنوینیئر نے مسلم لیگ ن کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔
آئندہ اجلاس میں وزیر قانون وانصاف فروغ نسیم کو مدعو کرلیا گیا۔دونوں جماعتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیاہے کہ نیب عدالتوں کو برقرار رکھنا چاہیے اس حوالے سے چھیڑچھاڑکی ضرورت نہیں عوامی نقصانات کے ازالے کیلیے متعلقہ قانون کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ تجویز کے تحت میڈیاسمیت کسی بھی سرکاری ادارے سے عوام کو کسی بھی قسم کا جانی مالی ، املاک یاعزت پر آنیوالے حرف پر ہرجانہ ادا کیا جائیگا۔