منی بجٹ عوام ریلیف کے منتظر

پیدا شدہ ذہنی کیفیت میں منی بجٹ یا معاشی مصائب میں اضافہ کرنے والے اقدامات سے گریز صائب مشورہ ہوگا۔

پیدا شدہ ذہنی کیفیت میں منی بجٹ یا معاشی مصائب میں اضافہ کرنے والے اقدامات سے گریز صائب مشورہ ہوگا۔ فوٹو: فائل

وفاقی کابینہ کی جانب سے ایک کھرب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل کرنے کے لیے جمعرات کو رواں مالی سال 2018-19 کے لیے نظر ثانی شدہ وفاقی بجٹ اور ایف بی آر کی جانب سے تیار کردہ اسٹرٹیجی پیپر 2018-19 کی وفاقی کابینہ سے منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس جمعرات کو طلب کیا گیا، اجلاس میں نو نکاتی ایجنڈا، موجودہ معاشی اور اقتصادی صورتحال اور کئی وزراتوں اور محکموں کے حوالہ سے اہم فیصلے ہوئے۔

دریں اثنا نظر ثانی بجٹ کو معاشی ماہرین اور اپوزیشن حلقوں نے عوام کے لیے مہنگائی بم قراردیا ہے، دوسری جانب یہ انداز نظر بھی درست ہوگا کہ معاشی مضمرات کے حوالہ سے پر امید اور توقعات سے نہال عوام کے لیے نئی حکومت کی طرف سے یہ اس کی معاشی ترجیحات کا ابتدائیہ ہے جس کے مضمرات خود حکومت ، عوام اور ووٹرز کے لیے لمحہ فکریہ ثابت ہوسکتے ہیں، مگر عملیت پسندانہ تناظر میں منی بجٹ ایک دھچکے سے کم نہیں ، کیونکہ نئی حکومت سے لوگ معاشی ثمرات جلد ملنے کی قوی امید رکھتے ہیں جو ان کا حق بھی ہے۔

تحریک انصاف نے اپنے منشور میں جن عالی شان منصوبوں اور غیر معمولی تبدیلیوں کی سوچ عوامی حلقوں اور اپنے ووٹرز میں پیدا کی ہے وہ حکومت سے اگر معجزوں سے کم کسی بات پر تیار نہیں ہوسکیں گے تب بھی وہ معاشی اسٹیٹس کو یا پچھلی حکومتوں کے طور طریقوں سے قطعی مطمئن نہیں ہونگے چنانچہ منی بجٹ رولر کوسٹر نہ بنے بلکہ عوام کو بہر طور ریلیف ملنا چاہیے جب کہ پیدا شدہ ذہنی کیفیت میں منی بجٹ یا معاشی مصائب میں اضافہ کرنے والے اقدامات سے گریز صائب مشورہ ہوگا ، حکومتی اقتصادی ، مالیاتی اور معاشی پالیسیاںعوام کی امیدوں سے مطابقت رکھیں گی تو ان کے مثبت اثرات بھی جلد نظر آئیں گے، جیسا کہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ معاشی پالیسیوں کے نتائج ڈیڑھ سال میں نظر آئیں گے۔

ذرایع کے مطابق اس نظرثانی شدہ بجٹ میں تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے قابل ٹیکس آمدنی کی حد12 لاکھ روپے سے کم کرکے 8 لاکھ روپے کیے جانے اور سگریٹ سمیت 1300 سے زائد درآمدی لگژری اشیا مہنگی کیے جانے کا امکان ہے جس کے لیے ان اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح میں 5 فیصد اضافہ کیے جانے کی توقع ہے جب کہ پی ایس ڈی پی کے تحت ترقیاتی بجٹ میں 3 کھرب روپے سے زائد کی کٹوتی کا بھی امکان ہے، اس کے علاوہ بجٹ خسارے سمیت دیگر بجٹ اہداف میں بھی ترامیم کی تجاویز ہیں، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد فنانس ترمیمی ایکٹ 2018 پارلیمنٹ کے آیندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔


ذرایع کا کہنا ہے کہ پہلے یہ ترمیمی فنانس بل جمعے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جانا تھا تاہم اب چونکہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پیر تک کے لیے موخر کردیا گیا ہے اس لیے توقع ہے کہ اب یہ بل پیر کو ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جب کہ فنانس ترمیمی بل میں پچھلی حکومت کی جانب سے دی جانے والی ایک کھرب روپے کی ٹیکس چھوٹ و مراعات میں ردوبدل کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ نظر ثانی شدہ بجٹ میں دہی، پیک شدہ فلیورڈ دودھ، مکھن، شہد، وے پاؤڈر، پولٹری، آٹا، میدہ، خشک میوہ جات، پھل، چھالیہ، کاربن ڈائی آکسائیڈ، ایلومونیم، پینٹس، وارنش، پرفیومز، سرخی پاؤڈرزو دیگر میک اپ کا سامان، پری شیو و آفٹر شیونگ سامان، صابن، واش بیسن، سینک، باتھ ٹب سمیت دیگر سینٹری کے سامان، ریزرز، پنکھے، الیکٹرک اوون، ہئیر ڈرائرز، لائن ٹیلی فون سیٹ، ایل سی ڈی، ایل ای ڈی، انرجی سیونگ لیمن، منی وین، فور بائی فور گاڑیاں، استعمال شدہ پرانی کاریں اور بچوں کے ڈائپرز سمیت 1300 کے قریب اشیا کی درآمد پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح میں 5 فیصد اضافہ کیے جانے کا امکان ہے۔

منی بجٹ میں بے شمار درآمدی اشیا مہنگی ہونگی، تنخوزہ دارطبقہ مزید پستا چلاجائیگا، پی ایس ڈی پی میں 3 کھرب روپے کے لگ بھگ مالیت کی غیر منظور شدہ ترقیاتی اسکیمیں بھی ختم کیے جانے اور نظر ثانی شدہ بجٹ میں بجٹ خسارہ، جی ڈی پی سمیت دیگر بجٹ اہداف پر نظر ثانی کا بھی امکان ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ منی بجٹ میں سب سے زیادہ ردوبدل انکم ٹیکس کے حوالے سے کیا جارہا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے معاشی پالیسی سازوں کے لیے معاشی چیلنجز بلاشبہ بے پناہ ہیں، وسائل کے فقدان یا بے بس کردینے والے معاملات کی کوئی گنتی نہیں،مسائل کا ایک پھیلا ہوا میدان ہے اب ضرورت ایسے معاشی اقدامات کی ہے جو عوام دوست ہوں، حکومت کو منصوبوں کے قابل عمل ہونے کا یقین ہو، کوئی یوٹرن نہ لیا جائے، جو فیصلے ہوں ان پر مکمل سیاسی و اقتصادی اختیار کے طور پر ثابت قدمی دکھائی جائے۔ وقت اب خوشنما وعدوں کا نہیں رہا، حکومت ڈلیور کرے تومعاشی ترقی ہوگی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہدا ری منصوبے (سی پیک ) کا جائزہ اجلاس بلا یا گیا،جب کہ دفتر خارجہ نے سی پیک نظرثانی تاثر کو مسترد کردیا۔ حکومت گیس کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ موخر کرچکی ہے۔

گورنر پنجاب چوہدری سرور نے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کے درآمدات میں بہت بڑا خلا پیدا کر دینے سے ملکی معیشت پر برے اثرات پڑے ہیں،ادھر نیپرا نے بجلی مہنگی کرنے کی سمری پاور ڈویژن کو ارسال کر دی ہے۔بہر حال کئی اہم اور جرات مندانہ فیصلوں کی قوم منتظر ہے۔ معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دلانے کے لیے حکومت کو آخری حد تک جانا ہوگا۔
Load Next Story