درہ آدم خیل کان کنوں کی ہلاکتیں کب رکیں گی

پاکستان میں ہزاروں کان کن غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان میں ہزاروں کان کن غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ فوٹو : فائل

درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان میں گیس بھرجانے سے دھماکے کے نتیجے میں نوکان کن جاں بحق ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے تین افراد جن میں دو سگے بھائی جب کہ ان کا بھتیجا شامل ہیں۔ کان کنوں کے حوالے سے افسوسناک سانحات کا تسلسل رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

کان کنوں کی فیڈریشن کے مطابق ہر سال 200 سے زائد کان کن کام کے دوران جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق شانگلہ ہل سے ہوتا ہے، اس علاقے کے لوگ انتہائی کسمپرسی کا شکار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ناقص انتظامات، حکومتی عدم توجہ اورکوئلہ کان مافیا،کمپنیوں کی ملی بھگت محنت کشوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ رواں سال بلوچستان کوئلہ کان میں دھماکے سے تیئس مزدور جاں بحق ہوئے تھے، ان کا تعلق بھی شانگلہ سے تھا۔


پاکستان میں ہزاروں کان کن غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ مزدور مختلف بیماریوں کا شکار رہتے ہیں جن میں ٹی بی، دمہ اورسانس کی مختلف بیماریاں شامل ہیں ۔کانوں کے قریب ہی اسی طرح کے غیر انسانی حالات اور ماحول میں رہتے بھی ہیں جب کہ ہوس زر میں مبتلا مالکان اور ٹھیکیدارکروڑوں روپے کا منافع کما رہے ہیں۔

بلوچستان کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی غالب اکثریت کا تعلق خیبرپختون خوا کے علاقے شانگلہ سے ہے۔ وہ اپنے خاندانوں ، پیاروں اور گھروں سے سیکڑوں کلو میٹر دور انتہائی نامساعد حالات میں رہ کر روزی کماتے ہیں۔ اگر ان کے علاقے میں روزگار کے بہتر مواقعے موجود ہوں تو وہ اتنی دور نامساعد حالات میں کام کرنے کیوں جائیں ؟

حکومت صرف بیانات دے کر اور چند لاکھ معاوضے کا اعلان کرکے اپنی ذمے داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتی ۔کوئلہ نکالنے کی صنعت سے وابستہ ہزاروں کان کن اپنے آئینی، جمہوری ، معاشی اور سماجی حقوق سے محروم ہیں،انھیں یہ حق منصفانہ طور پر دیا جائے اور ان کی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھاتے ہوئے، ٹھیکیداروں اور مالکان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
Load Next Story