پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال کے 300 ملازمین تنخواہ سے محروم

غیرضروری اسامیوں پر این جی او کے افسران تعینات، ملازمین کااین جی اوانتظامیہ کیخلاف احتجاج کا اعلان

حکومت نے اسپتال من پسند این جی او کے حوالے کرکے بجٹ10 کروڑ سے بڑھاکر44کروڑ روپے کردیا۔ فوٹو؛ فائل

محکمہ صحت کا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں دیے جانے والا سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال ناگن چورنگی کا عملہ تنخواہوں سے محروم ہے۔

اسپتال کی پرائیویٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تاحال منظور شدہ ایگریمنٹ کے مطابق محکمہ صحت نے رقم ارسال نہیںکی اس لیے ملازمین کو اگست کی بھی تنخواہیں جاری نہیں کی جاسکیں۔

اسپتال میں تنخواہ سے محروم عملے کاکہنا ہے کہ 30 ستمبر 2016کوچلڈرن اسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پرمن پسند ایک این جی اوکودیا گیا ہے جس کے بعد سے اسپتال کے انتظامی امور میں این جی او کے افسران تعینات ہیں جن کو اسپتال چلانے کا کوئی تجربہ نہیں۔


سرکاری اسپتال میں آنے والے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک کیاجارہاہے اس سلوک کی وجہ سے اسپتال میں مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے،ان ملازمین کا کہنا تھا کہ اسپتال میں این جی او کے انتظامی افسران نے اگست اور ستمبرکی تنخواہیں تاحال ادا نہیں کیں جس کی وجہ سے اسپتال میں کام کرنے والے 3 سو سے زائد ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔

ملازمین نے بتایاکہ اگست میں عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی ملازمین کو عید ایڈوانس بھی نہیں دیاگیا ،ان ملازمین نے مزید بتایا کہ اسپتال این جی اوانتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاجائے گا اور وزیر صحت سے اپیل کی ہے کہ اسپتال انتظامیہ سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگیوں کا یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ حکومت سندھ کے ماتحت چلڈرن اسپتال کو 30ستمبر2016 کو 2سال قبل کے پی کے کی این جی او کے ماتحت کیاگیا تھا جس کے بعد محکمہ صحت نے ایک سالہ کارکردگی رپورٹ مرتب کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ پر عدم اعتمادکا اظہار کیاتھا جس کی رپورٹ محکمہ صحت نے سرد خانے کی نذرکردی۔

جب اسپتال صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت تھا تب اسپتال کا سالانہ بجٹ10کروڑ روپے تھا لیکن جب من پسند این جی او کے حوالے کیاگیا تو اسپتال کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کرکے44کروڑ روپے کردیا گیا ،حیرت انگیز طورپر 34کروڑ روپے اضافے کے بعد بھی اسپتال کی صورتحال جوں کی توں ہے،سرکاری اسپتال میں این جی اونے بھاری معاوضوں پرغیرضروری اسامیوں پر بھرتی کیاگیا ہے۔
Load Next Story