بارشیں نہ ہونے سے تھر میں قحط سالی لوگ نقل مکانی کرنے لگے
22 ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر محیط ضلع تھرپار کرکو قحط زدہ علاقہ قرار دینے کیلیے سروے شروع
22 ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر محیط ضلع تھرپار کرکو قحط زدہ علاقہ قرار دینے کیلیے سروے شروع۔ فوٹو فائل
WELLINGTON:
تھرپارکر میں بارشیں نہ ہونے کے باعث قحط سالی کی صورتحال پیدا ہو گئی، علاقہ مکین نقل مکانی کرنے لگے، ادھر ضلعی حکومت نے ضلع کو قحط زدہ علاقہ قرار دینے کیلیے سروے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
22 ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر محیط ضلع تھرپار کر میں رواں برس بارشیں نہ ہونیکی وجہ سے قحط سالی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جسکے باعث یہاں کے مکین مال مویشیوں سمیت اپنے آبائو اجداد کا دیس چھوڑ کر بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر تھرپارکر مخدوم شکیل الزماں کے حکم پر تھر کو قحط زدہ علاقہ قرار دینے کیلیے تحصیلداروں نے سروے کا آغازکر دیا ہے۔
اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر تھرپارکر طاہر میمن نے میڈیا کو بتایا کہ سروے ٹیم دو دنوں میں رپورٹ پیش کرے گی جو ممبر بورڈ آف ریونیو اور حکومت سندھ کے حکام کو بھیجی جائے گی، اس کے بعد تھرپارکر کو قحط زدہ علاقہ قرار دے دیا جائے گا۔
تھرپارکر میں بارشیں نہ ہونے کے باعث قحط سالی کی صورتحال پیدا ہو گئی، علاقہ مکین نقل مکانی کرنے لگے، ادھر ضلعی حکومت نے ضلع کو قحط زدہ علاقہ قرار دینے کیلیے سروے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
22 ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر محیط ضلع تھرپار کر میں رواں برس بارشیں نہ ہونیکی وجہ سے قحط سالی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جسکے باعث یہاں کے مکین مال مویشیوں سمیت اپنے آبائو اجداد کا دیس چھوڑ کر بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر تھرپارکر مخدوم شکیل الزماں کے حکم پر تھر کو قحط زدہ علاقہ قرار دینے کیلیے تحصیلداروں نے سروے کا آغازکر دیا ہے۔
اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر تھرپارکر طاہر میمن نے میڈیا کو بتایا کہ سروے ٹیم دو دنوں میں رپورٹ پیش کرے گی جو ممبر بورڈ آف ریونیو اور حکومت سندھ کے حکام کو بھیجی جائے گی، اس کے بعد تھرپارکر کو قحط زدہ علاقہ قرار دے دیا جائے گا۔