نیشنل بینک نے کور بینکنگ اپلیکیشن کا آغاز کردیا
ابتداً سہولت مرکزی برانچ سے، دائرہ کارکو مرحلہ وار دیگر برانچوں تک توسیع دی جائے گی
زیادہ سے زیادہ مالی معاونت کی فراہمی میں توانائی وزراعت کے شعبہ جات کو ترجیح دی جائیگی۔ فوٹو: فائل
نیشنل بینک آف پاکستان نے اپنے مرکزی دفتر میں واقع مرکزی برانچ سے کوربینکنگ اپلیکیشن کا آغاز کردیا ہے جسکے دائرہ کارکومرحلہ وار نیشنل بینک کی دیگر برانچوں تک توسیع دی جائے گی۔
منصوبے کے تحت آئندہ چار ماہ میں 250 برانچزمیں صارفین کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی، اس جدید سہولت کی فراہمی کے بعد بینک کی ترجیح توانائی اور زراعت کے شعبہ جات کو زیادہ سے زیادہ مالی معاونت کی فراہمی ہے، ملک میں توانائی کے بحران کومدنظر رکھتے ہوئے بینک کی اولین ترجیح توانائی کے شعبوں میں فنانسنگ ہے، فی الوقت ملک میں اب تک سے بجلی پیدا کرنے کے کل 10 منصوبے شروع کیے گئے ہیں جس میں سے7 منصوبوں کی فنانسنگ نیشنل بینک نے کی ہے، توانائی کے مذکورہ 7 منصوبوں میں سے 5 منصوبے پیداواری عمل کا باقاعدہ آغازبھی کرچکے ہیں، توانائی کے شعبے میں نیشنل بینک کی جانب سے اب تک 125 ارب روپے مالیت کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے جبکہ الطوارقی اسٹیل ملز بھی نیشنل بینک کی خطیرسرمایہ کاری میں شامل ہے۔
الطوارقی اسٹیل میں نیشنل بینک نے10 ارب روپے مالیت کی سرمایہ کاری کی ہے اور اس منصوبے نے اپنی پیداواری سرگرمیاں شروع کردی ہیں، منصوبے سے نہ صرف مقامی اسٹیل کی ضروریات پوری ہوسکیں گی بلکہ قیمتی زرمبادلہ کی بچت اوربیرونی دنیا میں پاکستان کے حوالے سے ایک مثبت تاثر قائم ہوا ہے۔
واضح رہے کہ نیشنل بینک اس سے قبل اپنی تمام برانچوں کو آن لائن کرنے کے منصوبے پر کامیابی کے ساتھ عمل کرچکا ہے، اس وقت نیشنل بینک کی تمام تیرہ سو برانچیں آن لائن نیٹ ورک کے ساتھ ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور نیشنل بینک کو پاکستان کے سب سے بڑے نیٹ ورک کے ساتھ سو فیصد برانچوں کو آن لائن منسلک رکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
سود کی شرح میں کمی کی پالیسی کے باعث 2012 پاکستان میں بینکنگ کے شعبے کیلیے ایک مشکل برس تھا مگر نیشنل بینک نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کے ذریعے موثر طریقے سے اس مشکل وقت سے نمٹا۔اس حکمت عملی کے تحت نیشنل بینک نے حکومت کی سیکوریٹیز میں کم از کم سرمایہ کاری کی اور عوام کو زیادہ زیادہ سے فنانسنگ کی سہولت مہیا کی۔مزید براں بینک نے کم از کم خطرے والے منصوبوں میں فنانسنگ، استعمال نہ ہونیوالے قرضہ جات میں کمی اور زیادہ زیادہ سے برانچ کھول کر بھی اس کا مقابلہ کیا۔ نیشنل بینک کی اس حکمت عملی کے نتائج اس سہ ماہی میں دیکھے جاسکیں گے۔
زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی، ایڈوانس تنخواہ اور سونے کے بدلے کیش نیشنل بینک کے بہترین منصوبے ثابت ہوئے۔ اس سے نہ صرف بینک کو شرح سود میں کمی کا مقابلہ کرنے میں مدد ملی بلکہ ملک کے دور دراز دیہی علاقوں میں بھی پہلی مرتبہ کاشتکاروں کو قرض کی سہولت ملی جس سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار پر اچھا اثر پڑا۔ ان منصوبوں کی پذیرائی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2012 میں سونے کے بدلے کیش کے تحت فنانسنگ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 51 فیصد اضافہ ہوا جبکہ زرعی شعبہ جا ت کو قرضہ جات میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نیشنل بینک نے زرعی شعبے کو مجموعی طور پر 131 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کیے۔
ایک ایسے وقت میں جب دیگر مالیاتی ادارے ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر سرکاری تمسکات میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے تھے، نیشنل بینک کی ترجیح عوام اور زرعی شعبہ تھا۔نیشنل بینک برانچ نیٹ ورک میں مسلسل توسیع کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اس برس بینک کی مزید 55 برانچیں کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس میں سے پندرہ برانچیں خصوصی طور پر اسلامی بینکنگ کے لیے مختص ہوں گی۔ نیشنل بینک پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک آپریشن پر بھی توجہ دے رہا ہے ۔ اس وقت بینک کی سمندر پار 29 برانچیں تارکین وطن کو براہ راست سہولتیں مہیا کررہی ہیں۔
منصوبے کے تحت آئندہ چار ماہ میں 250 برانچزمیں صارفین کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی، اس جدید سہولت کی فراہمی کے بعد بینک کی ترجیح توانائی اور زراعت کے شعبہ جات کو زیادہ سے زیادہ مالی معاونت کی فراہمی ہے، ملک میں توانائی کے بحران کومدنظر رکھتے ہوئے بینک کی اولین ترجیح توانائی کے شعبوں میں فنانسنگ ہے، فی الوقت ملک میں اب تک سے بجلی پیدا کرنے کے کل 10 منصوبے شروع کیے گئے ہیں جس میں سے7 منصوبوں کی فنانسنگ نیشنل بینک نے کی ہے، توانائی کے مذکورہ 7 منصوبوں میں سے 5 منصوبے پیداواری عمل کا باقاعدہ آغازبھی کرچکے ہیں، توانائی کے شعبے میں نیشنل بینک کی جانب سے اب تک 125 ارب روپے مالیت کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے جبکہ الطوارقی اسٹیل ملز بھی نیشنل بینک کی خطیرسرمایہ کاری میں شامل ہے۔
الطوارقی اسٹیل میں نیشنل بینک نے10 ارب روپے مالیت کی سرمایہ کاری کی ہے اور اس منصوبے نے اپنی پیداواری سرگرمیاں شروع کردی ہیں، منصوبے سے نہ صرف مقامی اسٹیل کی ضروریات پوری ہوسکیں گی بلکہ قیمتی زرمبادلہ کی بچت اوربیرونی دنیا میں پاکستان کے حوالے سے ایک مثبت تاثر قائم ہوا ہے۔
واضح رہے کہ نیشنل بینک اس سے قبل اپنی تمام برانچوں کو آن لائن کرنے کے منصوبے پر کامیابی کے ساتھ عمل کرچکا ہے، اس وقت نیشنل بینک کی تمام تیرہ سو برانچیں آن لائن نیٹ ورک کے ساتھ ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور نیشنل بینک کو پاکستان کے سب سے بڑے نیٹ ورک کے ساتھ سو فیصد برانچوں کو آن لائن منسلک رکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
سود کی شرح میں کمی کی پالیسی کے باعث 2012 پاکستان میں بینکنگ کے شعبے کیلیے ایک مشکل برس تھا مگر نیشنل بینک نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کے ذریعے موثر طریقے سے اس مشکل وقت سے نمٹا۔اس حکمت عملی کے تحت نیشنل بینک نے حکومت کی سیکوریٹیز میں کم از کم سرمایہ کاری کی اور عوام کو زیادہ زیادہ سے فنانسنگ کی سہولت مہیا کی۔مزید براں بینک نے کم از کم خطرے والے منصوبوں میں فنانسنگ، استعمال نہ ہونیوالے قرضہ جات میں کمی اور زیادہ زیادہ سے برانچ کھول کر بھی اس کا مقابلہ کیا۔ نیشنل بینک کی اس حکمت عملی کے نتائج اس سہ ماہی میں دیکھے جاسکیں گے۔
زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی، ایڈوانس تنخواہ اور سونے کے بدلے کیش نیشنل بینک کے بہترین منصوبے ثابت ہوئے۔ اس سے نہ صرف بینک کو شرح سود میں کمی کا مقابلہ کرنے میں مدد ملی بلکہ ملک کے دور دراز دیہی علاقوں میں بھی پہلی مرتبہ کاشتکاروں کو قرض کی سہولت ملی جس سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار پر اچھا اثر پڑا۔ ان منصوبوں کی پذیرائی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2012 میں سونے کے بدلے کیش کے تحت فنانسنگ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 51 فیصد اضافہ ہوا جبکہ زرعی شعبہ جا ت کو قرضہ جات میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نیشنل بینک نے زرعی شعبے کو مجموعی طور پر 131 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کیے۔
ایک ایسے وقت میں جب دیگر مالیاتی ادارے ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر سرکاری تمسکات میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے تھے، نیشنل بینک کی ترجیح عوام اور زرعی شعبہ تھا۔نیشنل بینک برانچ نیٹ ورک میں مسلسل توسیع کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اس برس بینک کی مزید 55 برانچیں کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس میں سے پندرہ برانچیں خصوصی طور پر اسلامی بینکنگ کے لیے مختص ہوں گی۔ نیشنل بینک پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک آپریشن پر بھی توجہ دے رہا ہے ۔ اس وقت بینک کی سمندر پار 29 برانچیں تارکین وطن کو براہ راست سہولتیں مہیا کررہی ہیں۔