پاکستان نے القاعدہ کو کمزور کرنے کیلیے عملی اقدامات کیے امریکا
القاعدہ کمزورہورہی ہےلیکن اب بھی افغانستان اورپاکستان میں موجودمحفوظ پناہ گاہوں سےحملوں کی صلاحیت رکھتی ہے، رپورٹ.
87ممالک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں، پاکستان، عراق اور افغانستان زیادہ متاثررہے، ایران دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا رہا. فوٹو: فائل
امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے تیارکردہ سال 2012کی دہشت گردی سے متعلق سالانہ رپورٹ کانگریس کو پیش کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 2012میں پاکستان دہشت گرد اور فرقہ وارانہ حملوں کی زد میں رہا جس کے دوران 2000 شہری اور تقریبا 700سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ۔ رپورٹ میں دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکا کی سالانہ رپورٹ میںکیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 87ممالک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں تاہم پاکستان افغانستان اور عراق سب سے زیادہ متاثرہ ممالک ہیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے مجموعی حملوں میں 65فیصد حملے صرف ان تین ممالک میں ہوئے۔القاعدہ اب بھی افغانستان اور پاکستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے بدستور حملوں کی منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہشتگرد گروپوں نے امن کمیٹی کے قبائلی رہنمائوں سمیت طالبان مخالف سرکاری حکام کو بھی قتل کیا۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ سرحد کے دونوں جانب قائم محفوظ ٹھکانوں افغان طالبان ، حقانی نیٹ ورک ، تحریک طالبان پاکستان اور ان جیسے دیگر گروپس مسلسل امریکا اور اتحادیوں کیخلاف آپریشن کر کے افغانستان اور پاکستان مفادات کو نقصان پہنچاتے رہے تاہم رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے لشکر جھنگوی کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کے زمرے میں نمایاں رہا جس میں پاسداران انقلاب کی القدس فورس ایران کی وزارت انٹیلی جنس اور سلامتی اور ایران کے اتحادی حزب اللہ کی کارستانیاں توجہ طلب تھیں۔
ایران اور حزب اللہ کی دہشت گرد تنظیم کی کارروائیاں1990کی دہائی کے بعد کی بلند ترین سطح پر تھیں جن میں جنوب مشرقی ایشیا یورپ اور افریقا میں حملوں کی سازش تیار کرنا شامل تھا۔ ایران اور حزب اللہ نے اسد حکومت کو وسیع تر حمایت کی فراہمی اور شام کے عوام کے خلاف تشدد کی سفاکانہ کارروائیاں جاری رکھیں۔ القاعدہ کی متعدد ذیلی شاخیں مالی طور پر آزاد ہوگئی ہیں جس کے بعد وہ اغوا برائے تاوان اور دیگر مجرمانہ کارروائیوں کی طرف دھیان مرکوز کرنے لگیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کی مرکزیت میں دراڑیں پڑنے کے بعد یہ خطرہ جغرافیائی طور پر بڑے علاقے میں پھیل گیا ہے۔ رپورٹ میں طالبان سے عوامی سطح پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغان حکومت سے مذاکرات کریں ۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق سال 2012کی سالانہ رپورٹ میں شامل اعداد وشمار کے حوالہ جات پہلی بار یونیورسٹی آف میری لینڈ میںنیشنل کنسورشیم فاراسٹڈی آف ٹیررزم اینڈ ریسپانسزٹو ٹیررزم میں تیارکیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 2012میں پاکستان دہشت گرد اور فرقہ وارانہ حملوں کی زد میں رہا جس کے دوران 2000 شہری اور تقریبا 700سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ۔ رپورٹ میں دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکا کی سالانہ رپورٹ میںکیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 87ممالک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں تاہم پاکستان افغانستان اور عراق سب سے زیادہ متاثرہ ممالک ہیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے مجموعی حملوں میں 65فیصد حملے صرف ان تین ممالک میں ہوئے۔القاعدہ اب بھی افغانستان اور پاکستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے بدستور حملوں کی منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہشتگرد گروپوں نے امن کمیٹی کے قبائلی رہنمائوں سمیت طالبان مخالف سرکاری حکام کو بھی قتل کیا۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ سرحد کے دونوں جانب قائم محفوظ ٹھکانوں افغان طالبان ، حقانی نیٹ ورک ، تحریک طالبان پاکستان اور ان جیسے دیگر گروپس مسلسل امریکا اور اتحادیوں کیخلاف آپریشن کر کے افغانستان اور پاکستان مفادات کو نقصان پہنچاتے رہے تاہم رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے لشکر جھنگوی کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کے زمرے میں نمایاں رہا جس میں پاسداران انقلاب کی القدس فورس ایران کی وزارت انٹیلی جنس اور سلامتی اور ایران کے اتحادی حزب اللہ کی کارستانیاں توجہ طلب تھیں۔
ایران اور حزب اللہ کی دہشت گرد تنظیم کی کارروائیاں1990کی دہائی کے بعد کی بلند ترین سطح پر تھیں جن میں جنوب مشرقی ایشیا یورپ اور افریقا میں حملوں کی سازش تیار کرنا شامل تھا۔ ایران اور حزب اللہ نے اسد حکومت کو وسیع تر حمایت کی فراہمی اور شام کے عوام کے خلاف تشدد کی سفاکانہ کارروائیاں جاری رکھیں۔ القاعدہ کی متعدد ذیلی شاخیں مالی طور پر آزاد ہوگئی ہیں جس کے بعد وہ اغوا برائے تاوان اور دیگر مجرمانہ کارروائیوں کی طرف دھیان مرکوز کرنے لگیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کی مرکزیت میں دراڑیں پڑنے کے بعد یہ خطرہ جغرافیائی طور پر بڑے علاقے میں پھیل گیا ہے۔ رپورٹ میں طالبان سے عوامی سطح پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغان حکومت سے مذاکرات کریں ۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق سال 2012کی سالانہ رپورٹ میں شامل اعداد وشمار کے حوالہ جات پہلی بار یونیورسٹی آف میری لینڈ میںنیشنل کنسورشیم فاراسٹڈی آف ٹیررزم اینڈ ریسپانسزٹو ٹیررزم میں تیارکیے گئے۔