کامران کوٹیم میں دیکھ کرذوالقرنین غصے سے پھٹ پڑے

پی سی بی نے ذوالقرنین کے تازہ بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس لے لیا

سینئرساتھی سے کلیئرنس لیٹردکھانے کا مطالبہ،کرپٹ کرکٹرزکوبے نقاب کرنے کا دعویٰ (فوٹو : ایکسپریس)

KARACHI:
نفسیاتی علاج سے بھی متنازع وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر کوکوئی افاقہ نہ ہوا، کامران اکمل کو ٹیم میں دیکھ کر غصے سے پھٹ پڑے، ایک بار پھر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کردیا، ان کا کہنا ہے کہ سینئر وکٹ کیپر آئی سی سی کا کلیئرنس لیٹر دکھائیں ورنہ میں زبان کھول دوں گا۔

تفصیلات کے مطابق 2010 کے آخر میں جنوبی افریقہ سے سیریز کے دوران اچانک دبئی میں ٹیم کو چھوڑ کر لندن چلے جانے والے ذوالقرنین حیدر نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ کئی کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہیں، البتہ انھوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، وطن واپسی پر پی سی بی نے ڈسپلنری بنیاد پر ان پر جرمانہ عائد کیا جو معافی تلافی کے بعد معاف کر دیا گیا،پھر ان کا نفسیاتی علاج کرانے کیلیے ماہر نفسیات کو ہزاروں روپے بھی دیے مگر کونسلنگ بھی ذوالقرنین حیدر کے کسی کام نہیں آئی، ٹوئنٹی 20 کے بعد ون ڈے اسکواڈ میں کامران اکمل کے منتخب ہونے پر وہ غصے سے بے قابو ہوگئے، انھوں نے سینئر وکٹ کیپر بیٹسمین کی سلیکشن کو اپنے پسندیدہ پلیٹ فارم فیس بک پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔


انھوں نے دعویٰ کیا کہ آئی سی سی نے کامران کوکلیئرنس نہیں دی، اگر انھیں کوئی لیٹر ملا ہے تو اسے شائقین کو دکھائیں ورنہ وہ سچ زبان پر لانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ذوالقرنین حیدر نے بعد میں ایک بھارتی خبررساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ میرے ذہن میں تھا وہ زبان پر لے آیا، میں اب تک اس امید پر خاموش تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ مشکوک کھلاڑیوں کو دوبارہ کھیلنے کا موقع نہیں دے گا،انھوں نے مزید کہا کہ کامران اکمل اورچیف سلیکٹر اقبال قاسم کا تعلق ایک ہی ادارے سے ہے۔

اس کی بھی چھان بین ہونی چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے ذوالقرنین کے تازہ بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس لے لیا۔ دوسری جانب سری لنکا میں پریمیئر لیگ کھیلنے میں مصروف کامران اکمل نے ذوالقرنین کے تازہ حملے کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان ٹیم میں منتخب ہوچکا اب اپنی کارکردگی پر توجہ ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story