افغانی اور بنگالی تارکین کو شہریت جوائنٹ ورکنگ کمیٹی گروپ کے ذریعے پالیسی بننے کا امکان
حکومتی اعلان پر عمل درآمد کی صورت میں نادرا کو رجسٹریشن کیلیے افعان و بنگالی آبادی میں دفاتر، اضافی عملہ درکار ہوگا۔
رجسٹرڈ غیر ملکی تارکین وطن ایک لاکھ 40 ہزار ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں موجود تارکین وطن کارڈز بنوانا چاہتے ہیں۔ فوٹو: فائل
شہر میں مقیم افغان، بنگلہ دیشی باشندوں کو شہریت دینے کے معاملے میں جوائنٹ ورکنگ کمیٹی گروپ کے ذریعے پالیسی بننے کا امکان ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے دورہ کراچی کے دوران افغانی اور بنگالیوں کو شہریت دینے کے معاملے پر جوائنٹ ورکنگ کمیٹی گروپ کے ذریعے پالیسی بننے کا امکان ہے، اس حوالے سے وضع کردہ پالیسی کی روشنی میں نادرا رجسٹریشن کا طریقہ کار بنائے گی۔
ماضی میں نیشنل ایلین رجسٹریشن اتھارٹی (نارا) نے تارکین وطن کی رجسٹریشن کی، رجسٹریشن کے ذریعے تارکین وطن کو ورک پرمٹ دیے گئے، غیرملکی تارکین وطن کی رجسٹرڈ تعداد ایک لاکھ 40 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ لاکھوں کی تعداد میں موجود تارکین وطن کارڈز بنوانا چاہتے ہیں۔
ملک بھرمیں 2016 میں 6ماہ کے دوران قومی شناختی کارڈز کی تجدید پالیسی کے دوران 58 ہزار غیرملکیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی جو پاکستانی خاندانوں میں رچ بس گئے تھے جبکہ 10 کروڑ پاکستانیوں کے ڈیٹا کو شفاف قراردیاگیا، جعلی شناختی کارڈ کے اجرا میں ملوث نادرا ملازمین کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 24سے زائد ملازمین و افسران کی تحقیقاتی اداروں کے ہاتھوں گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے اعلان کردہ بیان کی روشنی میں عمل درآمد کیا گیا تو اس صورت میں نادرا کو رجسٹریشن کیلیے افعان و بنگالی آبادی میں دفاتر، اضافی عملہ درکار ہوگا، نادرا کے 5 اضلاع میں 3 میگا سینٹرز، 24 عام رجسٹریشن سینٹرز جبکہ 2 موبائل رجسٹریشن وینز قومی شناختی کی نئی درخواستوں کی وصولی، تجدید سمیت دیگر متفرق خدمات کے لیے کام کررہی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے دورہ کراچی کے دوران افغانی اور بنگالیوں کو شہریت دینے کے معاملے پر جوائنٹ ورکنگ کمیٹی گروپ کے ذریعے پالیسی بننے کا امکان ہے، اس حوالے سے وضع کردہ پالیسی کی روشنی میں نادرا رجسٹریشن کا طریقہ کار بنائے گی۔
ماضی میں نیشنل ایلین رجسٹریشن اتھارٹی (نارا) نے تارکین وطن کی رجسٹریشن کی، رجسٹریشن کے ذریعے تارکین وطن کو ورک پرمٹ دیے گئے، غیرملکی تارکین وطن کی رجسٹرڈ تعداد ایک لاکھ 40 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ لاکھوں کی تعداد میں موجود تارکین وطن کارڈز بنوانا چاہتے ہیں۔
ملک بھرمیں 2016 میں 6ماہ کے دوران قومی شناختی کارڈز کی تجدید پالیسی کے دوران 58 ہزار غیرملکیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی جو پاکستانی خاندانوں میں رچ بس گئے تھے جبکہ 10 کروڑ پاکستانیوں کے ڈیٹا کو شفاف قراردیاگیا، جعلی شناختی کارڈ کے اجرا میں ملوث نادرا ملازمین کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 24سے زائد ملازمین و افسران کی تحقیقاتی اداروں کے ہاتھوں گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے اعلان کردہ بیان کی روشنی میں عمل درآمد کیا گیا تو اس صورت میں نادرا کو رجسٹریشن کیلیے افعان و بنگالی آبادی میں دفاتر، اضافی عملہ درکار ہوگا، نادرا کے 5 اضلاع میں 3 میگا سینٹرز، 24 عام رجسٹریشن سینٹرز جبکہ 2 موبائل رجسٹریشن وینز قومی شناختی کی نئی درخواستوں کی وصولی، تجدید سمیت دیگر متفرق خدمات کے لیے کام کررہی ہیں۔