صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

صدر نے اپنے خطاب کے ذریعے حکومت کی جانب سے واضح روڈ میپ کی نشاندہی کی ہے۔

صدر نے اپنے خطاب کے ذریعے حکومت کی جانب سے واضح روڈ میپ کی نشاندہی کی ہے۔ فوٹو: فائل

صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے ناسور نے ملکی معیشت کو تباہ وبربادکردیا ہے، عوام بے ایمانی سے تنگ آچکے ہیں،کرپشن کو قابوکرنے کے لیے احتساب کے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

پارلیمنٹ ایک مقدس ترین جمہوری ادارہ ہے اورصدر مملکت کا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب جمہوری روایت کا تسلسل ہے۔ ن لیگ ، ہم خیال جماعتوں نے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اپنے خطاب میں صدرمملکت نے ان ترجیحات کا تذکرہ کیا ہے جو نئی حکومت کے پیش نظر ہیں اور جو انتخابات میں ''نیا پاکستان'' کا نعرہ لگا جیتے ہیں۔

ان خطاب کے چیدہ چیدہ نکات اور مندرجات کچھ یوں تھے کہ نئے پاکستان کی سب سے بڑی شناخت سادگی کا فروغ، غیرضروری پروٹوکول کا خاتمہ اور بدعنوانیوں سے پاک نظام ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے پاکستان پر بھی انتہائی مضر اثرات رونما ہورہے ہیں، ہمیں شجرکاری پر خصو صی توجہ دینا ہوگی اور نئے ڈیم بھی بنانے ہوںگے۔ ہمیں ملک میں آبادی اور وسائل میں توازن پیدا کرنا ہوگا جب کہ ملک اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

بلاشبہ صدر نے اپنے خطاب کے ذریعے حکومت کی جانب سے واضح روڈ میپ کی نشاندہی کی ہے جس پر عمل کرکے وہ پاکستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتی ہے۔


صدر نے مزید کہا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہش مند ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر تعلقات رکھنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہر مثبت قدم کا خوش دلی سے خیر مقدم کریں گے۔

مجموعی طور پر ہم دیکھیں تو صدرمملکت کا پارلیمنٹ سے خطاب شاندار تھا جس میں انھوں نے ملک وقوم کے لیے بہترین لائحہ عمل دیا ہے، یہ بھی حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک گروہی مفادات اور بے انتہا کرپشن کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستان کو مستحکم بنانے کے لیے عزم ولگن سے کام کرنا ہوگا ، یقینا اس ضمن میں حکومتی ٹیم اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پارلیمنٹ سے صدرمملکت کا خطاب عوام کی حقیقی ترجمانی کا مظہر ہے۔

صدر مملکت پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر (مسیحا) ہیں وہ نہ صرف ملک وقوم کو لاحق بیماریوں کے نبض شناس ہیں، بلکہ ان کا شافی علاج کرنا بھی چاہتے ہیں، ہم امیدکرتے ہیں کہ وہ قوم کو وینٹی لیٹر سے نجات دلاکر اپنے پائوں پرکھڑا کردیں گے۔


 
Load Next Story