صدر میرے شوہرکی رہائی کیلیے سعودی حکام سے بات کریں
سعودی حکام میرے شوہر کو رہا کرنے پر تیار نہیں، قوسین بیگم
محمد رمیز کی اہلیہ اور والدہ نے صدر زرداری سے اپیل کی ہے کہ چوری کے الزام میں سعودی جیل میں قید بے گناہ محمد رمیز کی رہائی کیلئے سعودی حکام سے بات کریں۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
عمرے کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس جانے والے محمد رمیز کی اہلیہ اور والدہ نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے اپیل کی ہے کہ چوری کے الزام میں سعودی جیل میں قید بے گناہ محمد رمیز کی رہائی کیلئے سعودی حکام سے بات کریں۔
محمد رمیزکی اہلیہ قوسین بیگم ویزے کی مدت ختم ہونے پر تین سالہ بیٹی کے ہمراہ بدھ کی صبح واپس کراچی پہنچ گئی قوسین بیگم شوہر محمد رمیز راجہ اور تین سالہ بیٹی حرم کے ہمراہ 14جولائی کو عمرہ کی ادائیگی کی غرض سے سعودی عرب گئیں تھیں،ان کے شوہر کو خانہ کعبہ کے طواف کے دوران گرجانے والے اپنے بٹوے کی تلاش میں کسی دوسرے کے بٹوے کو اٹھانے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔
قوسین بیگم نے کراچی ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فیملی اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے ہماری جان سولی پر لٹکی ہوئی ہے، سعودی حکام میرے شوہر کو رہا کرنے پر تیار نہیں، ہم نے محمد رمیز کی رہائی کیلیے پاکستان ہائوس جاکر بھی درخواست کی لیکن ہماری شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔
قوسین بیگم نے کہا کہ ایک عربی کی شہادت پر میرے شوہر کو سعودی پولیس گرفتار کرکے لے گئی ہے اور میرے شوہر پر کسی دوسرے شخص کا بٹوہ چوری کرنے کا الزام لگایا گیا ہے حالانکہ میرے شوہر نے چوری نہیں کی، میں نے صدر مملکت اور گورنر سندھ سے بھی اپیل کی ہے کہ میرے شوہر کو انصاف دلایا جائے لیکن ابتک ہمارے مسئلے کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا،صدر مملکت اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں کیا وہ میرے شوہر کی رہائی کے سلسلے میں کچھ نہیں کرسکتے، اس موقع پر محمد رمیز کی والدہ فرزانہ توفیق نے کہا کہ جب میرا بیٹا فیملی کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کیلیے روانہ ہوا تو میں نے اس کو دس لاکھ روپے دیے تھے اتنی بڑی رقم رکھنے والا شخص چوری کیوں کرے گا۔
عمرے کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس جانے والے محمد رمیز کی اہلیہ اور والدہ نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے اپیل کی ہے کہ چوری کے الزام میں سعودی جیل میں قید بے گناہ محمد رمیز کی رہائی کیلئے سعودی حکام سے بات کریں۔
محمد رمیزکی اہلیہ قوسین بیگم ویزے کی مدت ختم ہونے پر تین سالہ بیٹی کے ہمراہ بدھ کی صبح واپس کراچی پہنچ گئی قوسین بیگم شوہر محمد رمیز راجہ اور تین سالہ بیٹی حرم کے ہمراہ 14جولائی کو عمرہ کی ادائیگی کی غرض سے سعودی عرب گئیں تھیں،ان کے شوہر کو خانہ کعبہ کے طواف کے دوران گرجانے والے اپنے بٹوے کی تلاش میں کسی دوسرے کے بٹوے کو اٹھانے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔
قوسین بیگم نے کراچی ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فیملی اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے ہماری جان سولی پر لٹکی ہوئی ہے، سعودی حکام میرے شوہر کو رہا کرنے پر تیار نہیں، ہم نے محمد رمیز کی رہائی کیلیے پاکستان ہائوس جاکر بھی درخواست کی لیکن ہماری شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔
قوسین بیگم نے کہا کہ ایک عربی کی شہادت پر میرے شوہر کو سعودی پولیس گرفتار کرکے لے گئی ہے اور میرے شوہر پر کسی دوسرے شخص کا بٹوہ چوری کرنے کا الزام لگایا گیا ہے حالانکہ میرے شوہر نے چوری نہیں کی، میں نے صدر مملکت اور گورنر سندھ سے بھی اپیل کی ہے کہ میرے شوہر کو انصاف دلایا جائے لیکن ابتک ہمارے مسئلے کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا،صدر مملکت اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں کیا وہ میرے شوہر کی رہائی کے سلسلے میں کچھ نہیں کرسکتے، اس موقع پر محمد رمیز کی والدہ فرزانہ توفیق نے کہا کہ جب میرا بیٹا فیملی کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کیلیے روانہ ہوا تو میں نے اس کو دس لاکھ روپے دیے تھے اتنی بڑی رقم رکھنے والا شخص چوری کیوں کرے گا۔