قمر شیخ سمیت 76 کروڑ کی کرپشن کے ملزمان کے گرد گھیرا تنگ

گرفتاریوں کیلیے چھاپے،غیر قانونی ذرائع سے پیسہ کمانے کے الزامات،سینئر ڈائریکٹر کیخلاف ایک اور ریفرنس دائر کرنیکا فیصلہ

گرفتاریوں کیلیے چھاپے،غیر قانونی ذرائع سے پیسہ کمانے کے الزامات،سینئر ڈائریکٹر کیخلاف ایک اور ریفرنس دائر کرنیکا فیصلہ فوٹو:فائل

نیب نے سینئر ڈائریکٹر لینڈ اور ان کے ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔

قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر نعیم اﷲ جتوئی کی سربراہی میں سینئر ڈائریکٹر لینڈ بلدیہ اعلی حیدرآباد قمرالدین شیخ کے خلاف احتساب عدالت کراچی میں دائر کرپشن ریفرنس نمبر19/2018میں نامزد ملزم عارف ولد فخرالدین کی گرفتاری کے لیے تلک چاڑی میں واقع ان کے گھر چھاپہ مارا لیکن کامیابی نہیں ملی ۔ ذرائع کا دعوٰی ہے کہ نیب ٹیم کے پہنچنے پر وہ گھر کے عقبی دروازے سے فرار ہوگیا۔

یاد رہے کہ نیب نے احتساب عدالت کراچی میں قمر الدین شیخ و دیگر کے خلاف رشوت، بے ایمانی اور غیرقانونی ذرائع سے پیسہ کمانے، جعلی انوائس اور بلوں کے ذریعے سرکاری فنڈ ہڑپ کرنے، غیر قانونی بھرتیوں اور ترقیوں، دھوکا دہی سے تاریخ پیدائش میں9سال کمی اور آمدن سے زاید اثاثے بنانے کے الزامات کے تحت ریفرنس نمبر 19/2018دائر کر رکھاہے جس کی سماعت آج( بدھ) ہوگی۔اس ریفرنس میں ملزمان کی کرپشن کا تخمینہ 76کروڑ روپے لگایا گیاہے۔

انویسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق قمرالدین شیخ کی کرپشن سے متعلق 3 افراد مسرور احمد شیخ ، ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان (انٹرنیشنل) کے چیئرمین حامد خانزادہ اور بلدیاتی ملازم رئیس احمد نے درخواستیں دی تھیں جس پرڈائریکٹرجنرل نیب کراچی کے حکم پر 30 مئی 2016کو تحقیقات کاآغاز کیاگیا ۔ دوران تحقیقات مزید 6 شکایات نیب کو موصول ہوئیں۔ کرپشن کے شواہد ملنے پر نیب نے ریفرنس نمبر 19/2018 15اگست کو احتساب عدالتوں کے منتظم جج کو ارسال کیا تھا جسے منتظم جج نے سماعت کے لیے کراچی میں قائم احتساب عدالت نمبر تین کو بھیجا تھا ۔

اطلاعات کے مطابق اس ریفرنس میں قمرالدین شیخ کے ساتھ سیدگلاب شاہ، اقبال حسین، ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ویسٹ کراچی کے ڈائریکٹر محمد جاوید قمر، سیکریٹری بلدیات سندھ کے پرسنل سیکریٹری رمضان سولنگی اور محمد عارف سکنہ تلک چاڑی حیدرآباد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ریفرنس میں کہا گیاہے کہ نیب تحقیقات کے دوران پتہ چلاکہ قمرالدین شیخ نے غیرقانونی اور دھوکہ دہی سے بلدیہ اعلی حیدرآباد میں1989میں اسسٹنٹ لینڈ منیجمنٹ آفیسر گریڈ 16 کی نوکری حاصل کی ۔ملزم نے نادرا کے 2 ملازمین سپروائرز حمد الیاس آرائیں (مرحوم) اور کمپیوٹرآپریٹر اصغر علی(مرحوم) کی مدد سے اپنی تاریخ پیدائش بھی تبدیل کرائی تاکہ مدت ملازمت میں 9سال مزید اضافہ کرسکے۔


ریفرنس میں نامزد ملزم نمبر دو سید گلاب میاں کو قمرالدین شیخ کا فرنٹ مین قراردیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس نے قمرالدین شیخ سے غیرقانونی مالی فوائد حاصل کیے اور تحقیقات میں نیب سے تعاون تک نہیں کیا۔ نامزد ملزم نمبر تین اقبال حسین سے متعلق کہا گیاکہ اس نے ملزم قمرالدین شیخ کی مدد سے 2کروڑ67لاکھ روپے مالیت کا 178فیومیگیشن مشین فراہم کرنے کا بغیر ٹینڈر کنٹریکٹ حاصل کیا، اس طرح قومی خزانے کو ایک کروڑ95ہزار 80ہزار کا مالی نقصان پہنچا۔

دوران تحقیقات پتہ چلا کہ ملزم اقبال حسین نے قمرالدین شیخ کی مدد سے مسابقتی بولی دیے بغیر غیرقانونی طورپر 11کروڑ 80لاکھ 58ہزارروپے مالیت کے دیگرٹھیکے بھی حاصل کیے اور قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچایا۔ ریفرنس میں ملزم نمبر چار جاوید قمر سے متعلق کہا گیاہے کہ اس نے گریڈ گیارہ سے اٹھارہ تک بغیرڈی پی سی اور مجاز اتھارٹی کی بلا منظوری غیرقانونی ترقی حاصل کی اور ملزم نمبر ایک قمرالدین شیخ کی مدد سے جعلی بلوںاور انوائسز کے ذریعے رقم وصول کر کے قومی خزانے کو 4کروڑ66لاکھ 64ہزار روپے کا نقصان پہنچایا۔

ملزم کی گرفتاری کے وقت گھر کی تلاشی کے دوران ایک کروڑ83ہزار91ہزار روپے کے علاوہ 300 سعودی ریال، 2610درہم اور500 امریکی ڈالر بھی ملے۔ ریفرنس میں ملزم نمبر پانچ سابقہ سیکریٹری بلدیات کے پرسنل سکریٹری رمضان سولنگی سے متعلق کہا گیاکہ وہ اپنے باس یعنی سیکریٹری بلدیات سندھ کے لیے ہر ماہ غیرقانونی طورپر ساڑھے سات لاکھ روپے وصولی کرتا تھا اور جب نیب نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہاں سے 3کروڑ 32لاکھ57ہزار250روپے کے علاوہ 45ہزار938 سعودی ریال، 8سو امریکی ڈالر اور 10 طلائی بسکٹ اور دیگر جیولری ملی ۔ہر طلائی بسکٹ کا وزن تقریباً 10 تولے ہے ۔

دوران تحقیقات پتہ چلا کہ ملزم رمضان سولنگی نے ماہانہ رشوت وصولی کے علاوہ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ویسٹ کے فنڈز میں جعلی بل اور انوائسز کے زریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملزم کے خلاف نامعلوم ذرائع سے اثاثے بنانے کے الزام میں الگ سے ریفرنس میں دائر کیا جائے گا۔

ریفرنس میں نامزد ملزم نمبر چھ محمد عارف ولد فخرالدین سے متعلق بتایا گیاہے کہ وہ بھی غیرقانونی آمدنی سے مالی فوائد حاصل کرنے والوں میں شامل ہے۔ گلستان جوہر کراچی کے بلاک تھری میں واقع بنگلہ نمبرC-38اس کے نام پر ہے لیکن اس بنگلے کا اصل مالک ملزم قمرالدین شیخ ہے اور جب نیب نے تفتیش کی تو وہ بنگلے کی خریداری سے متعلق نیب کو مطمئن نہیں کر سکا۔

 
Load Next Story