پاکستان تجربات کی جیل میں65 برس کاٹنے کے بعد ضمانت پررہا

اسکے بچے کب ضمانت پائیں گے؟کوئی ایسا وکیل جو انھیں جلد رہائی دلوا سکے ، بی بی سی

اسکے بچے کب ضمانت پائیں گے؟کوئی ایسا وکیل جو انھیں جلد رہائی دلوا سکے ، بی بی سی، فوٹو : فائل

اس وقت پاکستان میں ایک آئینی سویلین حکومت کی جگہ دوسری آئینی سویلین حکومت لے رہی ہے ۔

نہ جانے والے کا آنے والے پر کوئی احسان ۔ نہ آنیوالا اقتدار کیلیے کسی نادیدہ کا مقروض۔ لائے بھی ووٹر فرنٹ ڈور سے اور بھیجا بھی ووٹروں نے فرنٹ ڈور سے۔ نہ کسی نے آئی ایس آئی اور ایم آئی کا نام لیا۔ نہ کسی نے کسی کو جی ایچ کیو کا گماشتہ کہا۔ نہ کہیں سے آواز آئی کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ذریعے فوج کو بھی ملکی معاملات میں حصہ ملنہ چاہیے ۔ نہ کوئی یہ درفنتنی لایا کہ فوج اس ملک کی سیاسی حقیقت ہے بھلے کوئی مانے نہ مانے ۔ نہ کسی میڈیا باز نے پچھلے5 برس میں ٹرائکا کی اصطلاح استعمال کی ، نہ کسی نے کسی کو انتخابی مہم کے دوران غدار ، سیکیورٹی رسک یا ملکی مفادات فروخت کرنے والا کہا ۔ نہ کسی نے کسی کا قبلہ درست کرنے کی بات چھیڑی ۔

نہ کسی نے پہلے احتساب پھر انتخاب کا شوشہ چھوڑا اور نہ کسی نے تجویز دی کہ اس ملک کے بلغمی مزاج کو پارلیمانی سے زیادہ صدارتی نظام راس ہے ۔ الیکشن سے پہلے سب سانپ کے ڈسے رسی سے ڈر رہے تھے۔ کیا الیکشن بروقت ہو پائیں گے؟ کیا خودکش حملوں کے بہانے انتخابات کو آگے تو نہیں بڑھا دیا جائے گا؟ مسلسل ذہنی دبائو کے شکار پاکستان پر کیسے کیسے تجربے نہیں ہوئے ۔ پچاس کے عشرے کی فالج زدہ محلاتی جھرلو جمہوریت سے لیکر ایوب خانی صدارتی و بنیادی جمہوریتی بندر تماشے تک ۔ یحییٰ خان کی مارشل لائی وہسکی کی بوتل بھک سے اڑا دینے والے بنگالی قوم پرستی کے جن کی پشت میں بیلٹ میں بجھا خنجر گھونپنے تک ۔




بھٹو کے سوشلسٹ لیبل زدہ قوم پرستانہ مذہبی فلرٹیشن سے آلودہ عوامی راج سے لیکر تاریخ کا پہیہ الٹا چلانے کی سفاکانہ ضیائی کوشش تک ۔ نوے کے عشرے کی اسحاقی و لغاروی ڈبہ بند کٹھ پتلی مغلض جمہوری بلیک کامیڈی سے لیکر نائن الیون کے بعد سویلین گدھے اور عسکری گھوڑے کے اختلاط سے پیدا ہونے والے ٹیسٹ ٹیوب جمہوری خچر پر آدھی پی کیپ اور آدھی جناح کیپ پہن کر سوار ہونے کے مضحکہ خیز کرتب تک ایسا کیا کیا نہیں ہوا جسے اب کسی کو بھی اس پاکستان میں ایک بار پھر دہرائے جانے کی حسرت ہے ۔

ان چارہ گروں اور بہی خواہوں سے اس ملک کے قبرستان بھرے پڑے ہیں جنہوں نے ہمیشہ یہاں کے عوام کو ایک جاہل، قوتِ فیصلہ سے عاری ریوڑ سمجھ کر اس کا قبلہ درست کرنے اور اسے غلط اور صحیح، سیاہ و سفید میں تمیز سکھانے کا ٹھیکہ اٹھائے رکھا۔ لیکن ان جاہلوں کو جب جب بھی موقع ملا انھوں نے یہ ٹھیکہ خودکار ناصحوں کے منہ پردے مارا۔ نہایت خوشی کی بات ہے کہ پاکستان آئینی و غیرآئینی تجربات کی جیل میں پینسٹھ برس کاٹنے کے بعد بظاہر ضمانت پر رہا ہو گیا ہے ۔ مگر اس کے بچے کب ضمانت پائیں گے؟ کوئی ایسا وکیل جو انہیں بھی جلد از جلد رہائی کا مچلکہ دلوا سکے ۔
Load Next Story