یمن میں پچاس لاکھ بچوں کے قحط کا شکار ہونے کا خطرہ
ملک میں اشیائے خوردنی کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے جو عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔
ملک میں اشیائے خوردنی کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے جو عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
جنگ سے تباہ ہونے والے عرب ملک یمن میں پچاس لاکھ سے زیادہ بچوں کے قحط کا شکار ہونے کا خطرہ ہے ،گویا ایک پوری نسل موت کے منہ میں چلی جائے گی۔ اس ہولناک خطرے کی نشاندہی امداد اکٹھی کرنے والی ایک عالمی تنظیم نے کی ہے۔
یمن اور اس کے عرب پڑوسی ملک کے مابین تین سال سے کشیدگی جاری ہے جب کہ حوثی باغیوں کو خلیج فارس کے ایک ملک کی پشت پناہی حاصل ہے، اسی بنا پر یمن کے قحط کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور ملک میں اشیائے خوردنی کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے جو عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ مغربی ذرایع ابلاغ کے مطابق یمن کے لاکھوں بچوں کو اس بات کا کوئی علم نہیں کہ انھیں آیندہ کھانا کب ملے گا یا ملے گا بھی کہ نہیں ملے گا۔ ملک میں خوراک کے ساتھ پانی بھی نایاب ہو گیا ہے۔
بچوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم ''سیو دی چلڈرن'' کے سربراہ ہیلے تھورننگ سمٹ نے کہا ہے کہ یمن کے بچوں کے لیے بھوک کے ساتھ بمباری اور مہلک بیماریوں کا بھی خطرہ ہے جس سے اگر کہا جائے کہ پوری ایک نسل کے معدوم ہو جانے کا خطرہ ہے ، تو غلط نہیں ہوگا لہذا اس خطرے کو ٹالنے کی پوری کوشش کی جانی چاہیے۔ انھوں نے بتایا اس ملک میں ہیضہ بھی پھیل چکا ہے جو اپنے طور پر ہلاکت خیز بیماری ہے۔
واضح رہے یمنی بندر گاہ ہودیدا کی حیثیت ملک کی لائف لائن کی سی ہے جب کہ اس بندر گاہ پر قبضے کے لیے باغیوں اور سرکاری فوج میں شدید جنگ جاری ہے جس سے حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ یہی بندر گاہ ہے جس کے ذریعے ملک میں بیرونی امداد لائی جا سکتی ہے مگر شدید جنگ کے باعث یہ بندر گاہ بند ہو گئی ہے۔ لہٰذا وہاں سے کسی قسم کی آمدورفت معطل ہو چکی ہے۔
نیو یارک میں قائم انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے چیئرمین ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ انھیں یمن کا دورہ مجبوراً ختم کرنا پڑا کیونکہ حقوق انسانی کی پوزیشن سخت خراب ہو چکی تھی۔عالم اسلام کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ مفادات کی جنگ اپنی جگہ لیکن اس ملک میں پراکسی جنگ لڑنے والے مسلم ملکوں کے حکمران طبقے کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے گروہی مفادات کے لیے جو جنگ لڑ رہے ہیں، اس کا خمیازہ معصوم اور بے گناہ مسلمان مردوں،خواتین اور بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
یمن اور اس کے عرب پڑوسی ملک کے مابین تین سال سے کشیدگی جاری ہے جب کہ حوثی باغیوں کو خلیج فارس کے ایک ملک کی پشت پناہی حاصل ہے، اسی بنا پر یمن کے قحط کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور ملک میں اشیائے خوردنی کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے جو عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ مغربی ذرایع ابلاغ کے مطابق یمن کے لاکھوں بچوں کو اس بات کا کوئی علم نہیں کہ انھیں آیندہ کھانا کب ملے گا یا ملے گا بھی کہ نہیں ملے گا۔ ملک میں خوراک کے ساتھ پانی بھی نایاب ہو گیا ہے۔
بچوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم ''سیو دی چلڈرن'' کے سربراہ ہیلے تھورننگ سمٹ نے کہا ہے کہ یمن کے بچوں کے لیے بھوک کے ساتھ بمباری اور مہلک بیماریوں کا بھی خطرہ ہے جس سے اگر کہا جائے کہ پوری ایک نسل کے معدوم ہو جانے کا خطرہ ہے ، تو غلط نہیں ہوگا لہذا اس خطرے کو ٹالنے کی پوری کوشش کی جانی چاہیے۔ انھوں نے بتایا اس ملک میں ہیضہ بھی پھیل چکا ہے جو اپنے طور پر ہلاکت خیز بیماری ہے۔
واضح رہے یمنی بندر گاہ ہودیدا کی حیثیت ملک کی لائف لائن کی سی ہے جب کہ اس بندر گاہ پر قبضے کے لیے باغیوں اور سرکاری فوج میں شدید جنگ جاری ہے جس سے حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ یہی بندر گاہ ہے جس کے ذریعے ملک میں بیرونی امداد لائی جا سکتی ہے مگر شدید جنگ کے باعث یہ بندر گاہ بند ہو گئی ہے۔ لہٰذا وہاں سے کسی قسم کی آمدورفت معطل ہو چکی ہے۔
نیو یارک میں قائم انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے چیئرمین ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ انھیں یمن کا دورہ مجبوراً ختم کرنا پڑا کیونکہ حقوق انسانی کی پوزیشن سخت خراب ہو چکی تھی۔عالم اسلام کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ مفادات کی جنگ اپنی جگہ لیکن اس ملک میں پراکسی جنگ لڑنے والے مسلم ملکوں کے حکمران طبقے کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے گروہی مفادات کے لیے جو جنگ لڑ رہے ہیں، اس کا خمیازہ معصوم اور بے گناہ مسلمان مردوں،خواتین اور بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔