امام عالی مقامؓ کی شہادت اور عہد حاضر کے چیلنجز

کربلا کا غم انگیز سانحہ اس اعتبار سے تاریخ ساز اور چشم کشا ہے کہ حق کے لیے امام عالی مقام نے جو پرچم بلند کیا۔

کربلا کا غم انگیز سانحہ اس اعتبار سے تاریخ ساز اور چشم کشا ہے کہ حق کے لیے امام عالی مقام نے جو پرچم بلند کیا۔ فوٹو: فائل

میدان کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے رفقاء کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا، شہیدان کربلا کی یاد عصر حاضر کے وسیع تر تناظر میں بے مثال جذبہ حسینی، روحانی پیغام اور حضرت امام حسینؓ کی لازوال شہادت کے ان مقاصد حقیقی کے ساتھ منائی گئی کہ جن کی روشنی میں ہر عہد کے جبر و استبداد کے خلاف واقعہ کربلا ایک استعارہ بن گیا ہے، حسینیت کا پرچم سربلند ہوا، امام عالی مقام نے اسلام کے ابدی اور دائمی اصول حکمرانی، حق پرستی کے لیے ملوکیت، موروثی مطلق العنانیت کو للکارا اوراسلام کی سربلندی کے لیے ''سرداد نہ داد دست در دست یزید'' کی غیر متزلزل اور روشن تاریخ رقم کی۔

اس موقع پر علماء کرام، مورخین اور ذاکرین نے شہدائے کربلا کی تعلیمات اور عظیم الشان قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ کربلا استبدادیت اور سفاکیت کے خلاف امام عالی مقام کے عزم و استقلال، جرات و شجاعت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا ناقابل بدل تاریخی حوالہ ہے جس پر انسانیت تا قیامت ناز کرے گی۔

آج مسلم امہ کے لیے حضرت امام حسینؓ اور ان کے 72 جان نثاروں کی عظیم قربانیوں کی یاد اس تاریخی شعور سے ہم آہنگ ہونی چاہیے جس کا چراغ حسینیت کے لہو سے روشن ہوا، اسی روشنی کے تسلسل اور وجود سے باطل قوتوں پر لرزا طاری ہونا چاہیے اور اسلام کے خلاف سازشیں دم توڑتی رہیں۔

کربلا کا غم انگیز سانحہ اس اعتبار سے تاریخ ساز اور چشم کشا ہے کہ حق کے لیے امام عالی مقام نے جو پرچم بلند کیا اس سے اسلام کے سرمدی اصولوں کی آبیاری ہر عہد میں ہوتی رہے گی، تب باطل رسوا ہوگا جب کہ یزیدی قوتوں کو اپنے ظلم سمیت سرنگوں ہونا پڑیگا۔ تاریخ کے اوراق یہ صدا دیتے ہوئے کبھی نہیں تھکیں گے کہ

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول

تڑپی ہے تجھ پہ لاش ِ جگر گوشۂ بتول


اسلام کے لہو سے تری پیاس بجھ گئی

سیراب کرگیا تجھے خون ِ رگ ِ رسول

مسلمانان عالم کے سامنے کربلا حق و باطل کے درمیان نظریاتی معرکہ کا فیصلہ کن اختتام ہے جو ہر مسلمان میں محرم الحرام کی دس ویں تاریخ سے خاص نسبت پیدا کرتا ہے، وقت کی ضرورت ہے کہ اہل وطن اس غم ناک فضا کو در حقیقت اسلام اور جذبہ حسینیت کی طاقت میں بدلیں، فرقہ واریت، بدامنی اور نفرت و منافقت کی ہر شکل کو مسمار کریں، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیں، حضور اکرم ؐ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کو شعار بنائیں، نواسۂ رسولؐ کی شہادت کی یاد جذبہ ایمانی کو دو چند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے امام عالی مقام، اہلبیت اور پاک پردہ داران توحید و رسالت کو جن دشنام نصیب قوتوں نے صعوبتوں سے دوچار کیا وہ کربلا کے تاریخ کے ولن شمار ہونگے، یہی پیغام ہے یوم عاشور کا۔

قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے غیر معمولی سیکیورٹی کے انتہائی موثر اور سخت انتظامات کیے لاہور، ملتان، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، کراچی، حیدر آباد، سکھر، پشاور، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں ڈبل سواری پر پابندی جب کہ ماتمی جلوسوں کے روٹ پر موبائل فون سروس معطل رہی، ملک بھر میں نویں محرم الحرام پر تعزیہ اور ذوالجناح کے جلوس نکالے گئے، حساس مقامات اور شہروں میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور مانیٹرنگ کے لیے جلوس کے روٹ اور حساس مقامات پر جدید ٹیکنالوجی کے15ریوالونگ کیمروں سمیت 145 کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے نصب، مرکزی جلوس کی دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نگرانی کی گئی، محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی پولیس کی معاونت کے لیے بعض مقامات پر پاک فوج اور پولیس و رینجرز کے دستے بھی الرٹ رہے۔

سیدالشہداء نواسہ رسول جگر گوشہ بتول امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسینؓ اور ان کے دیگر رفقاء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے عظیم الشان ''شہادت امام حسین کانفرنس'' کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر علماء کرام حضرت امام حسینؓ کی تعلیمات اور دین اسلام کے لیے عظیم قربانیوں پر روشنی ڈالی، مقررین کا کہنا تھا کہ ملک پرآشوب دور سے گزر رہا ہے، ایسے حالات میں امت مسلمہ کے بچاؤ اور سرخروئی کا واحد راستہ راہ کربلا ہے، نواسہ ٔرسول ؐ امام حسین ؓنے اپنا کل سرمایہ لٹا کر سرمایہ ٔ انبیا شریعت مصطفی ؐ کو بچا لیا۔

آج حسینؓ کا ذکر پوری کائنات میں مظلوموں کا حوصلہ اور فتح کی نوید بن کر جگمگا رہا ہے۔ حسینؓ نبی کی محبت کا استعارہ تھے۔امت مسلمہ کی رہنمائی کے لیے یوم عاشور بہترین منشور ہے، ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہی حسینیت ہے اور یہ حقیقت اب دنیا بھر کے اہل اقتدار کے قلب و ذہن پر بھی منقش ہونی چاہیے کہ کربلا کا سانحہ اور حضرت امام حسینؓکی طاغوت کے خلاف چراغ مصطفوی کی ستیزہ کاری در اصل بو لہبی کو زمین بوس کرنے کی جنگ سے عبارت ہے۔

 
Load Next Story