بد ترین بد امنی اور بد انتظامی ٹرانسپورٹرز کا نئی بسیں چلانے سے گریز پرانی بسوں پر اکتفا

خراب سڑکیں،تجاوزات، گاڑیاں جلانا اورچنگ چی رکشوں کی بہتات بھی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی بندش کا اہم سبب ہیں

شہر کی ایک شاہراہ سے خستہ حال بس گزررہی ہے ،ٹریفک پولیس کی نااہلی کے سبب فٹنس کے بغیر بسیں سڑکوں پررواں دواں دکھائی دیتی ہیں ۔ فوٹو آن لائن

ISLAMABAD:
کراچی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال ، سڑکوں کی خستہ حالی ، تجاوزات کی بھرمار۔

ہڑتالوں اور احتجاج کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کو نذر آتش کرنے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کی عدم دلچسپی کے سبب ٹرانسپورٹرز نے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری بند کردی ہے،شہر میں چنگ چی رکشوں اور 6سیٹ سے11سیٹ والے رکشوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کی تعداد میں نمایاں کمی ہورہی ہے اور گزشتہ 5 سال کے دوران بسوں،منی بسوں اور کوچز کی تعداد 20ہزار سے کم ہوکر 13ہزار رہ گئی ہے،کراچی جیسے بڑے شہر میں اب سڑکوں پر بڑی پبلک ٹرانسپورٹ کے بجائے رکشے ،ٹیکسی اور چنگ چی رکشے ہر علاقے میں نظر آتے ہیں۔

اس صورتحال پرکراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری نے ایکسپریس کو بتایا کہ کراچی کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے شہر میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے،انھوں نے کہا کہ2000ء تک کراچی میں بسوں ، منی بسوں اور کوچز کی تعداد 20ہزار تھی جو اب کم ہو کر 13ہزار رہ گئی، انھوں نے کہا کہ شہر میں اب بڑی بسوں کے بجائے ہر روٹ پر چنگ چی رکشے اور 6سے 11سیٹر رکشے چل رہے ہیں اور ان کی تعداد روزبروز بڑھنے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔




انھوں نے کہا کہ پہلے یومیہ بس اور منی بس مالکان کو 1200سے 1500 روپے کی بچت ہوتی تھی تاہم اب سی این جی بحران اور دیگر وجوہات کی بنا پر ٹرانسپورٹرز کو صرف 400سے 500روپے بچ رہے ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز بسیں اور منی بسیں اسکریپ والوں کو فروخت کررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ کراچی میں یومیہ 10بسیں اور منی بسیں اسکریپ میں فروخت کی جارہی ہیں اور اگر یہی صورتحال رہی تو رواں سال کے آخر تک کراچی میں بسوں اور منی بسوں کی تعداد کم ہو کر 10ہزار تک رہ جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ 2000ء سے پہلے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہر سال ایک ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاتی تھی تاہم اب کراچی کے حالات اور ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں بدحالی کے باعث سرمایہ کاری کا عمل رک گیا ہے ،انھوں نے کہا کہ جو گاڑیاں 10سے 20لاکھ روپے میں خریدی گئی تھیں وہ مختلف وجوہات کی بناء پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور اب یہ گاڑیاں اسکریپ میں 3لاکھ روپے میں فروخت کی جارہی ہیں ۔انھوں نے کہا کہ کراچی میں اگر ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتری لانی ہے تو 10ہزار بڑی بسیں چلانے کی ضرورت ہے اور اس کیلیے تقریباً 15سے 20ارب روپے کی سرمایہ کاری درکار ہے ۔
Load Next Story