لالہ سدھیر نے پاکستان کو پہلی گولڈن جوبلی فلم دی

40سالہ فلمی کیرئیر کے دوران 70اردو اور 101 پنجابی فلموں میں پرفارم کیا

40سالہ فلمی کیرئیر کے دوران 70اردو اور 101 پنجابی فلموں میں پرفارم کیا. فوٹو : فائل

پاکستان کے پہلے ایکشن ہیرو لالہ سدھیر نے کیرئیر کا آغاز بالی وڈ سے فلم ''فرض سے کیا۔

1922 کو لاہور میں پیدا ہونیوالے لالہ سدھیر کا اصل نام شاہ زمان خان آفریدی تھا اور مادری زبان پشتو تھی ۔1947کو بالی وڈ میں آغاز کے بعد بھی فلمی سفر جاری رکھا ۔پاکستانی سینما کے لیے 1940کے دوران سرگرم ہوئے ۔لالہ سدھیر اداکارہونے کے ساتھ ،اچھے فلمساز اور ہدایتکار بھی تھے ۔ سدھیر کی پہلی پاکستانی کامیاب فلم ''ہچکولے ''تھی جو 1949میں سینماگھروں کی زینت بنی ۔انھوں نے اس کے بعد کئی کامیاب پنجابی اور اردو فلمیں دیں ،سدھیر نے 40سالہ فلمی کیرئیر کے دوران مجموعی طور پر 173فلموں میں پرفارم کیا ۔




ان میں 70اردو اور 101 پنجابی فلمیں تھیں ۔انھوں نے کئی یادگار فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ۔1952میں فلم ''دوپٹہ''اور 1954کے دوران ان کی فلم ''سسی ''نے پہلی پاکستانی فلم کی حیثیت سے سینماؤں پر گولڈن جوبلی کی ۔اسی دور میں فلم ''دلا بھٹی''،''ماہی منڈا''اور ''یکے والی ''نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ۔چین میں دکھائی جانیوالی پاکستان کی پہلی فلم ''باغی ''کے ہیرو بھی سدھیر ہی تھے۔ 1956 میں فلم ''حاتم ''میں حاتم تائی کا کردار نبھایا ۔ 1958 میں فلم ''انارکلی'' میں شہزادہ سلیم بنے ۔اسی عرصہ میں ''غالب''میں مرزا غالب کا کردار اداکیا۔

سدھیر کی فلم ''گل بکاؤلی ''اور ''نوراں''کو بھی شہرت ملی ۔انگریز دور کے خلاف بغاوت کے موضوع پر فلم ''کرتار سنگھ''،''فرنگی ''اور ''عجب خان''میں آزادی کی جدو جہد کرنیوالے ہیروز کے کردار کیے ۔1965کے دوران سدھیر کی پنجابی فلم ''جی دار ''کو پہلی پاکستان کی پلاٹینیم جوبلی کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ 1960 میں فلم ''ساحل''کے لیے سدھیر کی اصلی شیر سے لڑائی بھی فلمبند کی گئی ۔ان کے بیٹے شاہ زمان نے بھی فلم میں کام کیا ۔1978میں سدھیر بیٹے کے ساتھ فلم ''دشمن کی تلاش''میں جلوہ گرہوئے۔سدھیر کی آخری فلم ''سن آف ان داتا ''تھی ۔سدھیر 19جنوری 1997کو 75سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔
Load Next Story