ہاکی کی تباہی سابق اولمپئنز کا وزیراعظم سے نوٹس کا مطالبہ
غیر ملکی کوچ کا مستعفی ہوجانا پی ایچ ایف کی ناکامی ہے، سمیع اللہ ودیگر
غیر ملکی کوچ کا مستعفی ہوجانا پی ایچ ایف کی ناکامی ہے، سمیع اللہ ودیگر فوٹو: فائل
پاکستان کے نامور ہاکی کھلاڑیوں نے قومی ہاکی ٹیم کے غیرملکی ہیڈکوچ کے مستعفی ہوجانے کو پی ایچ ایف کی مکمل طور پر ناکامی قرار دیا ہے، ہاکی لیجنڈز نے پاکستان ہاکی کو تباہی سے بچانے کے لیے وزیر اعظم سے مداخلت اور چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کردی۔
اپنے دور کے عظیم کھلاڑی اور سابق کپتان اولمپئن سمیع اللہ خان نے کہا ہے کہ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈکوچ رولینٹ اولٹمنز کا مستعفی ہونا قومی فیڈریشن کی نااہلی اور بد انتظامی کا نتیجہ ہے، ایک خطیر زر مبادلہ کے عوض غیرملکی کوچ کو لانے کا فیصلہ ہی غلط تھا، جس سے بھاری رقم کے ضیاع کے سوا کچھ حاصل نہ ہوسکا، کنٹریکٹ دلانے کے لیے معمولی کمیشن کے لیے قوم کو نقصان پہنچایا گیا، سمیع اللہ خان نے کہا کہ اولٹمنز نے پاکستان ہاکی ٹیم کے مورال کو بہت نقصان پہنچایا، اس کی زیر نگرانی چیمپئنز ٹرافی اور ایشین گیمز سمیت دیگر انٹرنیشنل ایونٹس میں پاکستان ہاکی ٹیم سے مطلوبہ نتائج نہیں حاصل کیے جاسکے۔
تاہم اس کے لیے قومی کھلاڑیوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے پی ایچ ایف کے ذمہ داران کو اپنی غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے از خود گھر چلے جانا چاہیے، فلائنگ ہارس کے نام سے معروف اولمپئن نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے قومی کھیل کو بچانے کے لیے درست سمت میں راست اقدامات کیے جائیں، فیڈریشن کی منیجمنٹ میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی، اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان سے ہاکی کا نام و نشان مٹ کر رہ جائے گا، چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ رہنے والے ایک اور سابق قومی کپتان اولمپئن حنیف خان نے کہا کہ پی ایچ ایف اپنا بویا کاٹ رہی ہے، صرف مفادات کی سیاست کرکے قومی کھیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا جس کا احتساب کرنا ضروری ہے، انھوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت ملبہ کھلاڑیوں پر ڈال کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی جارہی ہے جو قطعی طور پر درست نہیں، وزیر اعظم پاکستان عمران خان خود ایک پائے کے کھلاڑی رہے ہیں۔
پاکستان ہاکی بچانے کے لیے ان کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر مفاد پرست ٹولہ قومی ہاکی کو مزید زوال اور پستی میں لے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا، ایک اور معروف سابق عالمی کھلاڑی اولمپئن منظور جونیئر نے کہا کہ غیر ملکی ہیڈ کوچ فیڈریشن حکام کے رویہ سے نالاں ہونے کے بعد مستعفی ہونے پر مجبور ہوا، اسے چندہ کرکے تنخواہ ادا کرنے کی پالیسی اپناکر حقیر بنایا گیا جبکہ آزادانہ کام کرنے کی بجائے اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، انھوں نے کہا کہ پی ایچ ایف پر مسلط سسکتا ہوا ٹولہ جاتے جاتے بھی لوٹ مار کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔
منظور جونیئر نے درخواست کی ہے کہ قومی ہاکی کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس فوری طور پر از خود نوٹس لیں، دریں اثنا پی ایچ ایف کے سابق خازن اور کے ایچ اے کے چیئرمین گلفراز احمد خان نے بھی ہیڈ کوچ کے مستفعی ہونے پر پی ایچ ایف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مالی اور انتظامی معاملات میں بے ضابطگیاں اور بد اعمالیاں اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہیں، فیڈریشن کا دیوالیہ نکل چکا ہے، ذمہ داران کو قومی کھیل کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اپنے دور کے عظیم کھلاڑی اور سابق کپتان اولمپئن سمیع اللہ خان نے کہا ہے کہ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈکوچ رولینٹ اولٹمنز کا مستعفی ہونا قومی فیڈریشن کی نااہلی اور بد انتظامی کا نتیجہ ہے، ایک خطیر زر مبادلہ کے عوض غیرملکی کوچ کو لانے کا فیصلہ ہی غلط تھا، جس سے بھاری رقم کے ضیاع کے سوا کچھ حاصل نہ ہوسکا، کنٹریکٹ دلانے کے لیے معمولی کمیشن کے لیے قوم کو نقصان پہنچایا گیا، سمیع اللہ خان نے کہا کہ اولٹمنز نے پاکستان ہاکی ٹیم کے مورال کو بہت نقصان پہنچایا، اس کی زیر نگرانی چیمپئنز ٹرافی اور ایشین گیمز سمیت دیگر انٹرنیشنل ایونٹس میں پاکستان ہاکی ٹیم سے مطلوبہ نتائج نہیں حاصل کیے جاسکے۔
تاہم اس کے لیے قومی کھلاڑیوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے پی ایچ ایف کے ذمہ داران کو اپنی غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے از خود گھر چلے جانا چاہیے، فلائنگ ہارس کے نام سے معروف اولمپئن نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے قومی کھیل کو بچانے کے لیے درست سمت میں راست اقدامات کیے جائیں، فیڈریشن کی منیجمنٹ میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی، اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان سے ہاکی کا نام و نشان مٹ کر رہ جائے گا، چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ رہنے والے ایک اور سابق قومی کپتان اولمپئن حنیف خان نے کہا کہ پی ایچ ایف اپنا بویا کاٹ رہی ہے، صرف مفادات کی سیاست کرکے قومی کھیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا جس کا احتساب کرنا ضروری ہے، انھوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت ملبہ کھلاڑیوں پر ڈال کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی جارہی ہے جو قطعی طور پر درست نہیں، وزیر اعظم پاکستان عمران خان خود ایک پائے کے کھلاڑی رہے ہیں۔
پاکستان ہاکی بچانے کے لیے ان کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر مفاد پرست ٹولہ قومی ہاکی کو مزید زوال اور پستی میں لے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا، ایک اور معروف سابق عالمی کھلاڑی اولمپئن منظور جونیئر نے کہا کہ غیر ملکی ہیڈ کوچ فیڈریشن حکام کے رویہ سے نالاں ہونے کے بعد مستعفی ہونے پر مجبور ہوا، اسے چندہ کرکے تنخواہ ادا کرنے کی پالیسی اپناکر حقیر بنایا گیا جبکہ آزادانہ کام کرنے کی بجائے اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، انھوں نے کہا کہ پی ایچ ایف پر مسلط سسکتا ہوا ٹولہ جاتے جاتے بھی لوٹ مار کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔
منظور جونیئر نے درخواست کی ہے کہ قومی ہاکی کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس فوری طور پر از خود نوٹس لیں، دریں اثنا پی ایچ ایف کے سابق خازن اور کے ایچ اے کے چیئرمین گلفراز احمد خان نے بھی ہیڈ کوچ کے مستفعی ہونے پر پی ایچ ایف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مالی اور انتظامی معاملات میں بے ضابطگیاں اور بد اعمالیاں اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہیں، فیڈریشن کا دیوالیہ نکل چکا ہے، ذمہ داران کو قومی کھیل کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔