ڈیری مافیا کی من مانیاں ملیر میں دودھ 100 روپے فی لیٹر فروخت کیا جانے لگا
شکایات کے باجود ڈپٹی کمشنر کورنگی کا کارروائی سے گریز، عوام کو ڈیری مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا
دودھ فروشوں کی جانب سے سرکاری نرخ سے 6 روپے فی لیٹر زائد وصول کرنا عوام پر ظلم کے مترادف ہے، مکین فوٹو:فائل
KARACHI:
ڈیری مافیا اورمتعلقہ سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے ملیرکے کئی علاقوں میں دودھ من مانی قیمت پرفروخت کیا جانے لگا۔
تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل شہر قائد میں دودھ کے سرکاری نرخ 80 روپے سے بڑھا کر 94 روپے فی لیٹر مقرر کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود ڈیری مافیا کی تسکین نہیں ہوئی اور ملیر کے کئی علاقوں میں دودھ کی من مانی قیمتیں وصول کرنا شروع کردی ہیں، متعلقہ سرکاری افسران کی ملی بھگت سے دودھ فروش اور باڑہ مالکان خالص دودھ کے نام پر 6 روپے فی لیٹر زائد وصول کررہے ہیں جس پر مکینوں نے شدید احتجاج کیا ہے، شہریوں کے مطابق دودھ کی من مانی قیمتیں وصول کیے جانے پر ڈپٹی کمشنر ضلع کورنگی ۔
ان کے عملے اور روک تھام کے دیگر اداروں نے چپ سادھ رکھی ہے اور شہریوں کو ڈیری مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ، مکینوں کے مطابق ملیر کے علاقے بابا گشت علی شاہ مزار کے قریب رفیع بنگلوز میں واقع ناگوری ملک شاپ ، ملیر مندر بس اسٹاپ پر سراج مسجد کے قریب واقع ناگوری ملک شاپ، گلشن رفیع میں کشمیر ہوٹل اور ریواڑی سوئٹس کے قریب قائم چاند ناگوری ملک شاپ، سلمان ٹیرس بلاک اے میں واقع ناگوری ملک شاپ سمیت دیگر دودھ کی دکانوں پر کھلے عام 100روپے فی لیٹر دودھ فروخت کیا جارہا ہے۔
تاہم کئی شکایات کے باوجود قیمتوں کوکنڑول کرنے والے اداروں اور نہ ہی ضلع کورنگی کے ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے کوئی کارروائی کی جارہی ہے ، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں دودھ فروشوں کی جانب سے6 روپے فی لیٹر زائد وصول کرنا شہریوںپر ظلم کے مترادف ہے انھوں نے مطالبہ کیا کہ دودھ کی سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد کرایا جائے تاکہ شہری دودھ کی من مانی قیمتوں سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔
ڈیری مافیا اورمتعلقہ سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے ملیرکے کئی علاقوں میں دودھ من مانی قیمت پرفروخت کیا جانے لگا۔
تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل شہر قائد میں دودھ کے سرکاری نرخ 80 روپے سے بڑھا کر 94 روپے فی لیٹر مقرر کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود ڈیری مافیا کی تسکین نہیں ہوئی اور ملیر کے کئی علاقوں میں دودھ کی من مانی قیمتیں وصول کرنا شروع کردی ہیں، متعلقہ سرکاری افسران کی ملی بھگت سے دودھ فروش اور باڑہ مالکان خالص دودھ کے نام پر 6 روپے فی لیٹر زائد وصول کررہے ہیں جس پر مکینوں نے شدید احتجاج کیا ہے، شہریوں کے مطابق دودھ کی من مانی قیمتیں وصول کیے جانے پر ڈپٹی کمشنر ضلع کورنگی ۔
ان کے عملے اور روک تھام کے دیگر اداروں نے چپ سادھ رکھی ہے اور شہریوں کو ڈیری مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ، مکینوں کے مطابق ملیر کے علاقے بابا گشت علی شاہ مزار کے قریب رفیع بنگلوز میں واقع ناگوری ملک شاپ ، ملیر مندر بس اسٹاپ پر سراج مسجد کے قریب واقع ناگوری ملک شاپ، گلشن رفیع میں کشمیر ہوٹل اور ریواڑی سوئٹس کے قریب قائم چاند ناگوری ملک شاپ، سلمان ٹیرس بلاک اے میں واقع ناگوری ملک شاپ سمیت دیگر دودھ کی دکانوں پر کھلے عام 100روپے فی لیٹر دودھ فروخت کیا جارہا ہے۔
تاہم کئی شکایات کے باوجود قیمتوں کوکنڑول کرنے والے اداروں اور نہ ہی ضلع کورنگی کے ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے کوئی کارروائی کی جارہی ہے ، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں دودھ فروشوں کی جانب سے6 روپے فی لیٹر زائد وصول کرنا شہریوںپر ظلم کے مترادف ہے انھوں نے مطالبہ کیا کہ دودھ کی سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد کرایا جائے تاکہ شہری دودھ کی من مانی قیمتوں سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔