منی بجٹ اور وزیرخزانہ کا انداز نظر
ملک میں سب سے زیادہ نظر اندازکیا جانے والے طبقہ ہے کاشتکار ۔ جو اپنا خون پسینہ ایک کرکے دھرتی پر اناج اگاتے ہیں۔
ملک میں سب سے زیادہ نظر اندازکیا جانے والے طبقہ ہے کاشتکار ۔ جو اپنا خون پسینہ ایک کرکے دھرتی پر اناج اگاتے ہیں۔ فوٹو:فائل
گزشتہ پیر کو قومی اسمبلی کا اہم اجلاس تھا ،کیونکہ اس میں '' بجٹ '' زیر بحث تھا ، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے اپنے، اپنے موقف پر زور انداز میں پیش کیے، دونوں کے پاس دلائل کی کمی نہ تھی۔ دراصل یہ بجٹ اس حوالے سے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے کہ پی ٹی آئی کی نئی حکومت کیا کرنا چاہتی ہے اور اس کی ترجیحات کیا ہے، جو پہلی باروفاق میں اور تین صوبوں میں برسر اقتدار آئی ہے۔
عوام کو تحریک انصاف کی حکومت سے بہت زیادہ توقعات ہیں وہ اس نظام کو تبدیل کرنے اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کیا اقدامات اٹھائی گی۔ اس موقعے پر وزیرخزانہ اسد عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غریب آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں بڑھایا گیا ہے، امیروں کے لیے گیس کی قیمت میں 145فیصد اضافہ کیا گیا ، گیس کمپنیوں کو 154 ارب کا خسارہ تھا جوگزشتہ دور حکومت کا پیدا کردہ ہے،کاشتکاروں کو متاثر نہیں ہونے دیںگے، ہم ٹیکس چوروں کے پیچھے جائیں گے، حکومت کو آئے ہوئے ابھی ایک ماہ ہوا ہے آگے آگے دیکھیے اب ہوتا ہے کیا۔
غریب ایل پی جی خریدتا ہے جس پر30 فیصد ٹیکس لگا ہوا تھا ، ہم نے سلنڈر پر ٹیکس30 فیصد سے کم کرکے10فیصد کردیا ہے، ریگولیٹری ڈیوٹی پرتعیش اشیا پر لگائی، بالواسطہ ٹیکس1800سی سی گاڑی پر بڑھایا گیا ہے،کھادکی قیمت نہیں بڑھائیںگے بلکہ کھاد پرچھ سے سات ارب روپے کی سبسڈی دیںگے۔
اسد عمر ایک ماہر معیشت دان ہیں اور اس شعبے میں ایک وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں ۔انھوں نے دوران تقریر جن ترجیحات کا تذکرہ کیا ہے، یقینا وہ انتہائی مناسب اور بروقت ہیں، سردیوں میں گیس کی شدید کمی کے باعث عوام کو ایل پی جی سلنڈر مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے تاکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر چولہے پر اپنا کھانا پکا سکیں، لیکن کثیر ٹیکس شرح کی وجہ سے قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا رہتا تھا جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے اضافی مالی بوجھ تھا، دوسری جانب دیکھا جائے تو اگر لگژری کاروں اور پرتعیش اشیاء پر ٹیکس لگایا گیا ہے تو یہ کوئی غلط بات نہیں بلکہ انتہائی مناسب عمل ہے ۔
ملک میں سب سے زیادہ نظر اندازکیا جانے والے طبقہ ہے کاشتکار ۔ جو اپنا خون پسینہ ایک کرکے دھرتی پر اناج اگاتے ہیں ، لیکن نہ تو ان کے مسائل پر لکھا جاتا ہے نہ احتجاج ہوتا ہے اور نہ ہی ہڑتالیں ۔ نہ انھیں آسان شرائط پر قرضے ملتے ہیں بلکہ الٹا بجلی انتہائی مہنگے داموں ملتی ہے ، ان کے پاس توکیڑے مار ادویات اور کھادوں تک کی خریداری کے لیے رقم نہیں ہوتی ۔ان کے لیے باقاعدہ ایک زرعی پالیسی کی ضرورت ہے ۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ کاشتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دے ۔ بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ 6 لاکھ 35 ہزار ٹن یوریا کھاد برآمدکرنے کی اجازت دی گئی ہے، برآمد سے خریف کی فصلوں کے لیے کم کھاد دستیاب ہوئی اور قیمت بڑھ گئی، روپے کی قدر میں خطیر کمی واقع ہوئی ہے، ایک سال میں بجلی کے شعبے میں سالانہ خسارہ 453 ارب ہوگیا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں ریکارڈ قرضے لیے گئے، ہم کہتے رہے ایکسپورٹرزکو اپنے پاؤں پرکھڑا کر دیں ہماری ایک نہ سنی گئی ۔
پنجاب کے لیے گیس کی قیمت اتنی بڑھائی گئی کہ ٹیکسٹائل فیکٹریوںکی مشینری لوہے کے بھاؤ بکنے لگی، ہم نے انھیں 40ارب روپے گیس کی مد میں رعایت دی ، 503 ارب روپے گردشی قرضے میں سے 480 ارب فوری ادا کیے گئے،اب گردشی قرضہ1100 ارب روپے پر پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومت کے بجٹ پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ برسوں عوام کی غربت کا رونا رویا گیا اور آج عوام پر منی بجٹ کی صورت میں مہنگائی کا بم گرا دیا گیا، منی بجٹ میں183ارب کے نئے ٹیکس لگائے گئے، متوسط طبقے کے لیے گیس کی قیمت بڑھا دی گئی ہے،کسان پر بوجھ ڈالنے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا، نان ٹیکس فائلر پورے ملک میں گاڑیاں اور پراپرٹی خرید سکتا ہے، آمر مشرف نے 2005 میں بھاشا ڈیم کا فیتہ کاٹا لیکن ایک انچ زمین نہیں خریدی، یہ کریڈٹ بھی نوازشریف کی حکومت کو جاتا ہے کہ 122ارب روپے خرچ کرکے دیا مر بھاشا ڈیم کی زمین خریدی ۔
اپوزیشن رہنما کی بجٹ اورحکومت پر تنقید اپنی جگہ ، لیکن وفاقی وزیر خزانہ نے انتہائی دردمندی سے قوم کے سامنے نئی حکومت کی مشکلات کو بیان کیا ہے اور ان مشکلات کا حل بھی بتایا ہے، بجٹ بظاہر تو اعداد وشمارکا کھیل ہے جو عام آدمی کی سمجھ میں کم ہی آتا ہے اوراس کی بنیادی دلچسپی اس بات میں ہوتی ہے کہ اسے کتنا ریلیف ملے گا ، اگر حکومتی بجٹ اور اقدامات کے نتیجے میں بتدریج ''تبدیلی'' کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور اسد عمر اور ان کے معاشی ماہرین کی ٹیم معیشت کے پہاڑ جیسے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ عوام کے لیے بہت بڑا ریلیف اور بریک تھرو ہوگا ۔
عوام کو تحریک انصاف کی حکومت سے بہت زیادہ توقعات ہیں وہ اس نظام کو تبدیل کرنے اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کیا اقدامات اٹھائی گی۔ اس موقعے پر وزیرخزانہ اسد عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غریب آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں بڑھایا گیا ہے، امیروں کے لیے گیس کی قیمت میں 145فیصد اضافہ کیا گیا ، گیس کمپنیوں کو 154 ارب کا خسارہ تھا جوگزشتہ دور حکومت کا پیدا کردہ ہے،کاشتکاروں کو متاثر نہیں ہونے دیںگے، ہم ٹیکس چوروں کے پیچھے جائیں گے، حکومت کو آئے ہوئے ابھی ایک ماہ ہوا ہے آگے آگے دیکھیے اب ہوتا ہے کیا۔
غریب ایل پی جی خریدتا ہے جس پر30 فیصد ٹیکس لگا ہوا تھا ، ہم نے سلنڈر پر ٹیکس30 فیصد سے کم کرکے10فیصد کردیا ہے، ریگولیٹری ڈیوٹی پرتعیش اشیا پر لگائی، بالواسطہ ٹیکس1800سی سی گاڑی پر بڑھایا گیا ہے،کھادکی قیمت نہیں بڑھائیںگے بلکہ کھاد پرچھ سے سات ارب روپے کی سبسڈی دیںگے۔
اسد عمر ایک ماہر معیشت دان ہیں اور اس شعبے میں ایک وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں ۔انھوں نے دوران تقریر جن ترجیحات کا تذکرہ کیا ہے، یقینا وہ انتہائی مناسب اور بروقت ہیں، سردیوں میں گیس کی شدید کمی کے باعث عوام کو ایل پی جی سلنڈر مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے تاکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر چولہے پر اپنا کھانا پکا سکیں، لیکن کثیر ٹیکس شرح کی وجہ سے قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا رہتا تھا جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے اضافی مالی بوجھ تھا، دوسری جانب دیکھا جائے تو اگر لگژری کاروں اور پرتعیش اشیاء پر ٹیکس لگایا گیا ہے تو یہ کوئی غلط بات نہیں بلکہ انتہائی مناسب عمل ہے ۔
ملک میں سب سے زیادہ نظر اندازکیا جانے والے طبقہ ہے کاشتکار ۔ جو اپنا خون پسینہ ایک کرکے دھرتی پر اناج اگاتے ہیں ، لیکن نہ تو ان کے مسائل پر لکھا جاتا ہے نہ احتجاج ہوتا ہے اور نہ ہی ہڑتالیں ۔ نہ انھیں آسان شرائط پر قرضے ملتے ہیں بلکہ الٹا بجلی انتہائی مہنگے داموں ملتی ہے ، ان کے پاس توکیڑے مار ادویات اور کھادوں تک کی خریداری کے لیے رقم نہیں ہوتی ۔ان کے لیے باقاعدہ ایک زرعی پالیسی کی ضرورت ہے ۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ کاشتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دے ۔ بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ 6 لاکھ 35 ہزار ٹن یوریا کھاد برآمدکرنے کی اجازت دی گئی ہے، برآمد سے خریف کی فصلوں کے لیے کم کھاد دستیاب ہوئی اور قیمت بڑھ گئی، روپے کی قدر میں خطیر کمی واقع ہوئی ہے، ایک سال میں بجلی کے شعبے میں سالانہ خسارہ 453 ارب ہوگیا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں ریکارڈ قرضے لیے گئے، ہم کہتے رہے ایکسپورٹرزکو اپنے پاؤں پرکھڑا کر دیں ہماری ایک نہ سنی گئی ۔
پنجاب کے لیے گیس کی قیمت اتنی بڑھائی گئی کہ ٹیکسٹائل فیکٹریوںکی مشینری لوہے کے بھاؤ بکنے لگی، ہم نے انھیں 40ارب روپے گیس کی مد میں رعایت دی ، 503 ارب روپے گردشی قرضے میں سے 480 ارب فوری ادا کیے گئے،اب گردشی قرضہ1100 ارب روپے پر پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومت کے بجٹ پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ برسوں عوام کی غربت کا رونا رویا گیا اور آج عوام پر منی بجٹ کی صورت میں مہنگائی کا بم گرا دیا گیا، منی بجٹ میں183ارب کے نئے ٹیکس لگائے گئے، متوسط طبقے کے لیے گیس کی قیمت بڑھا دی گئی ہے،کسان پر بوجھ ڈالنے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا، نان ٹیکس فائلر پورے ملک میں گاڑیاں اور پراپرٹی خرید سکتا ہے، آمر مشرف نے 2005 میں بھاشا ڈیم کا فیتہ کاٹا لیکن ایک انچ زمین نہیں خریدی، یہ کریڈٹ بھی نوازشریف کی حکومت کو جاتا ہے کہ 122ارب روپے خرچ کرکے دیا مر بھاشا ڈیم کی زمین خریدی ۔
اپوزیشن رہنما کی بجٹ اورحکومت پر تنقید اپنی جگہ ، لیکن وفاقی وزیر خزانہ نے انتہائی دردمندی سے قوم کے سامنے نئی حکومت کی مشکلات کو بیان کیا ہے اور ان مشکلات کا حل بھی بتایا ہے، بجٹ بظاہر تو اعداد وشمارکا کھیل ہے جو عام آدمی کی سمجھ میں کم ہی آتا ہے اوراس کی بنیادی دلچسپی اس بات میں ہوتی ہے کہ اسے کتنا ریلیف ملے گا ، اگر حکومتی بجٹ اور اقدامات کے نتیجے میں بتدریج ''تبدیلی'' کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور اسد عمر اور ان کے معاشی ماہرین کی ٹیم معیشت کے پہاڑ جیسے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ عوام کے لیے بہت بڑا ریلیف اور بریک تھرو ہوگا ۔