صدر ٹرمپ کا جنرل اسمبلی میں خطاب

اپنے متن کی روح کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا خطاب دھمکیوں کا اعادہ تھا جو رقیبوں کو خبردار کرنے تک محدود رہا

اپنے متن کی روح کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا خطاب دھمکیوں کا اعادہ تھا جو رقیبوں کو خبردار کرنے تک محدود رہا۔ فوٹو: فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گلوبل نظریے کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو تنہا کردے، امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا زور خطابت ایران کو عالمی خطرہ ثابت کرنے پر خرچ ہوا، وال اسٹریٹ جرنل نے سرخی جمائی ''ایران ٹرمپ کا تختہ مشق بنا رہا۔''

صدر ٹرمپ نے کہا کہ مصر، اردن اور خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر اسٹرٹیجک اتحاد بنا رہے ہیں۔ دہشتگردوں کو ملنے والی فنڈنگ کے خلاف کام کریں گے۔واضح رہے امریکی سلامتی کے مشیر جان بولٹن بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کا ایران کو خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔

اپنے متن کی روح کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا خطاب دھمکیوں کا اعادہ تھا جو رقیبوں کو خبردار کرنے تک محدود رہا، ٹرمپ حسب عادت خوب گرجے برسے لیکن جنوبی ایشیائی ملکوں سمیت دنیا کے بیشتر حساس معاملات اور مسائل پر ان کی طرف سے کوئی بامعنی پالیسی بیان سامنے نہیں آیا، پاکستان افغانستان اور بھارت سمیت دیگر اتحادیوں پر ان کی توجہ نہیں گئی جب کہ اتحادیوں کو خانوں میں بانٹ کر انھوں نے فرمایا کہ بے وفا دوستوں امریکا کا احترام نہ کرنے والوں کو امریکا سے امداد کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

امریکی مبصرین اور میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب یہ کہا کہ ان کے عہد حکومت کی ایک سال کی مدت پوری امریکی سیاسی تاریخ پر بھاری ہے تو عالمی برادری کا ایوان کشت زعفران بن گیا، عالمی میڈیا کے مبصرین نے ٹرمپ کے خطاب پر کہا کہ امریکی صدر اپنے خطاب پر احساس تفاخر سے سرشار نظر آئے جب کہ امریکی ڈیموکریٹ رکن نکولس برنز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دنیا کی رہبری نہیں اس کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔

ایک ممتاز امریکی مبصر کے مطابق ٹرمپ کا خطاب ہم سب کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنا، جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کا غصہ جائز ہے کیونکہ ایرانی رہنما قومی وسائل ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی دھمکی کی آواز بھی عالمی سطح پر سنی گئی کہ نومبر سے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی لگائیں گے۔


امریکی صدر نے کہا کہ شمالی کوریا کے ساتھ معاملات مذاکرات سے حل کیے، شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کم کیے اور امریکی مغوی بھی رہا کر دیے ہیں ان اقدامات پر صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی بہادری کو سراہا اور انھیں جراتمند قراردیا، تاہم جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے تک شمالی کوریا پر پابندیاں برقرار رہنے کا عندیہ دیا۔ امریکا چین تجارتی جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ کسی ملک کو امریکی معیشت سے غلط فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے، چین کے ساتھ تجارتی معاملات میں امریکی مفادات کو ترجیح دیں گے۔

انھوں نے ٹریڈ وار کی بھی بات کی جب کہ فلسطین کے معاملے پر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن چاہتے ہیں اسی مقصد کے لیے امریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا۔ جنگ سے تباہ حال شام پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار نصب کیے تو امریکا کارروائی کرے گا، میرے صدارت سنبھالنے کے بعد امریکا مضبوط اور محفوظ ہوا ہے ہم نے امریکیوں کے لیے ملازمتوں میں اضافہ کیا ہے، ہم امریکا کو سب سے مضبوط اور محفوظ ملک بنانا چاہتے ہیں جب کہ ہماری قوم دیگر اقوام کے حقوق کا خیال رکھتی ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ وینزویلا حقیقی معنوں میں دنیا کی بری جگہوں میں سے ایک ہے، ٹرمپ نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک، چین کی تجارتی پالیسیوں اور عالمی عدالت انصاف پر شدید تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات نہیں ہوگی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ امریکی حکومت نے تمام عالمی اداروں کو غیرموثر کردیا ہے، موجودہ امریکی حکومت سے کیسے معاہدہ ہو جس نے پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو خراب کیا۔لیکن ایک تقریب میں ٹرمپ اور شاہ محمود قریشی میں ہونے والی ملاقات سے تعلقات کے از سرنو آغاز کی امید پیدا ہوچلی ہے، یہ ملاقات نیویارک میں ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران کے لیے نیک خواہشات کا پیغام دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عالمی صورتحال میں بگاڑ کی ایک وجہ بے سمتی کی شکار امریکی ڈپلومیسی، جنگجویانہ مہم جوئی، عالمی قیادت، بالادستی اور عالمی وسائل پر قبضہ گیری کی ہوس ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب کا موازنہ کرتے ہوئے سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ پچھلی تقریر میں ٹرمپ نے جنگ کا بگل بجایا تھا مگر اس بار ان کا خطاب تھریٹ کے بجائے تھیٹر کے مکالموں تک محدود رہا، مضحکہ خیز بڑھکیں ضرور مارتے رہے، ٹرمپ کی تقریر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تقریباً 200 سے زائد مندوبین اور وفود نے سنی لیکن ان کی باتوں پر تالیوں کی گونج کا کوئی فطری منظر نامہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر نکتہ چینی کا وہ یورپی ممالک کیا جواب دیں گے جو ایران امریکا ایٹمی معاہدے کے آج بھی حامی ہیں۔بہر حال ٹرمپ کو بدمست ہاتھی کہا جاتا ہے ، لہذا سب کو اپنے ''چائنا شاپ'' کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے۔
Load Next Story