پاکستان سے پولیو جلد ختم ہونے کا مژدہ
پولیو وائرس سیوریج کے پانی میں بھی پایا گیا ہے جس کے لیے حکومت کو بنیادی سہولتوں کا نظام بہتر بنانا ہوگا۔
پولیو وائرس سیوریج کے پانی میں بھی پایا گیا ہے جس کے لیے حکومت کو بنیادی سہولتوں کا نظام بہتر بنانا ہوگا۔ فوٹو: فائل
اس ہفتے پولیو وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی مہم آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جب کہ 26 ہزار سے زائد سرکاری اہلکار پانچ سال کی عمر سے کم 3کروڑ 86 لاکھ بچوں کو انسداد پولیو ویکسین فراہم کریں گے تاکہ ان کی زندگی پولیو کی مہلک بیماری سے محفوظ رہ سکے۔
پولیو کے خلاف جو عالمی مہم جاری ہے صرف افغانستان اور نائیجیریا میں اس بیماری کے اثرات موجود ہیں جب کہ پاکستان پولیو سے مکمل طور پر نجات حاصل کرنے کے قریب ہے جسکے بعد ہمارے ملک میں پولیو کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ اگر پاکستان میں مسلسل تین برس تک پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہ آیا تو پھر ہمارے ملک کو پولیو سے مکمل طور پر پاک قرار دیدیا جائے گا۔
اس حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) پاکستان کی معاونت کر رہی ہے۔ اس ضمن میں 2014ء سے پولیو کے خلاف بھرپور مہم شروع کی گئی ہے جب کہ ملک بھر میں پولیو کے صرف 306 کیسز رجسٹر کیے گئے تھے جب کہ 2016ء میں صرف 54 کیسز سامنے آئے تھے جب کہ 2017ء میں ان کی تعداد صرف آٹھ تھی اور اس سال ابھی تک صرف چار کیسز سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پولیو ورکرز کی ٹیموں پر مسلح حملوں کی وجہ سے اس مہم میں رخنہ اندازی ہوئی ہے ورنہ یہ بیماری پہلے ہی مکمل ختم ہو گئی ہوتی۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت میں بھی عسکریت پسند عناصر پولیو کے انسداد کی کوششوں میں کسی حد تک مزاحم ہیں تاہم ان پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ ایک اور مسئلہ پولیو ویکسین کی کم دستیابی کا بھی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پولیو وائرس سیوریج کے پانی میں بھی پایا گیا ہے جس کے لیے حکومت کو بنیادی سہولتوں کا نظام بہتر بنانا ہوگا جس کے لیے ناگزیر ہے کہ سیوریج کے پانی کو کہیں بھی کھڑا نہیں ہونے دیا جائے۔
پولیو کے خلاف جو عالمی مہم جاری ہے صرف افغانستان اور نائیجیریا میں اس بیماری کے اثرات موجود ہیں جب کہ پاکستان پولیو سے مکمل طور پر نجات حاصل کرنے کے قریب ہے جسکے بعد ہمارے ملک میں پولیو کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ اگر پاکستان میں مسلسل تین برس تک پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہ آیا تو پھر ہمارے ملک کو پولیو سے مکمل طور پر پاک قرار دیدیا جائے گا۔
اس حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) پاکستان کی معاونت کر رہی ہے۔ اس ضمن میں 2014ء سے پولیو کے خلاف بھرپور مہم شروع کی گئی ہے جب کہ ملک بھر میں پولیو کے صرف 306 کیسز رجسٹر کیے گئے تھے جب کہ 2016ء میں صرف 54 کیسز سامنے آئے تھے جب کہ 2017ء میں ان کی تعداد صرف آٹھ تھی اور اس سال ابھی تک صرف چار کیسز سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پولیو ورکرز کی ٹیموں پر مسلح حملوں کی وجہ سے اس مہم میں رخنہ اندازی ہوئی ہے ورنہ یہ بیماری پہلے ہی مکمل ختم ہو گئی ہوتی۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت میں بھی عسکریت پسند عناصر پولیو کے انسداد کی کوششوں میں کسی حد تک مزاحم ہیں تاہم ان پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ ایک اور مسئلہ پولیو ویکسین کی کم دستیابی کا بھی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پولیو وائرس سیوریج کے پانی میں بھی پایا گیا ہے جس کے لیے حکومت کو بنیادی سہولتوں کا نظام بہتر بنانا ہوگا جس کے لیے ناگزیر ہے کہ سیوریج کے پانی کو کہیں بھی کھڑا نہیں ہونے دیا جائے۔