نئے روشن پاکستان کی بنیاد

نوازشریف کے خطاب میں عاجزی اور انکساری نمایاں تھی۔

یہ جمہوریت ہی کا اعجاز مسیحائی ہے جس نے آج نواز شریف کے سیاسی قدوقامت، معاملہ فہمی، تدبر اور استقامت کی وہ تصویر پیش کی ہے جس کا قومی سیاست میں تصور نہیں کیا جاسکتا۔ فوٹو: ایکسپریس

نومنتخب وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ نئی حکومت کسی قسم کی کرپشن برداشت نہیں کرے گی۔ ڈرون حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، اقربا پروری اور بے جا نوازشات کا باب بند کر دیا ہے، مہم جوئی کے دروازے بند ہونے چاہئیں، ایسے تماشوں کی گنجائش باقی نہیں رہی، حکومتیں عوام کے ووٹوں سے ہی آنی اور جانی چاہئیں، اقتدار نہیں اقدار کی سیاست کا وقت آ گیا ہے، نئے روشن پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ایوان سے پہلے خطاب میں انھوں نے کہا کہ بدعنوان عناصر کا احتساب کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہوں جس کی مہربانیوں سے تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوا ہوں۔ وفاقی حکومت سندھ حکومت سے وہاں کے حالات بہتر کرنے کے لیے بھرپور تعاون کر ے گی کیونکہ سندھ میں بدامنی پر دل دکھتا ہے۔ ہمیں کراچی وہاں کے رہنے والوں سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔

ملک کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کا اعزاز بلاشبہ ایں سعادت بزور بازو نیست ، تا نہ بخشد خدائے بخشندہ کی حقیقی تعبیر ہے جس نے اتنی طویل مسافت اور سیاسی دشت کے کڑے اور صبر آزما سفر کے بعد عوام کے بھرپور اعتماد کا تاج رکھ دیا ہے۔ یہ جمہوریت ہی کا اعجاز مسیحائی ہے جس نے آج نواز شریف کے سیاسی قدوقامت، معاملہ فہمی، تدبر اور استقامت کی وہ تصویر پیش کی ہے جس کا قومی سیاست میں تصور نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ اہل وطن کے سامنے سیاسی دھماچوکڑی،اور طوائف الملوکی کے وہ اندوہ ناک منظرنامے سجائے گئے اور ملک آمروں کے مسلسل عاقبت نااندیشانہ فیصلوں کی ایسے لپیٹ میں آیا کہ وطن عزیز کو ناکام ریاست کا بار بار طعنہ سننا پڑا، ملکی خود مختاری پامال ہوتی رہی، عوام روٹی اور بجلی کو ترس گئے۔

قوم غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی ، دہشت گردی ، مہنگائی اور لاقانونیت نے معاشرے کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا جب کہ عالمی اورمالیاتی اداروں نے اپنی سروے رپورٹوں میں کرپشن کے اعتبار سے پاکستان کو ہمیشہ سر بلند دکھانے کی کوشش کی، حکومتی سطح پر مالی بد عنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی داستانیں عام ہوئیں ، عدلیہ سے تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ملک کو عالمی برادری میں کئی محاذوں پرخفت اٹھانا پڑی۔ اس سارے دردناک فسانے کے بعد 11 مئی کو الیکشن کا تاریخی ریلا آیا اور اس نے پاکستان کی بدنامیوں کے سارے داغ دھو ڈالے۔ اب ملک اپنی نئی سیاسی ،معاشی ، نظریاتی اور فکری تقدیر سازی کے لیے میاں نواز شریف کی قیادت میں چلنے کو تیار ہے ۔میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ایوان میں نواز شریف بہ انداز دگر نظر آئے ۔انھوں نے خود خطاب کیا اور اراکین پارلیمنٹ کی تقاریر سنیں ۔

ایوان میں ان کی ''اپنے ہی دوستوں سے ملاقات '' ہوگئی، وہ ''نالے بلبل کے سنتے رہے اور ہمہ تن گوش رہے،پرانے جمہوری اور سیاسی رفقا کی باتوںسے رنجشوں، شکوے شکایتوں اورسقراطی طنز کے غیر محسوس حملے بھی برداشت کیے ، بعض پارلیمنٹیرینز نے مثبت تجاویزدیں اور دلی مبارک باد پیش کی ۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار امین فہیم نے نواز شریف کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تعمیری اپوزیشن کا کر دار ادا کریں گے، وزیر اعظم منتخب ہونے پر نواز شریف کے ساتھ ساتھ ایجنسیاں بھی مبارکباد کی مستحق ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار جاوید ہاشمی نے جذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف میرے لیڈر تھے اور آج بھی ہیں،پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا کہ ملکی سیاست میں ایجنسیوں کا کردار نہیں ہونا چاہیے' اگر کارروائی ہو تو سب کے خلاف ہونی چاہیے ورنہ پرویز مشرف کے خلاف ڈرامہ بند ہونا چاہیے۔


سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی میر ظفر اللہ جمالی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کو حکومت سازی کے لیے فوج سے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوگی بلکہ اس حوالے سے حکومت اور فوج میں ہم آہنگی ہوگی۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ قوم کو ملکی حالات بہتر بنانے کے لیے میاں نواز شریف کا ساتھ دینا ہو گا۔ نواز شریف کو ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کرنی ہو گی، ان کا مقابلہ کسی اور سے نہیں اپنے آپ سے ہے۔ جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا نئی حکومت کو بین الاقوامی دبائوسے نکلنا ہو گا۔ ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے کہا موجودہ حکومت سندھ بالخصوص کراچی کے حالات کو پہلی فرصت میں ٹھیک کرے ۔ وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں لکھی ہوئی تقریر کے علاوہ فی البدیہہ بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نو منتخب وزیراعظم نے سابق حکومت پر تنقید سے گریز کیا اور گوادر بندرگاہ کو چین کے حوالے کرنے کے منصوبے کی تعریف کی۔

انھوں نے خیبر پختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت سے بھی بھرپور تعاون کرنیکا اعلان کیا۔ میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کشمیر کے مسئلے، طالبان سے مذاکرات اور دہشتگردی کے معاملے پر بوجوہ پالیسی بیان نہیں دیا۔ انھیں وقت دیا جانا چاہیے۔ نوازشریف کے خطاب میں عاجزی اور انکساری نمایاں تھی۔ نواز شریف کے قومی اسمبلی میں تقریباً14سال بعد پہلے خطاب کو ایوان میں موجود تمام جماعتوں کے پارلیمانی قائدین اور ارکان نے بہت غور سے سنا انھوں نے نوٹس بھی لیے۔ یہ سب کچھ جمہوریت کے حسن سے عبارت ہے، اختلاف رائے سے جمہوری کلچر کی آبیاری ہوتی ہے ۔ تقریب حلف برداری کے بعد صدر آصف زرداری، وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف آف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ایوان صدر میں ایک ملاقات ہوئی جس میں انھوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔

صدر اور آرمی چیف نے نوازشریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر مبارکباد دی اور ان کے ملکی تعمیر کے لیے اقدامات کے عزم کو بھی سراہا، دریں اثنا مسلم لیگ ن کے میاں شہباز شریف 300 ووٹ لے کر تیسری مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے،ان کے مد مقابل تحریک انصاف کے محمود الرشید کو 34 ووٹ ملے۔ محمد شہبازشریف کے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی پنجاب سمیت پورے ملک میں حکومت سازی کا کام مکمل ہوگیا۔ منتخب ہونے کے بعد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ خدمت عوام کی تنخواہ نہیں لیں گے ،لوڈشیڈنگ میں کمی اورمعیشت کی بحالی صوبے میں ہماری پہلی ترجیحات ہوں گی۔ ادھر مسلم لیگ ن کے سربراہ نوازشریف کوتیسری باروزیراعظم منتخب ہونے پرامریکا ،چین ،جرمنی اوربھارت کی حکومتوں نے مبارکباد دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جینیفر میکی ، چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ، بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید اورجرمن چانسلر انجیلا مرکل نے نواز شریف کے نام پیغام میںتوقع ظاہر کی کہ عالمی امن کے لیے دوطرفہ سیاسی اور معاشی تعلقات مضبوط ہوں گے ۔

اب جب کہ ملک میں وفاقی پارلیمانی نظام کا ڈھانچہ از سر نو اپنے پیروں پر کھڑا ہوچکا ہے، چاروں صوبوں میں حکومتوں کی تشکیل کا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے پاچکا ہے ،اب ضرورت اس امر کی ہے ملک کو ایک صاف ستھرے سیاسی نظام اور مضبوط معیشت کی سوغات دینے کا سفر شروع کیا اور خیال رکھا جائے کہ کوئی بروٹس آیندہ حکومت کو مجروح کرنے کی سازش نہ کرسکے۔وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کے بحران سمیت تمام مسائل کے حل کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔امید کی جانی چاہیے کہ وزیراعظم اس ضمن میں جلد قوم سے خطاب کریں گے۔
Load Next Story