اقتصادی ترقی کیلیے ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے شاہجہاں

جی ایس ٹی10فیصد،زراعت وباغبانی کوصنعت قراردے کرخام مال پر ٹیکس چھوٹ دی جائے

سی وایئر پورٹس پر کولڈ اسٹوریج سہولت، پھل وسبزیوں کی ایکسپورٹ پر سبسڈی کا مطالبہ۔ فوٹو: فائل

پاکستان سے زرعی مصنوعات پھل اور سبزیوں کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد پرلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

فلاح انجمن ہول سیل ویجیٹیبل مارکیٹ کے صدر حاجی شاہ جہاں شیخ نے نومنتخب وفاقی حکومت کو بجٹ تجاویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی ترقی کیلیے ٹیکسوں کی شرح کم کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زراعت وباغبانی کو مکمل صنعت کا درجہ دیتے ہوئے زرعی شعبے سے متعلق پروسیسنگ مشینری، اسٹوریج پلانٹس اور بنیادی خام مال پر کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوں کی چھوٹ دینے کا اعلان کرے، باغبانی کی مصنوعات کو ودہولڈنگ ٹیکس سے بھی مستثنیٰ قرار دیا جائے، زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے کھاد بیج کیڑے مار دوائوں ودیگر اشیا کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی سیلزٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کم کی جائے۔




کراچی کی بندرگاہ اور ایئرپورٹ پر کولڈاسٹوریج کی سہولت فراہم،پھلوں اور سبزیوں کے کنسائنمنٹس کی محفوظ جانچ پڑتال کیلیے اسکینرز نصب کیے جائیں، آم، آلو، پیاز اور کینو کی برآمدات پر فریٹ یا انوائس سبسڈی، شمسی اور ونڈ انرجی ٹیکنالوجی سبسڈی، زرعی برآمدات کا 15 فیصد تحقیق کیلیے مختص، انڈرانوائسنگ پر قابو پانے کیلیے انوائس سبسڈی متعارف کرائی جائے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں 350 فروٹ وسبزی منڈیاں قائم ہیں جن میں کراچی لاہور اسلام آباد جیسی بڑے حجم کی منڈیوں کو مثالی بنانے کے لیے حکومتی سطح پر بیوٹیفکیشن پلان ترتیب دیا جائے، تمام بڑی منڈیوں کوحفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی حکمت عملی مرتب کی جائے۔
Load Next Story