جناح اسپتال انتظامیہ کی من مانیاں سال بھر سے جاری تھیں

پارلیمان کے فیصلے اورجناح سندھ یونیورسٹی کوتسلیم کرنے سے انکارکردیاتھا

گریڈ19 اور20گریڈ کے افسران کے تبادلے کا اختیار نہ ہونے کے باوجود انتظامیہ از خود تبادلے کررہی تھی۔ فوٹو: فائل

جناح اسپتال میں ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اسپتال انتظامیہ کو مختلف الزامات کا سامنا رہا۔

مذاکرات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے حکومت سندھ اور صوبائی محکمہ صحت کی رٹ کو ماننے سے انکار کردیاتھا ، اسپتال میں محکمہ صحت کے علم اوراجازت لیے بغیر موٹرسائیکل چارچڈ پارکنگ قائم کرلی گئی تھی جو ایک سال سے جاری ہے، اسپتال میں مخیر حضرات سے بڑے پیمانے پر مریضوں کے نام پرعطیات وصول کیے جارہے تھے جس سے محکمہ صحت کو لاعلم رکھا جارہا تھا ، اسپتال میں من پسند ڈاکٹروں اور عملے کی تقرریاں و تبادلے بھی کیے جارہے تھے، گریڈ19 اور20گریڈ کے افسران کے تبادلے کا اختیار نہ ہونے کے باوجود انتظامیہ از خود تبادلے کررہی تھی۔




اسپتال انتظامیہ نے 18ویں ترمیم کی منظوری کے باوجود بھی اسپتال کوصوبائی محکمہ صحت کے ماتحت نہیں ہونے دیا اور عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا جس کے بعد اسپتال صوبائی محکمہ صحت کے زیر انتظام تھا اورنہ ہی وفاق کے زیر انتظام رہا، گویا اسپتال انتظامیہ 2سال سے ازخود انتظامی معاملات چلارہی تھی لیکن صوبائی محکمہ صحت کو ہر معاملے سے لاعلم رکھاجارہا تھا، اسپتال میںگزشتہ سال جنریٹرز نہ چلانے کی وجہ سے6 مریض جاں بحق ہوگئے تھے۔

جس پر اسپتال انتظامیہ نے یہ عذر پیش کیا تھا کہ ہمارے پاس جنریٹرز کو چلانے کیلیے ڈیزل نہیں جبکہ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اسپتال کو جنریٹرزکی مد میں 40لاکھ روپے اوراسپتال کی گاڑیوں کے لیے47لاکھ روپے سالانہ فراہم کیے جاتے ہیں،اجلاس میں اسپتال انتطامیہ کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو تسلیم نہ کرنے کے الزام کا بھی سامنا کرنا پڑا، اجلاس میں اسپتال میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے من پسند تبادلوں کے الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا،اسپتال انتظامیہ پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے صوبائی محکمہ صحت کی رٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے2ماہ قبل وفاقی اسٹیبلشمنٹ کوازخود درخواست دی تھی کہ جناح اسپتال، قومی ادارہ امراض قلب اور قومی ادارہ اطفال کو وفاق میں شامل کیا جائے اس سلسلے میں ان تینوں اسپتالوںکی انتظامی سربراہوں نے وفاق کو ایک مکتوب بھی بھیجا تھا جس کا علم صوبائی محکمہ صحت کونہیں تھا۔
Load Next Story