آئی ایم ایف جائزہ مشن سے مذاکرات
پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوارکرنے کے لیے فوری اور جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوارکرنے کے لیے فوری اور جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل
حکومت اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان مذاکرات میں روپے کی قدر میں کمی سے متعلق کسی تجویز پر بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ڈالرکی قدرکو 135 روپے کی سطح پر بڑھانے پر رضا مندی ظاہرکی گئی ہے۔ یہ بات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈائریکٹر نے ایکس چینج کمپنیوں کے طلب کردہ اجلاس میں کہی۔
پاکستانی معیشت اس وقت عدم استحکام کا شکار ہے اور اس کو سہارا دینے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن افواہوں کے سبب ڈالرکی قدر میں مزید 2 روپے 30 پیسے اضافہ ہوگیا ہے۔آئی ایم ایف کی ٹیم سے حکومتی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے، آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، لیکن عوام اس بارے میں بے خبر ہیں کہ کیا آیا ہم دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس کشکول لے کر جا رہے ہیں حالانکہ حکومت نے کشکول توڑ دینے کا کہا تھا ۔
دوسری جانب عالمی بینک نے کہا ہے کہ گزشتہ 13 سال کے دوران پاکستان میں غیر فعال قرضوں (نان پرفارمنگ لونز )کی اوسط سالانہ شرح 11.19 فیصد رہی ہے، 2005 تا 2017 ء کے دوران بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ قرضوں کی عدم واپسی کی اوسط سالانہ شرح 11 فیصد سے زائد رہی جو بھارت اور ملائیشیا کے مقابلے میں زائد ہے۔
آزاد ذرائع کے مطابق اس وقت اوپن مارکیٹ میں زرمبادلہ کی سپلائی دو سو فیصد کمی اور یومیہ آٹھ ملین ڈالرکے مساوی سرپلس زرمبادلہ کی ایکسپورٹ گھٹ کر دو تا تین ملین ڈالر رہ گئی ہے۔
سندھ سی این جی ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرگیس کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ کیا گیا تو صوبے بھر میں تمام سی این جی اسٹیشن غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیے جائیں گے جب کہ اپوزیشن جماعت کے ایک رہنما نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کودھوکا دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف 14 اکتوبر تک ملتوی کیا گیا ہے۔
ملک میں مہنگائی کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، عنقریب غریب متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد خودکشی پر مجبور ہوجائیں گے۔ ملک چلانے اورکنٹینر پرکھڑے ہوکر باتیں کرنے میں بہت فرق ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر میں مہنگائی میں پانچ اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔گزشتہ ماہ دال ، چاول ، سگریٹ ، خشک دودھ اور مصالحے مہنگے ہونے سے عام آدمی کی قوت خرید پر بہت برا اثر پڑا ہے ۔
روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے کرنسی اسمگلنگ روکنے کی بھی ضرورت ہے جو چمن اور طورخم کی سرحدوں پر ہوتی ہے تاکہ افغانستان ودیگر ممالک کے تاجر پاکستان سے زرمبادلہ کی اسمگلنگ نہ کرسکیں۔ یہ تو وہ ضروری اقدامات ہیں جو حکومت کو کرنے چاہییں۔
پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوارکرنے کے لیے فوری اور جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت نے آئی ایم ایف سے مکمل نجات کا جو خواب عوام کو دکھایا تھا اب اس کی تعبیرکا وقت آ چکا ہے، ملکی معیشت کو غیریقینی صورتحال سے نکال کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
پاکستانی معیشت اس وقت عدم استحکام کا شکار ہے اور اس کو سہارا دینے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن افواہوں کے سبب ڈالرکی قدر میں مزید 2 روپے 30 پیسے اضافہ ہوگیا ہے۔آئی ایم ایف کی ٹیم سے حکومتی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے، آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، لیکن عوام اس بارے میں بے خبر ہیں کہ کیا آیا ہم دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس کشکول لے کر جا رہے ہیں حالانکہ حکومت نے کشکول توڑ دینے کا کہا تھا ۔
دوسری جانب عالمی بینک نے کہا ہے کہ گزشتہ 13 سال کے دوران پاکستان میں غیر فعال قرضوں (نان پرفارمنگ لونز )کی اوسط سالانہ شرح 11.19 فیصد رہی ہے، 2005 تا 2017 ء کے دوران بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ قرضوں کی عدم واپسی کی اوسط سالانہ شرح 11 فیصد سے زائد رہی جو بھارت اور ملائیشیا کے مقابلے میں زائد ہے۔
آزاد ذرائع کے مطابق اس وقت اوپن مارکیٹ میں زرمبادلہ کی سپلائی دو سو فیصد کمی اور یومیہ آٹھ ملین ڈالرکے مساوی سرپلس زرمبادلہ کی ایکسپورٹ گھٹ کر دو تا تین ملین ڈالر رہ گئی ہے۔
سندھ سی این جی ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرگیس کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ کیا گیا تو صوبے بھر میں تمام سی این جی اسٹیشن غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیے جائیں گے جب کہ اپوزیشن جماعت کے ایک رہنما نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کودھوکا دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف 14 اکتوبر تک ملتوی کیا گیا ہے۔
ملک میں مہنگائی کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، عنقریب غریب متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد خودکشی پر مجبور ہوجائیں گے۔ ملک چلانے اورکنٹینر پرکھڑے ہوکر باتیں کرنے میں بہت فرق ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر میں مہنگائی میں پانچ اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔گزشتہ ماہ دال ، چاول ، سگریٹ ، خشک دودھ اور مصالحے مہنگے ہونے سے عام آدمی کی قوت خرید پر بہت برا اثر پڑا ہے ۔
روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے کرنسی اسمگلنگ روکنے کی بھی ضرورت ہے جو چمن اور طورخم کی سرحدوں پر ہوتی ہے تاکہ افغانستان ودیگر ممالک کے تاجر پاکستان سے زرمبادلہ کی اسمگلنگ نہ کرسکیں۔ یہ تو وہ ضروری اقدامات ہیں جو حکومت کو کرنے چاہییں۔
پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوارکرنے کے لیے فوری اور جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت نے آئی ایم ایف سے مکمل نجات کا جو خواب عوام کو دکھایا تھا اب اس کی تعبیرکا وقت آ چکا ہے، ملکی معیشت کو غیریقینی صورتحال سے نکال کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔