دفتر خارجہ کی وضاحت
پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بھارتی وزیر داخلہ سوشیل کمار شندے کے الزامات کی سختی سے تردید کی۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
پاکستان نے بھارت کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی بھارت میں دہشتگردی پھیلا رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بھارتی وزیر داخلہ سوشیل کمار شندے کے الزامات کی سختی سے تردید کی اور ان کے بیان کو غیر ضروری اور غیر سود مند قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے الزامات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انھوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ الزام تراشی سے قبل شواہد پیش کرے۔
بھارت کے وزیر داخلہ نے گزشتہ دنوں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی بھارتی پنجاب اور دیگر علاقوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے سکھ عسکریت پسند لیڈروں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس وقت پاکستان میں نئی حکومت قائم ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کے قیام کے لیے نئی امیدیں پیدا ہو رہی ہیں' ایسے ایام میں بھارتی وزیر داخلہ کا متنازعہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے بارے میں روایتی پالیسی پر چلنے کی خواہش مند ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی نئی قیادت بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی اپنی خواہش ظاہر کر چکی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے' بھارت کی حکومت کو بھی اس کا مثبت جواب دینا چاہیے اور غیر ضروری اور تلخ باتوں سے معاملات کو بگاڑنے کی کوششیں نہیں کرنی چاہیے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ڈرون حملوں کے علاوہ سعودی عرب سے پاکستانی تارکین کی مشکلات کا ذکر بھی کیا۔ ڈرون حملوں کا معاملہ تو ایسا ہے جس پر بہت دفعہ بیان کر چکے ہیں اور اس کا کوئی حل سامنے نہیں آیا' بہر حال سعودی عرب سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پاکستانی مشن پاکستانی ورکرز کو تمام ضروری رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔
سعودی عرب ہو یا کوئی اور ملک جہاں بھی پاکستانی تارکین وطن موجود ہیں' حکومت پاکستان کو ان کے مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اکیلے سعودی عرب ہی نہیں بلکہ مشرق ایشیاء مشرق وسطیٰ' یورپ اور امریکا میں بھی تارکین وطن کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے' غیر ممالک میں مقیم پاکستانی سفارتخانوں کو ترجیحی بنیادوں پر ان پاکستانیوں کی مدد کرنی چاہیے۔ سفارتخانوں کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے باشندوں کے مفادات کا خیال رکھیں اور ان کے بارے میں اپنی حکومت کو حقائق سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنے شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر سکے۔
پاکستان نے بھارت کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی بھارت میں دہشتگردی پھیلا رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بھارتی وزیر داخلہ سوشیل کمار شندے کے الزامات کی سختی سے تردید کی اور ان کے بیان کو غیر ضروری اور غیر سود مند قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے الزامات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انھوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ الزام تراشی سے قبل شواہد پیش کرے۔
بھارت کے وزیر داخلہ نے گزشتہ دنوں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی بھارتی پنجاب اور دیگر علاقوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے سکھ عسکریت پسند لیڈروں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس وقت پاکستان میں نئی حکومت قائم ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کے قیام کے لیے نئی امیدیں پیدا ہو رہی ہیں' ایسے ایام میں بھارتی وزیر داخلہ کا متنازعہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے بارے میں روایتی پالیسی پر چلنے کی خواہش مند ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی نئی قیادت بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی اپنی خواہش ظاہر کر چکی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے' بھارت کی حکومت کو بھی اس کا مثبت جواب دینا چاہیے اور غیر ضروری اور تلخ باتوں سے معاملات کو بگاڑنے کی کوششیں نہیں کرنی چاہیے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ڈرون حملوں کے علاوہ سعودی عرب سے پاکستانی تارکین کی مشکلات کا ذکر بھی کیا۔ ڈرون حملوں کا معاملہ تو ایسا ہے جس پر بہت دفعہ بیان کر چکے ہیں اور اس کا کوئی حل سامنے نہیں آیا' بہر حال سعودی عرب سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پاکستانی مشن پاکستانی ورکرز کو تمام ضروری رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔
سعودی عرب ہو یا کوئی اور ملک جہاں بھی پاکستانی تارکین وطن موجود ہیں' حکومت پاکستان کو ان کے مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اکیلے سعودی عرب ہی نہیں بلکہ مشرق ایشیاء مشرق وسطیٰ' یورپ اور امریکا میں بھی تارکین وطن کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے' غیر ممالک میں مقیم پاکستانی سفارتخانوں کو ترجیحی بنیادوں پر ان پاکستانیوں کی مدد کرنی چاہیے۔ سفارتخانوں کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے باشندوں کے مفادات کا خیال رکھیں اور ان کے بارے میں اپنی حکومت کو حقائق سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنے شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر سکے۔