سعودی عرب اور سی پیک منصوبوں میں شمولیت کا معاملہ
حکومت نے سی پیک منصوبے جوکہ پاکستان اور چین کے درمیان تھا، اس میں مزید شراکت دار شامل کرنے کا سوچا ہے۔
حکومت نے سی پیک منصوبے جوکہ پاکستان اور چین کے درمیان تھا، اس میں مزید شراکت دار شامل کرنے کا سوچا ہے۔ فوٹو:فائل
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کے مطابق سعودی عرب کو سی پیک کی فیصلہ سازکمیٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ سرمایہ کاری سعودی عرب تک محدود نہیں دیگر ممالک بھی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں ۔
نئی حکومت غیر ملکی قرضوں کا بوجھ اتارنے اور معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوارکرنے کے لیے سرگرم عمل ہے ۔ اسی لیے حکومت نے سی پیک منصوبے جوکہ پاکستان اور چین کے درمیان تھا، اس میں مزید شراکت دار شامل کرنے کا سوچا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ سعودی وفد پاکستان کے دورے پر ہے اور مختلف منصوبوں کے حوالے سے گفت وشنید کا عمل جاری ہے ۔
دراصل سی پیک ایک طویل المدت منصوبہ ہے جو چین نے پاکستان کے ساتھ شروع کر رکھا ہے، اس معاہدے کے تحت کیا شرائط دونوں ممالک کے درمیان طے پائی ہیں، اس سے عوام تو لاعلم ہیں ۔ یہ منصوبہ کتنا اوپن ہوسکتا ہے، یہ توآنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔
بہرحال خوش آئند خبر ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تین معاہدے طے پانے کے نتیجے میں 202ملین ڈالرزکی گرانٹ ہمیں ملے گی۔پہلے معاہدے کے تحت مالاکنڈ میں انفرااسٹرکچرکی بہتری کے لیے 72ملین ڈالر ،دوسرے معاہدے میں ایبٹ آباد اور مظفرآباد میں روڈ ٹنل کی تعمیر کے لیے 29.6ملین ڈالر، تیسرے معاہدے کے مطابق زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے 104ملین ڈالر کی گرانٹ سعودی عرب فراہم کرے گا۔
سعودی سفیرکا کہنا تھا کہ سعودی وفد پاکستان میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے کئی علاقوں کا دورہ کرے گا، جب کہ دوسری جانب سعودی عرب نے پاکستان کے تیل وگیس کے شعبے میں نجی چینی کمپنیوںکے ساتھ شراکت داری سے انکارکردیا ہے، تاہم سعودی وفد نے کراچی میں سو ایکڑ رقبے پرکیمیکل انڈسٹری لگانے کے منصوبے میں سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہرکی ہے۔
پاکستانی معیشت کو گردشی قرضوں کا چیلنج بھی درپیش ہے اور دوسری جانب ڈالر جو پر لگا کر اڑ رہا ہے اس کے پرکاٹنا بھی ضروری ہے تاکہ ملکی کرنسی کو استحکام حاصل ہو اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں تو ہمیں آئی ایم ایف سے قرضہ بھی مل سکتا ہے ۔
دراصل چین ہمارا بہترین دوست اور پڑوسی ملک ہے جب کہ سعودی عرب سے ہمارے ثقافتی و روحانی رشتے بھی ہیں۔ یہ موجودہ حکومت کے اقتصادی اور معاشی ماہرین کی قابلیت اور مہارت کا کڑا امتحان ہے کہ وہ دونوں ممالک کو کس طرح زیادہ سے زیادہ پاکستان میں سرمایہ کاری پر راضی کرنے اور فریقین کو بغیرکسی اختلاف رائے کے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تاکہ سی پیک سمیت دیگر منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھنے سے ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ ممکن ہوسکے اورمعیشت کو بھی استحکام ملے گا ۔ سی پیک کو کسی تنازع کی نذر نہ ہونے دیں۔
نئی حکومت غیر ملکی قرضوں کا بوجھ اتارنے اور معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوارکرنے کے لیے سرگرم عمل ہے ۔ اسی لیے حکومت نے سی پیک منصوبے جوکہ پاکستان اور چین کے درمیان تھا، اس میں مزید شراکت دار شامل کرنے کا سوچا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ سعودی وفد پاکستان کے دورے پر ہے اور مختلف منصوبوں کے حوالے سے گفت وشنید کا عمل جاری ہے ۔
دراصل سی پیک ایک طویل المدت منصوبہ ہے جو چین نے پاکستان کے ساتھ شروع کر رکھا ہے، اس معاہدے کے تحت کیا شرائط دونوں ممالک کے درمیان طے پائی ہیں، اس سے عوام تو لاعلم ہیں ۔ یہ منصوبہ کتنا اوپن ہوسکتا ہے، یہ توآنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔
بہرحال خوش آئند خبر ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تین معاہدے طے پانے کے نتیجے میں 202ملین ڈالرزکی گرانٹ ہمیں ملے گی۔پہلے معاہدے کے تحت مالاکنڈ میں انفرااسٹرکچرکی بہتری کے لیے 72ملین ڈالر ،دوسرے معاہدے میں ایبٹ آباد اور مظفرآباد میں روڈ ٹنل کی تعمیر کے لیے 29.6ملین ڈالر، تیسرے معاہدے کے مطابق زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے 104ملین ڈالر کی گرانٹ سعودی عرب فراہم کرے گا۔
سعودی سفیرکا کہنا تھا کہ سعودی وفد پاکستان میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے کئی علاقوں کا دورہ کرے گا، جب کہ دوسری جانب سعودی عرب نے پاکستان کے تیل وگیس کے شعبے میں نجی چینی کمپنیوںکے ساتھ شراکت داری سے انکارکردیا ہے، تاہم سعودی وفد نے کراچی میں سو ایکڑ رقبے پرکیمیکل انڈسٹری لگانے کے منصوبے میں سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہرکی ہے۔
پاکستانی معیشت کو گردشی قرضوں کا چیلنج بھی درپیش ہے اور دوسری جانب ڈالر جو پر لگا کر اڑ رہا ہے اس کے پرکاٹنا بھی ضروری ہے تاکہ ملکی کرنسی کو استحکام حاصل ہو اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں تو ہمیں آئی ایم ایف سے قرضہ بھی مل سکتا ہے ۔
دراصل چین ہمارا بہترین دوست اور پڑوسی ملک ہے جب کہ سعودی عرب سے ہمارے ثقافتی و روحانی رشتے بھی ہیں۔ یہ موجودہ حکومت کے اقتصادی اور معاشی ماہرین کی قابلیت اور مہارت کا کڑا امتحان ہے کہ وہ دونوں ممالک کو کس طرح زیادہ سے زیادہ پاکستان میں سرمایہ کاری پر راضی کرنے اور فریقین کو بغیرکسی اختلاف رائے کے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تاکہ سی پیک سمیت دیگر منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھنے سے ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ ممکن ہوسکے اورمعیشت کو بھی استحکام ملے گا ۔ سی پیک کو کسی تنازع کی نذر نہ ہونے دیں۔