دنیا بھر میں دماغی ٹیومرکا عالمی دن آج منایا جائے گا
دماغی رسولی کے باعث اموات میں اضافہ ہو رہا ہے، پروفیسر ستارہاشم کی گفتگو.
دماغی رسولی کے باعث اموات میں اضافہ ہو رہا ہے، پروفیسر ستارہاشم کی گفتگو. فوٹو : فائل
پاکستان سمیت دنیا بھر میں برین ٹیومر(دماغ کی رسولی) کے مرض کا عالمی دن آج منایاجائے گا۔
اس دن کی مناسب سے ماہرین امراض کا کہنا ہے کہ برین ٹیومرہرعمرکے افرادکو ہوسکتا ہے، دماغی ٹیومر چار اقسام کے ہوتے ہیں تاہم ابتدائی تشخیص میں یہ مرض قابل علاج ہے، جناح اسپتال نیوروسرجری یونٹ کے سربراہ پروفیسر ستارہاشم نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ دماغ میں رسولی کامرض خطرناک ہوتا ہے تاہم فوری ابتدائی تشخیص سے مریض کو بچایاجاسکتا ہے۔
انھوں نے کہاکہ دماغی رسولی کا مرض قابل علاج ہے تاہم ملک میں نیورو سرجنز کی شدید کمی ہے، برین ٹیومر 2طرح کے ہوتے ہیں ایک ابتدائی برین ٹیومر جو شروع ہی دماغ سے ہوتا ہے اور دوسرا سیکنڈری برین ٹیومر جس میں جگر،گردوں، چھاتی اور پھیپھڑے کے کینسر کے شکار لوگوںکا مرض پھیل کر ان کے دماغ تک پہنچتا ہے، انھوں نے کہا کہ طب کے شعبے میں جدید ریسرچ اور سرجری کی ترقی کی بدولت آج دماغی بیماریوں کا علاج با آسانی ہو رہا ہے اور ایسے مریضوں کی اکثریت مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتی ہے۔
انھوںنے بتایا کہ برین ٹیومر کا علاج سرجری تو ہے لیکن اس کے جدیدگامانائف مشین کے ذریعے محفوظ ریڈی ایشن سے بھی علاج کیاجارہا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ نئی ٹیکنالوجی اسٹریوٹیکینک ریڈیو سرجری بھی پاکستان میں دستیاب ہے تاہم اس وقت ملک میں نیوروسرجنزکی انتہائی کمی ہے، ملک میں نیورو سرجری کے 17پروفیسر اور 200 نیورو سرجنز ہیں جو 18کروڑ کی آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہیں۔
اس دن کی مناسب سے ماہرین امراض کا کہنا ہے کہ برین ٹیومرہرعمرکے افرادکو ہوسکتا ہے، دماغی ٹیومر چار اقسام کے ہوتے ہیں تاہم ابتدائی تشخیص میں یہ مرض قابل علاج ہے، جناح اسپتال نیوروسرجری یونٹ کے سربراہ پروفیسر ستارہاشم نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ دماغ میں رسولی کامرض خطرناک ہوتا ہے تاہم فوری ابتدائی تشخیص سے مریض کو بچایاجاسکتا ہے۔
انھوں نے کہاکہ دماغی رسولی کا مرض قابل علاج ہے تاہم ملک میں نیورو سرجنز کی شدید کمی ہے، برین ٹیومر 2طرح کے ہوتے ہیں ایک ابتدائی برین ٹیومر جو شروع ہی دماغ سے ہوتا ہے اور دوسرا سیکنڈری برین ٹیومر جس میں جگر،گردوں، چھاتی اور پھیپھڑے کے کینسر کے شکار لوگوںکا مرض پھیل کر ان کے دماغ تک پہنچتا ہے، انھوں نے کہا کہ طب کے شعبے میں جدید ریسرچ اور سرجری کی ترقی کی بدولت آج دماغی بیماریوں کا علاج با آسانی ہو رہا ہے اور ایسے مریضوں کی اکثریت مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتی ہے۔
انھوںنے بتایا کہ برین ٹیومر کا علاج سرجری تو ہے لیکن اس کے جدیدگامانائف مشین کے ذریعے محفوظ ریڈی ایشن سے بھی علاج کیاجارہا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ نئی ٹیکنالوجی اسٹریوٹیکینک ریڈیو سرجری بھی پاکستان میں دستیاب ہے تاہم اس وقت ملک میں نیوروسرجنزکی انتہائی کمی ہے، ملک میں نیورو سرجری کے 17پروفیسر اور 200 نیورو سرجنز ہیں جو 18کروڑ کی آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہیں۔