دلشان کے دامن پر بھی فکسنگ اسکینڈل کے چھینٹے

بیٹسمین کی مشکوک سرگرمیوں سے اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع کردیا تھا، ڈھاکا اونر

اشرفل کے الزمات مسترد، راہ چلتے شخص کے کہنے سے میں مجرم نہیں بن جاتا، سلیم فوٹو: اے ایف پی/فائل

بنگلہ دیشی فکسنگ اسکینڈل کے چھینٹے تلکارتنے دلشان کے دامن پر بھی آ گئے۔

بی پی ایل فرنچائز ٹیم ڈھاکا گلیڈی ایٹرز کے مالک سلیم چوہدری نے الزام عائد کیا کہ ہم نے سری لنکن بیٹسمین کی مشکوک سرگرمیوں سے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کو بھی مطلع کر دیا تھا، انھوں نے خود پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی راہ چلتے شخص کے کہنے سے میں مجرم نہیں بن جاتا، ٹھوس ثبوت کے بغیرکسی کو بھی الزام تراشی کا حق نہیں ہے، یاد رہے کہ سابق کپتان اشرفل نے ان کے کہنے پر میچ فکسنگ کرنے کا اعتراف کیا تھا۔


سلیم چوہدری نے مزید کہا کہ میں نہیں جانتا کہ اشرفل نے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کو کیا بتایا، البتہ اس نے خود اعتراف کیا کہ2004 سے میچ فکسنگ میں ملوث رہا ہے،ہمیں شبہ تھا کہ اس نے چٹاگانگ کنگز اور بریسال برنرز سے میچز فکسڈ کیے تھے، ٹیم کے تمام پلیئرز یہ حقیقت جانتے تھے ،ایک موقع پر تو غیرملکی پلیئرز نے دھمکی دے دی کہ اگر اشرفل ٹیم میں رہا تو ہم نہیں کھیلیں گے۔



دوسری جانب بنگلہ دیشی کپتان مشفیق الرحیم نے میچ فکسنگ کا اعتراف کرنیوالے معطل اشرفل کی اخلاقی حمایت کی ہے،سابق کپتان اور اپنے ساتھی کے نام بھیجے جانے والے ٹیکسٹ پیغام میں مشفیق نے کہا کہ جس جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے تم نے اعتراف جرم کیا، مجھے امید ہے کہ ایک مرتبہ پھر کرکٹ میدانوں میں واپس آؤ گے۔دریں اثنا حالیہ اسکینڈل کے بعد اشرفل کی زندگی کے روزوشب تبدیل ہوگئے، وہ صبح نماز کیلیے جلدی اٹھ جاتے اور آن لائن اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے ریسٹورنٹ پر بھی توجہ دینا شروع کردی جسے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر چند برس قبل کھولا تھا، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سچ بولنے والے اشرفل کی عوامی سطح پر ملنے والی حمایت سے حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
Load Next Story