پاکستان و سعودی عرب گوادر آئل ریفائنری قیام پر متفق
وزیر پٹرولیم کی جانب سے 5 سال کے لیے ادھار تیل فراہم کرنے کے بیان پر بھی سعودی وفد کی برہمی کا عندیہ ملا ہے۔
وزیر پٹرولیم کی جانب سے 5 سال کے لیے ادھار تیل فراہم کرنے کے بیان پر بھی سعودی وفد کی برہمی کا عندیہ ملا ہے۔ فوٹو؛فائل
پاکستان کی نئی حکومت ملک میں معاشی استحکام اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کئی جہات میں کام کررہی ہے، حالیہ دنوں سعودی عرب کا وفد پاکستان کے دورہ پر ہے جس میں کئی مثبت اور خوشگوار معاہدات پر بات چیت جاری ہے۔
اطلاع ہے کہ سعودی عرب کے مشیر برائے توانائی کی سربراہی میں آئے ہوئے وفد نے بدھ کو وزارت توانائی اور پٹرولیم ڈویژن کے حکام سے ملاقات کی۔ سعودی وفد نے گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر پر حامی بھرلی تاہم ریفائنری کے سائز اور تعمیر کے آغاز کو سعودی کمپنی آرامکو کی فزیبلٹی رپورٹ سے مشروط کیا ہے۔ حکومت پاکستان کی کابینہ کی منظوری کے بعد سعودی عرب کے وزیر توانائی پاکستان کا دورہ کریں گے جس دوران آئل ریفائنری کی تعمیر کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔
دوسری جانب سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ ذرایع کے مطابق وزارت پٹرولیم کے حکام کی سعودی وفد سے ملاقات کے دوران بلوچستان کے نمایندے ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔ صائب ہوگا کہ اس معاملے پر بھی تحفظات دور کیے جائیں۔
وزیر پٹرولیم کی جانب سے 5 سال کے لیے ادھار تیل فراہم کرنے کے بیان پر بھی سعودی وفد کی برہمی کا عندیہ ملا ہے۔ ایک نازک موقع پر کسی بھی غیر ذمے دارانہ بیان اور اقدام سے گریز کرنا بہتر ہوگا۔ بلاشبہ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے ساتھ گرانٹس کے معاہدے اور سرمایہ کاری میں پیش رفت خوش آیند اقدامات ہیں۔ سعودی عرب سے پاکستان کے مثالی تعلقات کے تناظر میں مزید معاہدات کی امید بھی قائم ہے۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔
پاکستانی حکومت ملکی معاشی و اقتصادی نظام اور انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کررہی ہے، ملک میں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہورہا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معیشت کی بحالی کے لیے لازم ہے کہ بیرونی سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ سرمایہ پاکستان میں لائیں تاکہ ایک جانب روپے کی گرتی قدر کو سنبھالا جائے اور معاشی استحکام کے ثمرات سے قوم کو مستفیض کیا جاسکے۔
حالات مثبت جانب پیش قدمی کے اشارے دے رہے ہیں، چین پہلے ہی بڑے پیمانے پر پاکستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے، اب سعودی عرب سمیت روس سے ہونے والے معاہدے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ حکومت صحیح ڈگر پر جا رہی ہے۔ لازم ہوگا کہ جو رہے سہے خدشات اور تحفظات ہیں انھیں بھی دور کیا جائے۔ عوام کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اندرونی و بیرونی سطح پر ہر قسم کی سازش اور منفی اقدامات و افواہوں کا بروقت توڑ کرتے ہوئے ملکی معیشت کو استحکام بخشا جائے۔ معیشت کی مضبوطی اور عوامی ریلیف ریاست اور عوام دونوں کے لیے ضروری ہیں۔
اطلاع ہے کہ سعودی عرب کے مشیر برائے توانائی کی سربراہی میں آئے ہوئے وفد نے بدھ کو وزارت توانائی اور پٹرولیم ڈویژن کے حکام سے ملاقات کی۔ سعودی وفد نے گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر پر حامی بھرلی تاہم ریفائنری کے سائز اور تعمیر کے آغاز کو سعودی کمپنی آرامکو کی فزیبلٹی رپورٹ سے مشروط کیا ہے۔ حکومت پاکستان کی کابینہ کی منظوری کے بعد سعودی عرب کے وزیر توانائی پاکستان کا دورہ کریں گے جس دوران آئل ریفائنری کی تعمیر کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔
دوسری جانب سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ ذرایع کے مطابق وزارت پٹرولیم کے حکام کی سعودی وفد سے ملاقات کے دوران بلوچستان کے نمایندے ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔ صائب ہوگا کہ اس معاملے پر بھی تحفظات دور کیے جائیں۔
وزیر پٹرولیم کی جانب سے 5 سال کے لیے ادھار تیل فراہم کرنے کے بیان پر بھی سعودی وفد کی برہمی کا عندیہ ملا ہے۔ ایک نازک موقع پر کسی بھی غیر ذمے دارانہ بیان اور اقدام سے گریز کرنا بہتر ہوگا۔ بلاشبہ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے ساتھ گرانٹس کے معاہدے اور سرمایہ کاری میں پیش رفت خوش آیند اقدامات ہیں۔ سعودی عرب سے پاکستان کے مثالی تعلقات کے تناظر میں مزید معاہدات کی امید بھی قائم ہے۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔
پاکستانی حکومت ملکی معاشی و اقتصادی نظام اور انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کررہی ہے، ملک میں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہورہا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معیشت کی بحالی کے لیے لازم ہے کہ بیرونی سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ سرمایہ پاکستان میں لائیں تاکہ ایک جانب روپے کی گرتی قدر کو سنبھالا جائے اور معاشی استحکام کے ثمرات سے قوم کو مستفیض کیا جاسکے۔
حالات مثبت جانب پیش قدمی کے اشارے دے رہے ہیں، چین پہلے ہی بڑے پیمانے پر پاکستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے، اب سعودی عرب سمیت روس سے ہونے والے معاہدے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ حکومت صحیح ڈگر پر جا رہی ہے۔ لازم ہوگا کہ جو رہے سہے خدشات اور تحفظات ہیں انھیں بھی دور کیا جائے۔ عوام کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اندرونی و بیرونی سطح پر ہر قسم کی سازش اور منفی اقدامات و افواہوں کا بروقت توڑ کرتے ہوئے ملکی معیشت کو استحکام بخشا جائے۔ معیشت کی مضبوطی اور عوامی ریلیف ریاست اور عوام دونوں کے لیے ضروری ہیں۔