مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی انتہا

بھارت نے مذاکرات کی پاکستانی پیشکش مسترد کرکے کشمیر میں ظلم واستبداد کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔

بھارت نے مذاکرات کی پاکستانی پیشکش مسترد کرکے کشمیر میں ظلم واستبداد کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔ فوٹو : فائل

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کو میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت جاری ہے اور رواں ہفتے 18معصوم کشمیریوں کی جان لی گئی، قابض فوج نے معصوم کشمیریوں پر کیمیکل ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا ہے، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی مذمت کرتا ہے، پاکستان نے مزید واضح کیا ہے کہ کرتارپور بارڈر صرف پاک بھارت مذاکرات ہونے کی صورت میں ہی کھولا جائے گا۔

بھارت نے مذاکرات کی پاکستانی پیشکش مسترد کرکے کشمیر میں ظلم واستبداد کی شدت میں اضافہ کیا ہے اور جس بہیمانہ طریقے سے کشمیریوں کی جدوجہد کو کچلنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کی جارہی ہے اس پر دفتر خارجہ کا ردعمل اور پاکستانی سفارتی اور اخلاقی جواز پر مبنی اظہار حقیقت دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ پاک بھارت تعلقات کو زہر آلود کرنے کا ذمے دار بھارت ہے۔

مودی حکومت ایک طرف سیکولرازم اور امن کی بات جیسے ڈھکوسلوں کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں لگی ہوئی ہے، دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے، گلف نیوز نے اپنی ایک اشاعت میں بھارتی رویے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع نارووال میں کرتارپور سرحد نہ کھولنے پر بھی بھارتی انداز فکر جارحانہ ہے۔

اسی سیاق وسباق میں پاکستان کا جواب اسی بلاجواز بھارتی طرز عمل اور تعلقات کی بامعنی بحالی سے گریز اور فرار ہے جسے بھارتی حکمرانوں نے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے، حقیقت یہ ہے کہ خود بھارت کے سنجیدہ حلقے بھارت پر زور دے رہے ہیں کہ اسے مذاکرات کے لیے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے خط کا مثبت اور تعمیری جواب دینا چاہیے تھا، تاہم بھارتی میڈیا کا خیال ہے کہ بات چیت دہشتگردی کے محور پر ہو تاکہ پاکستان اگر کشمیر کے موضوع کو بنیاد بنانا چاہے بھی تو بھارت خطے میں دہشتگردی کو اہمیت دے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے وزیر خارجہ کے دورہ امریکا کے حوالے سے واضح کیا کہ قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران وزیر خارجہ نے بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام امور پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی اور مسئلہ کشمیر کے حل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد پر زور دیا۔ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس کیس کی 18 فروری کو سماعت ہوگی۔


پاکستان کی تیاری بھرپور ہے، لیکن پاکستانی ٹیم کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ عالمی عدالت انصاف کی حیثیت اور اس کے فیصلوں کی قدر وقیمت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی سخت بیان جاری کرچکے ہیں اور انتباہ بھی دے چکے ہیں کہ عدالت کسی امریکی شہری یا ہمارے اتحادیوں کو افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم پر سزا دینے کا قطعی نہ سوچے، ورنہ ان ججز کو امریکا اپنے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے گا۔

ٹرمپ کے مشیر برائے سلامتی جان بولٹن بھی بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عالمی عدالت انصاف کو اسی قسم کی دھمکی دے چکے ہیں، صدر ٹرمپ عالمی عدالت انصاف کو ناجائز قراردے چکے ہیں، ماہرین کے مطابق بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالہ سے عدلیہ پر بعض مخالف قوتوں کی طرف سے اثرو رسوخ استعمال کرنے کی باتیں طشت ازبام ہوچکی ہیں، بھارت کی سر توڑ کوشش ہے کہ کلبھوشن کو بچایا جائے، جب کہ پاکستان اس کی دہشتگردی اور دیگر تخریبی کارروائیوں پر مشتمل ویڈیوز اور مزید دستاویزی ثبوت عدلیہ کے سامنے پیش کرنے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہے۔

اس لیے 18 فروری اہم دن ہوگا۔ ادھر سرجیکل اسٹرائیک کے بھارتی آرمی چیف کے بیان کے حوالے سے ترجمان نے درست کہا کہ کوئی پیشہ ور فوج اس طرح کے دعوے نہیں کرتی۔ بہرحال (اسامہ فیم) ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے پاکستان کا اپنے موقف پر قائم ہوتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے میں پاکستان واپسی کی کوششوں پر جذباتی بیانات سے گریز صائب ہے، یہ بہت حساس معاملہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ شکیل آفریدی پر پاکستان کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ دریں اثنا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کے 10 روزہ دورے کے بعد واپسی پر کہا کہ وہ مطمئن لوٹ رہے ہیں، امریکا سے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

اعلیٰ امریکی قیادت سے رابطے بحال ہوئے ہیں۔ روانگی سے قبل واشنگٹن میں پریس کانفرنس اور پیس انسٹی ٹیوٹ سے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا بھرپور اثرورسوخ استعمال کریں گے، چین کو بھی افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں شامل کرنا چاہیے۔ شکیل آفریدی سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ امریکا مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے، امریکا کو پاکستانی قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔

ادھر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اعلامیہ کے مطابق جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے پاکستان اور امریکا کا تعاون ناگزیر ہے۔ اعلامیہ کے مطابق مائیک پومپیو نے کہا پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، افغان امن مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے ماحول سازگار ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ خطے کی صورتحال میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے امریکا، بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان کو جلد مثبت پیغامات ملیں گے۔
Load Next Story