میاں صاحب اور’سیاست نامہ‘
میاں صاحب کو مطالعے کو کتنی عادت ہے، اس کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں بہ طور خاص اس زمانے میں جب۔۔۔
zahedahina@gmail.com
میاں صاحب کو مطالعے کو کتنی عادت ہے، اس کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں بہ طور خاص اس زمانے میں جب وہ اقتدار سے ہم کنار ہوئے تو ہیں لیکن مسائل کا خار زارہے اور وہ ہیں۔
مطالعہ آج کے سیاستدان اور مدبر ہوں یا کل کے، سب ہی کے لیے نہایت اہم رہا ہے اور انھوں نے اپنے سے پہلے والوں کی دانش سے بہت کچھ سیکھا ہے ایسی ہی کتابوں نے ان کے طرز حکمرانی کو جلا بخشی ہے۔ تاہم اس بارے میں کچھ کہنے سے پہلے، چند جملے ان معاملات کے بارے میں جو میاں صاحب کے حوالے سے ان دنوں اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں پرگردش کررہے ہیں۔
ان باتوں کو سنتے ہوئے مجھے فاتح قسطنطنیہ، سلطان محمد ثانی کی یاد آتی ہے۔ اس نے جب بازنطینی سلطنت کے عظیم شہر قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا اور اس محاصرے کو بہت دن گزرگئے لیکن اس کے بعد بھی اس کے سیکڑوں بحری جہازوں اور قسطنطنیہ کی شہر پناہ کے درمیان چند میل چوڑی زمینی پٹی حائل رہی تو اس نے اپنے بحری جہازوں کو شہر پناہ تک پہنچانے کے لیے لکڑے کے چوڑے تختوں پر چربی کی تہیں بچھانے کا حکم دیا اور پھر رات کے اندھیرے میں چربی لگے ان تختوں پر سے دھکیل کرجہازگولڈن ہارن کے شمالی ساحل تک پہنچا دیے گئے اور پھر انھوںنے وہ گولہ باری کی کہ قسطنطنیہ کو فتح ہونے میں کوئی دیر نہیں لگی۔
تاریخ کا یہ اہم اور عسکری تاریخ کا نادر واقعہ مجھے ان دنوں اس لیے یاد آتا ہے کہ ایوان اقتدار میں تیسری مرتبہ پہنچنے والے میاںنواز شریف بھی قسطنطنیہ جیسی ناقابل تسخیر شہر پناہ کا وہ صدر دروازہ ہیں جس کے سامنے خوشامد کی چربی سے لتھڑے ہوئے چوبی تختوں پر سے خوشامدیوں اور مصاحبوں کے بجرے نہایت فن کاری سے دھکیل کر پہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد اس شخص کو فتح کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔ پہلے بھی یہی لوگ 'قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں' کا نعرہ لگاتے تھے اور جب انھوں نے 12 اکتوبر 1999کی رات پلٹ کر دیکھا تو سارے پرندے پروازکرگئے تھے اور وہی لوگ رہ گئے تھے جو ان سے بعض باتیں کرتے تھے اور طبیعت پر بار ہونے والے مشورے دیتے تھے۔ یہ اندازہ تو انھیں بعد میں ہوا ہوگا کہ کڑوی باتیں اور تنقید سن لینا حکمرانوں کے لیے کونین کی اس گولی کی طرح ہوتا ہے جو ملیریا کو پچھاڑ دیتی ہے۔
انھوںنے اپنے تلخ تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہوگا لیکن خوشامد چیز ہی ایسی ہے کہ جس کے سامنے کڑوی باتیں کرنے والے راندۂ درگاہ ٹھہرتے ہیں اور خوشامدی اپنی مطلب براری کے بعد رفو چکر ہوجاتے ہیں ۔ پھر وہ شخص جسے اپنی منصف مزاجی اور قابلیت پر یقین ہوتا ہے، سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس کے ساتھ کیسا ہاتھ ہوگیا۔
ہندوستان پر حکومت کرنے والے خاندانِ غلامان ہوں یا مغل بادشاہ اور شہنشاہ، سب ہی کو علم و ادب سے اور بہ طور خاص مسلم سیاسیات سے شغف تھا۔ ان سے پہلے اموی اور عباسی خلفا، اندلس کے حکمران، سلاطین عثمانیہ سب ہی علم کے شیدا تھے۔ لاکھوں کتابوں کے انبار اکٹھا کرنے میں ایک دوسرے سبقت لے جانا ان کی روش تھی۔ ان میں سے بعض نے کتابیں لکھیں اور بہتوں نے اپنے عہد کے عالم و فاضل افراد کو، شاعروں اور مصوروں کو اپنے دربار کی زینت بنایا اور ان پر داد و دہش کی کبھی کمی نہ کی۔
علم سے عشق کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اکبر اعظم جسے ہمارے بہت سے مورخ اپنے تعصب کی بناء پر ''ان پڑھ'' لکھتے نہیں تھکتے، اس نے اپنی رسمی تعلیم کی کمی اس طرح پوری کی کہ مختلف علوم میں یکتا افراد کو وہ اپنے دربار میں جمع رکھتا، ان سے اپنے دور کے اہم علوم کی بنیادی کتابیں پڑھ کر سنتا اور پھر ان عالم وفاضل افراد سے ان کتابوں میں تحریر نکات پر بحث کرتا۔ مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ اس کا شوق تھا، اسی لیے اس کے دربار میں ہندو پنڈت تو ہوتے ہی تھے، یہودی ربی، جیسوئسٹ پادری اور زرتشتی موبد بھی موجود رہتے۔ یہ اکبر اعظم تھا جس نے ابوالفضل اور فیضی ایسے نابغہ روزگار بھائیوں سے اپنے دربار کو عزت بخشی اور ان کی مدبرانہ دانش سے فیض یاب ہوا۔
ہمارے یہ بادشاہ، راجے، مہاراجے، نواب اور امراء رخصت ہوئے۔ برطانوی حکمران آئے تو ان میں سے بیشتر حکمرانی کے نکتے سولن، سیسرو اور ارسطو سے سیکھتے۔ انھوں نے اگر ہندوستان پر قبضہ کیا تو یہ ہماری نااہلی اور ان کے سیاسی فہم وتدبر کا نتیجہ تھا۔کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ہندوستان میں بابوؤں کی پرورش کے لیے اپنا تعلیمی نظام قائم کیا۔ لوگوں کی یہ بات وزن رکھتی ہے، اس کے ساتھ ہی یہ بھی درست ہے کہ انھوں نے یہاں کے باشندوں میں سیاست کے نئے دبستان متعارف کرائے اور جدید علوم کی جستجو پیدا کی۔ بہ طور خاص ہمارے وہ لوگ جو وکالت اور سیاست کے پیشے سے وابستہ ہوئے انھوں نے دنیا کی اعلیٰ تخلیقی صلاحیتوں سے مرصع افراد کی کتابیں اکٹھا کیں اور ان سے استفادہ کیا۔
یہ سلسلہ تقسیم ہند کے بعد بھی چلتا رہا لیکن اس کے لگ بھگ دو دہائیوں بعد پچھلی نسل ختم ہوئی یا اقتدار کی غلام گردشوں سے نکال دی گئی۔ ا ب وہ لوگ حکمرانوں کے مصاحب ہوئے جو یہ جانتے تھے کہ ترقی کرنے اور منصب و مرتبہ حاصل کرنے کے لیے دانشور ہونا اور کتابوں کے ساتھ وقت گزارنا قطعاً ضروری نہیں۔ اس کے لیء حاکم وقت کی خوشامد اور بستہ برادری بنیادی شرائط تھیں۔ وہ یہ راز جان گئے تھے کہ حکمرانوں کے ارد گرد ایسی دیوار اٹھا دیناہی کافی ہے ۔ جس کے کسی روزن سے بھی سچ کی ایک کرن حجلۂ اقتدار تک نہ پہنچے۔
دروغ برگردن راوی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں روزانہ چند اخباروں کے دس بیس شمارے طبع کرائے جاتے اور بیڈٹی کے ساتھ ''صاحب بہادر'' کے مطالعے کے لیے پیش کردیے جاتے۔ یہ وہ بیوروکریٹ تھے جو 'صاحب' کے لیے گھوسٹ رائٹنگ کرتے، ان کی'خود نوشت' جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی تحریر فرماتے اور صاحب بہادر کو یقین دلاتے کہ حضور یہ تو آپ ہی کی لکھی ہوئی کتاب ہے ۔ ہم نے تو آپ کے نوٹس کو بس مرتب کردیا ہے۔ اسی طرح وہ 'گھوسٹ' اخبار بھی حضور فیض گنجور کے مطالعے کے لیے پیش کردیے جاتے۔ یہ وہ اخبارات تھے جن کی ہر سطرسے یہی خبر ملتی تھی کہ ملک کے اندر شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ سنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی 'خود نوشت' کی گھوسٹ رائٹنگ ان ہی بیوروکریٹ کے صاحب زادے کے حصے میں آئی۔
آج طرز حکمرانی اور انداز سیاست پر ہزار ہا کتابیں موجود ہیں جن سے ہمارے حکمران استفادہ کریں تو ان کا بھلا ہو اور عوام کا بھی جو بدعنوانی، نااہلی، رشوت اور ناانصافی کی دلدل میں ناک تک دھنسے ہوئے ہیں اور ہوا کے تازہ جھونکے کی آرزو میں ترستے ہیں، اپنی زندگی بدل دینے کے وعدے اور دعوے سنتے ہوئے وہ اب ہمت ہارنے کی خندق تک آپہنچے ہیں۔ اس وقت ملک کے بے شمار سوچنے سمجھنے والے میاں صاحب کی باتوں پر اعتبار کرتے ہیں۔
ایسے وقت میں جی چاہتا ہے کہ میاں صاحب کاش گیارہویں صدی کے نظام الملک طوسی کے شاہکار ''سیاست نامہ'' کا مطالعہ کریں۔ ایک مختصر سی کتاب جو طوسی نے اس وقت تحریر کی جب وہ الپ ارسلان کا عہد گزار کرملک شاہ سلجوقی کا وزیر ہوا تھا۔ یہ کتاب شاہ سلجوقی کی فرمائش پر لکھی گئی تھی اور ہزار برس گزرجانے کے بعد آج بھی نظم حکمرانی پر اعلیٰ ترین کتاب سمجھی جاتی ہے اور اس کا حوالہ مشرق و مغرب کے دانشور دیتے ہیں۔
طوسی کے مطابق حکمرانوں کو لوگوں کی شکایتیں سننی چاہئیں اور ان شکایات کا ازالہ عدل کے ساتھ کرنا چاہیے۔ عدلیہ سے وابستہ لوگوں کی تعظیم و توقیر کرنا چاہیے جب کہ پولیس اور امن نافذ کرنے والے افراد پر کڑی نظر رکھنا، مخبروں کی ہر بات پر اعتبار نہ کرلینا اور اپنے وزیروں کا محاسبہ کرتے رہنا ایک اچھے حکمران کے لیے لازم ہے۔ اس نے تو اور بھی بہت کچھ لکھا ہے لیکن اصرار عدل کے فروغ، غریبوں کی حالت بہتر بنانے، زراعت کو فروغ دینے، رشوت ستانی کا ہر رخنہ بند کردینے اور خوشامدیوں کو اپنے آپ سے کوسوں میل دور رکھنے پر ہے۔
نظام الملک طوسی نے یہ کتاب اپنے دور کے شاہان وقت کوحکمرانی کے آداب تعلیم کرنے کے لیے لکھی تھی لیکن اس میں جو نکات بیان کیے گئے، وہ پرانے ہوجانے کے باوجود اپنی روح میں آج بھی حرف بہ حرف درست ہیں۔ ہوسکتا ہینظام الملک طوسی کی اس ہزار برس پرانی کتاب کا تذکرہ آج کچھ لوگوں کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ لے آئے لیکن ہزاروں برس پہلے سولن کا یہ قول کہ جو شخص اپنے زمانے کی سیاست سے غیر متعلق رہے، اس کے شہری حقوق غصب ہوجانے چاہئیں، ہمارے جیسے ملکوں میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ میاں صاحب ان ہی خطوط پر اپنے طرز حکمرانی کو استوار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ وہ اپنے ان اصولوں پر اٹل رہیں۔
مطالعہ آج کے سیاستدان اور مدبر ہوں یا کل کے، سب ہی کے لیے نہایت اہم رہا ہے اور انھوں نے اپنے سے پہلے والوں کی دانش سے بہت کچھ سیکھا ہے ایسی ہی کتابوں نے ان کے طرز حکمرانی کو جلا بخشی ہے۔ تاہم اس بارے میں کچھ کہنے سے پہلے، چند جملے ان معاملات کے بارے میں جو میاں صاحب کے حوالے سے ان دنوں اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں پرگردش کررہے ہیں۔
ان باتوں کو سنتے ہوئے مجھے فاتح قسطنطنیہ، سلطان محمد ثانی کی یاد آتی ہے۔ اس نے جب بازنطینی سلطنت کے عظیم شہر قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا اور اس محاصرے کو بہت دن گزرگئے لیکن اس کے بعد بھی اس کے سیکڑوں بحری جہازوں اور قسطنطنیہ کی شہر پناہ کے درمیان چند میل چوڑی زمینی پٹی حائل رہی تو اس نے اپنے بحری جہازوں کو شہر پناہ تک پہنچانے کے لیے لکڑے کے چوڑے تختوں پر چربی کی تہیں بچھانے کا حکم دیا اور پھر رات کے اندھیرے میں چربی لگے ان تختوں پر سے دھکیل کرجہازگولڈن ہارن کے شمالی ساحل تک پہنچا دیے گئے اور پھر انھوںنے وہ گولہ باری کی کہ قسطنطنیہ کو فتح ہونے میں کوئی دیر نہیں لگی۔
تاریخ کا یہ اہم اور عسکری تاریخ کا نادر واقعہ مجھے ان دنوں اس لیے یاد آتا ہے کہ ایوان اقتدار میں تیسری مرتبہ پہنچنے والے میاںنواز شریف بھی قسطنطنیہ جیسی ناقابل تسخیر شہر پناہ کا وہ صدر دروازہ ہیں جس کے سامنے خوشامد کی چربی سے لتھڑے ہوئے چوبی تختوں پر سے خوشامدیوں اور مصاحبوں کے بجرے نہایت فن کاری سے دھکیل کر پہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد اس شخص کو فتح کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔ پہلے بھی یہی لوگ 'قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں' کا نعرہ لگاتے تھے اور جب انھوں نے 12 اکتوبر 1999کی رات پلٹ کر دیکھا تو سارے پرندے پروازکرگئے تھے اور وہی لوگ رہ گئے تھے جو ان سے بعض باتیں کرتے تھے اور طبیعت پر بار ہونے والے مشورے دیتے تھے۔ یہ اندازہ تو انھیں بعد میں ہوا ہوگا کہ کڑوی باتیں اور تنقید سن لینا حکمرانوں کے لیے کونین کی اس گولی کی طرح ہوتا ہے جو ملیریا کو پچھاڑ دیتی ہے۔
انھوںنے اپنے تلخ تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہوگا لیکن خوشامد چیز ہی ایسی ہے کہ جس کے سامنے کڑوی باتیں کرنے والے راندۂ درگاہ ٹھہرتے ہیں اور خوشامدی اپنی مطلب براری کے بعد رفو چکر ہوجاتے ہیں ۔ پھر وہ شخص جسے اپنی منصف مزاجی اور قابلیت پر یقین ہوتا ہے، سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس کے ساتھ کیسا ہاتھ ہوگیا۔
ہندوستان پر حکومت کرنے والے خاندانِ غلامان ہوں یا مغل بادشاہ اور شہنشاہ، سب ہی کو علم و ادب سے اور بہ طور خاص مسلم سیاسیات سے شغف تھا۔ ان سے پہلے اموی اور عباسی خلفا، اندلس کے حکمران، سلاطین عثمانیہ سب ہی علم کے شیدا تھے۔ لاکھوں کتابوں کے انبار اکٹھا کرنے میں ایک دوسرے سبقت لے جانا ان کی روش تھی۔ ان میں سے بعض نے کتابیں لکھیں اور بہتوں نے اپنے عہد کے عالم و فاضل افراد کو، شاعروں اور مصوروں کو اپنے دربار کی زینت بنایا اور ان پر داد و دہش کی کبھی کمی نہ کی۔
علم سے عشق کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اکبر اعظم جسے ہمارے بہت سے مورخ اپنے تعصب کی بناء پر ''ان پڑھ'' لکھتے نہیں تھکتے، اس نے اپنی رسمی تعلیم کی کمی اس طرح پوری کی کہ مختلف علوم میں یکتا افراد کو وہ اپنے دربار میں جمع رکھتا، ان سے اپنے دور کے اہم علوم کی بنیادی کتابیں پڑھ کر سنتا اور پھر ان عالم وفاضل افراد سے ان کتابوں میں تحریر نکات پر بحث کرتا۔ مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ اس کا شوق تھا، اسی لیے اس کے دربار میں ہندو پنڈت تو ہوتے ہی تھے، یہودی ربی، جیسوئسٹ پادری اور زرتشتی موبد بھی موجود رہتے۔ یہ اکبر اعظم تھا جس نے ابوالفضل اور فیضی ایسے نابغہ روزگار بھائیوں سے اپنے دربار کو عزت بخشی اور ان کی مدبرانہ دانش سے فیض یاب ہوا۔
ہمارے یہ بادشاہ، راجے، مہاراجے، نواب اور امراء رخصت ہوئے۔ برطانوی حکمران آئے تو ان میں سے بیشتر حکمرانی کے نکتے سولن، سیسرو اور ارسطو سے سیکھتے۔ انھوں نے اگر ہندوستان پر قبضہ کیا تو یہ ہماری نااہلی اور ان کے سیاسی فہم وتدبر کا نتیجہ تھا۔کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ہندوستان میں بابوؤں کی پرورش کے لیے اپنا تعلیمی نظام قائم کیا۔ لوگوں کی یہ بات وزن رکھتی ہے، اس کے ساتھ ہی یہ بھی درست ہے کہ انھوں نے یہاں کے باشندوں میں سیاست کے نئے دبستان متعارف کرائے اور جدید علوم کی جستجو پیدا کی۔ بہ طور خاص ہمارے وہ لوگ جو وکالت اور سیاست کے پیشے سے وابستہ ہوئے انھوں نے دنیا کی اعلیٰ تخلیقی صلاحیتوں سے مرصع افراد کی کتابیں اکٹھا کیں اور ان سے استفادہ کیا۔
یہ سلسلہ تقسیم ہند کے بعد بھی چلتا رہا لیکن اس کے لگ بھگ دو دہائیوں بعد پچھلی نسل ختم ہوئی یا اقتدار کی غلام گردشوں سے نکال دی گئی۔ ا ب وہ لوگ حکمرانوں کے مصاحب ہوئے جو یہ جانتے تھے کہ ترقی کرنے اور منصب و مرتبہ حاصل کرنے کے لیے دانشور ہونا اور کتابوں کے ساتھ وقت گزارنا قطعاً ضروری نہیں۔ اس کے لیء حاکم وقت کی خوشامد اور بستہ برادری بنیادی شرائط تھیں۔ وہ یہ راز جان گئے تھے کہ حکمرانوں کے ارد گرد ایسی دیوار اٹھا دیناہی کافی ہے ۔ جس کے کسی روزن سے بھی سچ کی ایک کرن حجلۂ اقتدار تک نہ پہنچے۔
دروغ برگردن راوی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں روزانہ چند اخباروں کے دس بیس شمارے طبع کرائے جاتے اور بیڈٹی کے ساتھ ''صاحب بہادر'' کے مطالعے کے لیے پیش کردیے جاتے۔ یہ وہ بیوروکریٹ تھے جو 'صاحب' کے لیے گھوسٹ رائٹنگ کرتے، ان کی'خود نوشت' جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی تحریر فرماتے اور صاحب بہادر کو یقین دلاتے کہ حضور یہ تو آپ ہی کی لکھی ہوئی کتاب ہے ۔ ہم نے تو آپ کے نوٹس کو بس مرتب کردیا ہے۔ اسی طرح وہ 'گھوسٹ' اخبار بھی حضور فیض گنجور کے مطالعے کے لیے پیش کردیے جاتے۔ یہ وہ اخبارات تھے جن کی ہر سطرسے یہی خبر ملتی تھی کہ ملک کے اندر شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ سنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی 'خود نوشت' کی گھوسٹ رائٹنگ ان ہی بیوروکریٹ کے صاحب زادے کے حصے میں آئی۔
آج طرز حکمرانی اور انداز سیاست پر ہزار ہا کتابیں موجود ہیں جن سے ہمارے حکمران استفادہ کریں تو ان کا بھلا ہو اور عوام کا بھی جو بدعنوانی، نااہلی، رشوت اور ناانصافی کی دلدل میں ناک تک دھنسے ہوئے ہیں اور ہوا کے تازہ جھونکے کی آرزو میں ترستے ہیں، اپنی زندگی بدل دینے کے وعدے اور دعوے سنتے ہوئے وہ اب ہمت ہارنے کی خندق تک آپہنچے ہیں۔ اس وقت ملک کے بے شمار سوچنے سمجھنے والے میاں صاحب کی باتوں پر اعتبار کرتے ہیں۔
ایسے وقت میں جی چاہتا ہے کہ میاں صاحب کاش گیارہویں صدی کے نظام الملک طوسی کے شاہکار ''سیاست نامہ'' کا مطالعہ کریں۔ ایک مختصر سی کتاب جو طوسی نے اس وقت تحریر کی جب وہ الپ ارسلان کا عہد گزار کرملک شاہ سلجوقی کا وزیر ہوا تھا۔ یہ کتاب شاہ سلجوقی کی فرمائش پر لکھی گئی تھی اور ہزار برس گزرجانے کے بعد آج بھی نظم حکمرانی پر اعلیٰ ترین کتاب سمجھی جاتی ہے اور اس کا حوالہ مشرق و مغرب کے دانشور دیتے ہیں۔
طوسی کے مطابق حکمرانوں کو لوگوں کی شکایتیں سننی چاہئیں اور ان شکایات کا ازالہ عدل کے ساتھ کرنا چاہیے۔ عدلیہ سے وابستہ لوگوں کی تعظیم و توقیر کرنا چاہیے جب کہ پولیس اور امن نافذ کرنے والے افراد پر کڑی نظر رکھنا، مخبروں کی ہر بات پر اعتبار نہ کرلینا اور اپنے وزیروں کا محاسبہ کرتے رہنا ایک اچھے حکمران کے لیے لازم ہے۔ اس نے تو اور بھی بہت کچھ لکھا ہے لیکن اصرار عدل کے فروغ، غریبوں کی حالت بہتر بنانے، زراعت کو فروغ دینے، رشوت ستانی کا ہر رخنہ بند کردینے اور خوشامدیوں کو اپنے آپ سے کوسوں میل دور رکھنے پر ہے۔
نظام الملک طوسی نے یہ کتاب اپنے دور کے شاہان وقت کوحکمرانی کے آداب تعلیم کرنے کے لیے لکھی تھی لیکن اس میں جو نکات بیان کیے گئے، وہ پرانے ہوجانے کے باوجود اپنی روح میں آج بھی حرف بہ حرف درست ہیں۔ ہوسکتا ہینظام الملک طوسی کی اس ہزار برس پرانی کتاب کا تذکرہ آج کچھ لوگوں کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ لے آئے لیکن ہزاروں برس پہلے سولن کا یہ قول کہ جو شخص اپنے زمانے کی سیاست سے غیر متعلق رہے، اس کے شہری حقوق غصب ہوجانے چاہئیں، ہمارے جیسے ملکوں میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ میاں صاحب ان ہی خطوط پر اپنے طرز حکمرانی کو استوار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ وہ اپنے ان اصولوں پر اٹل رہیں۔