بھارت کا جنگی جنون روس سے میزائل نظام خریداری معاہدہ
غربت کی انتہائی پستی کو چھونے والا ملک بھارت اپنی اکانومی کا بڑا حصہ جنگی ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کر رہا ہے۔
غربت کی انتہائی پستی کو چھونے والا ملک بھارت اپنی اکانومی کا بڑا حصہ جنگی ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کر رہا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت اور روس کے درمیان خطرناک ترین طیارہ شکن میزائل نظام ایس 400 کے لیے 5 بلین امریکی ڈالر کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ جمعہ کو اس وقت طے پایا جب کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن بھارت کے دورے پر ہیں۔ وزیراعظم مودی اور روس کے صدر پوتن نے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔
بھارت اور روس کے درمیان دفاعی، تجارتی اور خلائی تحقیق سے متعلق معاہدوں اور رواں برس ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں اندرا 2018 کے انعقاد پر اہم امور پر بھی اتفاق کرلیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے امریکا کی طرف سے پابندیوں کی پرواہ کیے بغیر روس سے تقریباً 400 کلومیٹر تک فضا سے فضا میں مار کرنیوالے جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم ایس 400 کی خریداری کے سودے پر دستخط کر دیے ہیں۔ بھارت 5.43 ارب ڈالر میں فضا سے فضا میں مار کرنیوالے ان غیر معمولی میزائلوں کے پانچ اسکواڈرن خریدے گا۔
غربت کی انتہائی پستی کو چھونے والا ملک بھارت اپنی اکانومی کا بڑا حصہ جنگی ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کر رہا ہے جس کے پیچھے نریندر مودی کی شدت پسندانہ سوچ کا بھی عمل دخل ہے۔ بھارتی وزیراعظم بدنام زمانہ دہشتگرد و شدت پسند تنظیم آر ایس ایس کے بنیادی رکن ہیں جس کی نہ صرف مسلمان دشمنی بلکہ بھارت کی دیگر اقلیتوں اور نچلی ذاتوں سے نفرت پوری دنیا پر آشکار ہوچکی ہے۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون سے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔
پوتن سے ملنے پر مودی کی خوشی کا عالم عجیب تھا۔ بھارت کئی بار اس عزم کا اظہار کرچکا ہے کہ وہ پاکستان و چین کے مقابلے میں خود کو ایک بڑی معاشی اور عسکری قوت کے طور پر تیار کر رہا ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اپنی دفاعی صلاحیت پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ بھارت امریکا، روس، اسرائیل، فرانس، برطانیہ اور دیگر طاقتور قوتوں کے تعاون سے اپنی دفاعی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔
خبروں کے مطابق دنیا میں دفاعی آلات خریدنے والا سب سے بڑا ملک بھارت ہی ہے۔ ایک طرف بھارت کی ''فضول خرچی'' کا یہ عالم ہے اور دوسری جانب بھارتی عوام کی حالت زار پر خود بھارت کا دانشمند طبقہ متوشش ہے۔ بھارت کی 27 کروڑ آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔
ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کی درجہ بندی کے مطابق بھارت 131 ویں درجے پر ہے۔ چند سال قبل بھارت کی نوبیل انعام یافتہ شخصیت امریتا سین نے عوام کی خدمت کے حوالے سے بھارتی حکومت کی ناکامی کے اعدادوشمار پیش کیے تھے جن کے مطابق بھارت میں ہر 1000 نوزائیدہ بچوں میں سے 50 بچے نوزائیدگی میں ہی مر جاتے ہیں، بھارت میں ہر ایک لاکھ میں سے 230 خواتین زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں، بھارت میں صرف 66 فیصد بچوں کو حفاظتی ویکسین لگائی جاتی ہے۔
امریتا سین کے مطابق بھارت کے لیے سب سے زیادہ خطرے کی بات بچوں میں غذائیت کی کمی ہے کیونکہ بھارت کے بچوں کی کل آبادی کا نصف غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔ بھارت کو اپنی آبادی کو درپیش ان مسائل پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، نہ کہ اپنے ہمسایوں کو دھمکیاں دینے اور سرحد پر کشیدگی پیدا کرنے کے، جب کہ جنگی ہتھیاروں کی خریداری نہ صرف خطے میں انتشار پیدا کریگی بلکہ بھارت جیسے ''غریب'' ملک کی معیشت کے لیے سم قاتل ثابت ہوگی جو کہ ایک بڑی معاشی قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
بھارت کا بڑھتا ہوا یہ جنگی جنون نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے چھوٹے ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے، بھارت کا یہ جنگی جنون کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا ہی چلا جا رہا اور وہ اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر سالانہ بے دریغ خرچ کر رہا ہے۔ بہتر ہوتا کہ بھارت اربوں ڈالر جنگی جنون کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے اپنے ملک میں غربت کی چکی میں پسے ہوئے کروڑوں افراد کی بہتری کے لیے صرف کرتا۔
بھارت کے جدید ترین ہتھیاروں کے تجربات سے خطے میں اسلحے کی دوڑ مزید تیز ہوجائے گی اور پاکستان کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرنے ہونگے جس سے اس کی معیشت پر دبائو میں اضافہ ہوگا اور خطے میں غربت، جہالت اور بیماریوں کے خاتمے کے منصوبے متاثر ہوں گے۔
یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ بھارت میں بہت جلد مڈٹرم انتخابات ہونے والے ہیں جسکی تیاری حکمراں جماعت عوامی ریلیف کے منصوبوں کے بجائے ہمیشہ متشددانہ اور مذہبی و فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دے کر کرتی ہے۔ اسی تناظر میں گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے مستقل پاکستان مخالف بیانات سامنے آرہے ہیں۔ نریندر مودی یہ بھلا بیٹھے ہیں کہ خطے میں جنگ چھڑنا کسی کے لیے بھی سودمند نہیں ہوگا۔ اس موقع پر عالمی اداروں کو بھی ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، خطے کو بھارت کی جارحیت اور جنگجویانہ تیاریوں سے خطرہ ہے۔
بھارت اور روس کے درمیان دفاعی، تجارتی اور خلائی تحقیق سے متعلق معاہدوں اور رواں برس ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں اندرا 2018 کے انعقاد پر اہم امور پر بھی اتفاق کرلیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے امریکا کی طرف سے پابندیوں کی پرواہ کیے بغیر روس سے تقریباً 400 کلومیٹر تک فضا سے فضا میں مار کرنیوالے جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم ایس 400 کی خریداری کے سودے پر دستخط کر دیے ہیں۔ بھارت 5.43 ارب ڈالر میں فضا سے فضا میں مار کرنیوالے ان غیر معمولی میزائلوں کے پانچ اسکواڈرن خریدے گا۔
غربت کی انتہائی پستی کو چھونے والا ملک بھارت اپنی اکانومی کا بڑا حصہ جنگی ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کر رہا ہے جس کے پیچھے نریندر مودی کی شدت پسندانہ سوچ کا بھی عمل دخل ہے۔ بھارتی وزیراعظم بدنام زمانہ دہشتگرد و شدت پسند تنظیم آر ایس ایس کے بنیادی رکن ہیں جس کی نہ صرف مسلمان دشمنی بلکہ بھارت کی دیگر اقلیتوں اور نچلی ذاتوں سے نفرت پوری دنیا پر آشکار ہوچکی ہے۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون سے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔
پوتن سے ملنے پر مودی کی خوشی کا عالم عجیب تھا۔ بھارت کئی بار اس عزم کا اظہار کرچکا ہے کہ وہ پاکستان و چین کے مقابلے میں خود کو ایک بڑی معاشی اور عسکری قوت کے طور پر تیار کر رہا ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اپنی دفاعی صلاحیت پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ بھارت امریکا، روس، اسرائیل، فرانس، برطانیہ اور دیگر طاقتور قوتوں کے تعاون سے اپنی دفاعی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔
خبروں کے مطابق دنیا میں دفاعی آلات خریدنے والا سب سے بڑا ملک بھارت ہی ہے۔ ایک طرف بھارت کی ''فضول خرچی'' کا یہ عالم ہے اور دوسری جانب بھارتی عوام کی حالت زار پر خود بھارت کا دانشمند طبقہ متوشش ہے۔ بھارت کی 27 کروڑ آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔
ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کی درجہ بندی کے مطابق بھارت 131 ویں درجے پر ہے۔ چند سال قبل بھارت کی نوبیل انعام یافتہ شخصیت امریتا سین نے عوام کی خدمت کے حوالے سے بھارتی حکومت کی ناکامی کے اعدادوشمار پیش کیے تھے جن کے مطابق بھارت میں ہر 1000 نوزائیدہ بچوں میں سے 50 بچے نوزائیدگی میں ہی مر جاتے ہیں، بھارت میں ہر ایک لاکھ میں سے 230 خواتین زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں، بھارت میں صرف 66 فیصد بچوں کو حفاظتی ویکسین لگائی جاتی ہے۔
امریتا سین کے مطابق بھارت کے لیے سب سے زیادہ خطرے کی بات بچوں میں غذائیت کی کمی ہے کیونکہ بھارت کے بچوں کی کل آبادی کا نصف غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔ بھارت کو اپنی آبادی کو درپیش ان مسائل پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، نہ کہ اپنے ہمسایوں کو دھمکیاں دینے اور سرحد پر کشیدگی پیدا کرنے کے، جب کہ جنگی ہتھیاروں کی خریداری نہ صرف خطے میں انتشار پیدا کریگی بلکہ بھارت جیسے ''غریب'' ملک کی معیشت کے لیے سم قاتل ثابت ہوگی جو کہ ایک بڑی معاشی قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
بھارت کا بڑھتا ہوا یہ جنگی جنون نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے چھوٹے ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے، بھارت کا یہ جنگی جنون کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا ہی چلا جا رہا اور وہ اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر سالانہ بے دریغ خرچ کر رہا ہے۔ بہتر ہوتا کہ بھارت اربوں ڈالر جنگی جنون کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے اپنے ملک میں غربت کی چکی میں پسے ہوئے کروڑوں افراد کی بہتری کے لیے صرف کرتا۔
بھارت کے جدید ترین ہتھیاروں کے تجربات سے خطے میں اسلحے کی دوڑ مزید تیز ہوجائے گی اور پاکستان کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرنے ہونگے جس سے اس کی معیشت پر دبائو میں اضافہ ہوگا اور خطے میں غربت، جہالت اور بیماریوں کے خاتمے کے منصوبے متاثر ہوں گے۔
یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ بھارت میں بہت جلد مڈٹرم انتخابات ہونے والے ہیں جسکی تیاری حکمراں جماعت عوامی ریلیف کے منصوبوں کے بجائے ہمیشہ متشددانہ اور مذہبی و فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دے کر کرتی ہے۔ اسی تناظر میں گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے مستقل پاکستان مخالف بیانات سامنے آرہے ہیں۔ نریندر مودی یہ بھلا بیٹھے ہیں کہ خطے میں جنگ چھڑنا کسی کے لیے بھی سودمند نہیں ہوگا۔ اس موقع پر عالمی اداروں کو بھی ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، خطے کو بھارت کی جارحیت اور جنگجویانہ تیاریوں سے خطرہ ہے۔