سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کا بے دخلی کیخلاف احتجاج

چیف جسٹس انسانی بنیاد پر اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں، ایف سی ایریا میں آپریشن روکا جائے، مظاہرین

احتجاج میں مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، آخری اطلاعات تک دھرنا رات گئے ختم کر دیا گیا۔ فوٹو: فائل

ایف سی ایریا ریذیڈنٹس کمیٹی کی جانب سے ہفتے کی شب لیاقت آباد نمبر 4 کی مین شاہراہ پر اسٹیٹ آفس کی جانب سے سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کی بے دخلی کے خلاف مظاہرہ اور علامتی دھرنا دیا گیا۔

کراچی میں سرکاری کوارٹرز کے مکینوں نے بے دخلی کے خلاف مظاہرہ اور علامتی دھرنا دیا جس کے باعث ناظم آباد سے لیاقت آباد آنے والی مین شاہراہ پر ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی، مظاہرے اور علامتی دھرنے میں بزرگوں، خواتین، بچوں اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر اسٹیٹ آفس کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں قابضین میں شمار نہ کیا جائے، ہم قانون کے مطابق اسٹیٹ آفس کو کرایہ ادا کر کے ان فلیٹوں میں رہتے ہیں، اسٹیٹ آفس ہمارے گھروں کو خالی کرانے کیلیے کسی بھی آپریشن سے باز رہے، ہم کسی بھی صورت میں اپنے گھر خالی نہیں کریں گے، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کراچی کے وفاقی سرکاری فلیٹوں کے متاثرین کے گھروں کو بچانے کیلیے فوری پالیسی کا اعلان کریں۔


مظاہرین نے چیف جسٹس پاکستان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ انسانی بنیاد پر اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور اسٹیٹ آفس کو کارروائی سے روکا جائے، انھوں نے واضح کیا کہ اگر اسٹیٹ آفس نے ایف سی ایریا میں آپریشن کیا تو ہم بھرپور احتجاج کریں گے۔

لیاقت آباد نمبر 4 کی مرکزی شاہراہ پر احتجاج کے باعث ناظم آباد سے آنے والا ٹریفک معطل ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا جس کی وجہ سے عام شہریوں، پبلک ٹرانسپورٹ سمیت دیگر گاڑیوں کے مسافروں کو شدید مشکلات اور دقت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ٹریفک پولیس بے ہنگم ٹریفک جام پر قابو پانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے سائٹ حبیب بینک فلائی اوور تک گاڑیوں کی لمبی قطار لگ گئی جس میں مال بردار گاڑیاں بھی شامل تھیں۔

آخری اطلاعات آنے تک سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کی جانب سے علامتی دھرنا جاری تھا جبکہ پولیس کی بھی بھاری نفری بھی موقع پر موجود تھی، آخری اطلاعات آنے تک سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کی جانب سے دیے جانے والا دھرنا رات گئے ختم کر دیا گیا۔

 
Load Next Story