سرکاری مکانات اور فلیٹس خالی کرانے سے متعلق پالیسی طلب
25 سال سے سرکاری گھر میں رہائش پذیر ہیں، کرایہ دیتے ہیں، گھر خالی کرا کر سندھ سیکریٹریٹ ملازمین کو دیے جائیں گے
یہ غریب کہاں جائیں گے، سندھ حکومت مسئلے کا حل نکالے، ہائی کورٹ عدالت سے 3 ہفتوں کی مہلت طلب۔ فوٹو:فائل
سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے سرکاری مکانات اور فلیٹس خالی کرانے سے متعلق پالیسی طلب کر لی۔
جسٹس فہیم صدیقی کے روبرو صوبائی حکومت کے سرکاری مکانات اور فلیٹس خالی کرانے سے متعلق سماعت ہوئی، مختلف محکموں کے سیکڑوں صوبائی و سرکاری ملازمین ہائی کورٹ پہنچ گئے، پولیس حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت سے 3 ہفتوں کی مہلت طلب کر لی، عدالت نے پالیسی میں تبدیلی یا الاٹیز کو فیور دینے کی مہلت دے دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنی پالیسی میں تبدیلی کریں یا ان کو فیور دیں یہ غریب کہاں جائیں گے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم مانتے ہیں غلطی ہماری ہے، لیکن ہماری پالیسی یہ نہیں کہ غیر قانونی کسی کو وہاں پر رہنے دیا جائے، گھر سرکاری ملازمین کیلیے ہیں، لیکن ان کو بے گھر بھی نہیں ہونے دیں گے، میں معاملہ سندھ حکومت کو کہہ کر کیبنٹ میں رکھوں گا۔
دوسری جانب ملازمین نے موقف اپنایا تھا کہ ہم سندھ حکومت کے مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین ہیں، 20، 25 سال سے سرکاری گھروں میں رہائش پذیر ہیں، سندھ حکومت نے 285 گھر زبردستی خالی کرانے کا حکم دیا ہے، ہم سے گھر لے کر سندھ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو دیے جائیں گے ہم قبضہ گروپ نہیں، باقاعدہ تنخواہوں سے کرایہ ادا کر رہے ہیں، سندھ حکومت کو زبردستی گھر خالی کرانے سے روکا جائے، عدالت نے الاٹیز سے متعلق نئی پالیسی طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
جسٹس فہیم صدیقی کے روبرو صوبائی حکومت کے سرکاری مکانات اور فلیٹس خالی کرانے سے متعلق سماعت ہوئی، مختلف محکموں کے سیکڑوں صوبائی و سرکاری ملازمین ہائی کورٹ پہنچ گئے، پولیس حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت سے 3 ہفتوں کی مہلت طلب کر لی، عدالت نے پالیسی میں تبدیلی یا الاٹیز کو فیور دینے کی مہلت دے دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنی پالیسی میں تبدیلی کریں یا ان کو فیور دیں یہ غریب کہاں جائیں گے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم مانتے ہیں غلطی ہماری ہے، لیکن ہماری پالیسی یہ نہیں کہ غیر قانونی کسی کو وہاں پر رہنے دیا جائے، گھر سرکاری ملازمین کیلیے ہیں، لیکن ان کو بے گھر بھی نہیں ہونے دیں گے، میں معاملہ سندھ حکومت کو کہہ کر کیبنٹ میں رکھوں گا۔
دوسری جانب ملازمین نے موقف اپنایا تھا کہ ہم سندھ حکومت کے مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین ہیں، 20، 25 سال سے سرکاری گھروں میں رہائش پذیر ہیں، سندھ حکومت نے 285 گھر زبردستی خالی کرانے کا حکم دیا ہے، ہم سے گھر لے کر سندھ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو دیے جائیں گے ہم قبضہ گروپ نہیں، باقاعدہ تنخواہوں سے کرایہ ادا کر رہے ہیں، سندھ حکومت کو زبردستی گھر خالی کرانے سے روکا جائے، عدالت نے الاٹیز سے متعلق نئی پالیسی طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔