وزیر اعظم کا بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کا وعدہ
بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ خوشحال اور ترقی یافتہ صوبہ بن سکتا ہے
بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ خوشحال اور ترقی یافتہ صوبہ بن سکتا ہے (فوٹو: فائل)
وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کو بلوچستان میں ایک مصروف دن گزارا، وہاں انھوں نے صوبائی کابینہ کے اجلاس' گورنر ہاؤس میں اراکین اسمبلی' سول سوسائٹی' وکلاء اور قبائلی عمائدین سمیت ریٹائرڈ ججزسے خطاب کے علاوہ ہیڈ کوارٹر سدرن کمانڈ کوئٹہ کینٹ کا دورہ کیا جہاں انھیں بلوچستان کی سیکیورٹی صورت حال' صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات' سماجی اقتصادی ترقی کے لیے شروع کیے جانے والے خوشحال بلوچستان پروگرام' سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی اور پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے معاملات پر بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اقتصادی مستقبل ہے خیبر پختو نخوا کے شورش زدہ علاقوں میں استحکام آنے کے بعد ہماری توجہ بلوچستان پر مرکوز ہے، جوملک کا مستقبل ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بلوچستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے سیکیورٹی فورسزکی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے اصل تشخص اور صلاحیتوں کو قومی کاوشوں سے ہی بروئے کار لایا جا سکتا ہے، اس حوالے سے وفاقی و صوبائی حکومتیں اور پاک فوج مل کر کام کریں گی اور بلوچستان کی اصل صلاحیتوںکو ابھاریں گے۔ انھوں نے کہا کہ انشاء اللہ جامع قومی کوششوں سے پاکستان کو پر امن اور ترقی یافتہ ملک بنائیں گے ۔
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا لیکن ترقی' خوشحالی ، تعلیم اور انفرااسٹرکچر کے حوالے سے سب سے پسماندہ صوبہ ہے' اس صوبے کی پسماندگی دور کرنے اور وہاں ترقی کا عمل شروع کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کا دورہ خوش آیند ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں انھی حقائق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کے ثمرات صوبے کوملنے چاہئیں، یہاں کے عوام کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیںکریں گے جس پر بعد میں معذرت کرنا پڑے، سی پیک معاہدے کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں' سی پیک سے متعلق بلوچستان کے تحفظات کا ازالہ کرکے منصوبہ میں اس کو اس کا پوراحق دیں گے۔
حکومت بلوچستان کو درپیش مالی بحران کے حل کے لیے وفاق ہر ممکن تعاون کرے گا، ماضی میں ہونے والی ناقص منصوبہ بندیوں سے عوام میں احساس محرومی میں اضافہ ہوا ہے ، بلوچستان کی ترقی سے پاکستانی کی ترقی وابستہ ہے، اس صوبے کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر غربت و پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کا بخوبی احساس ہے، وفاق صوبے کے ساتھ بطور پارٹنرکام کرے گا، حکومت بلوچستان کی تجاویز پر صوبے کی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی بنائیںگے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو ترقی کے دھارے میں لانے کے لیے صوبائی حکومت کو درپیش مالی بحران کے حل کے لیے وفاق ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور اس صوبے کو دیگر صوبوں کے مساوی ترقی کے مواقع فراہم کریںگے۔
اس سے پیشتر حکومتوں نے بھی بلوچستان میں ترقی کے وعدے کیے لیکن وہ ایفا نہ ہو سکے اور یہ صوبہ مسلسل پسماندگی اور غربت کا شکار چلا آ رہا ہے۔ بلوچستان کو بجٹ میں ایک بڑا حصہ فراہم کیا جاتا رہا مگر صوبے میں وہ ترقی نہ ہو سکی جو ہونی چاہیے تھی اس کی وجہ بھی وزیراعظم عمران خان نے بیان کرتے ہوئے بتائی کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے دنیا کا کوئی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ کرپشن پر قابو نہ پا لے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اس صوبے میں سونا' تانبا' کوئلہ' کرومائیٹ کے ساڑھے چار سو ارب ڈالر کے ذخائر اور تیل موجود ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں غربت ہے جس کی بڑی وجہ ان وسائل سے فائدہ نہ اٹھانا ہے۔
اگر ان وسائل سے بھرپور انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ خوشحال اور ترقی یافتہ صوبہ بن سکتا ہے۔ بلوچستان میں عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو انقلابی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا' دریائے سندھ سے بلوچستان کو اس کا مکمل حصہ دیا جائے تو زرعی شعبے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ بلوچستان کو ترقی کے دھارے میں لانے کے لیے وہاں لوگوں پر سرمایہ کاری کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہ امر پریشان کن ہے کہ بلوچستان کو ماضی میں جو وسائل مہیا کیے جاتے رہے ان کا ایک بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہوتا رہا' جب تک کرپشن کے ناسور کو ختم نہیں کیا جائے گا ترقی کی باتیں صرف خواب ہی رہیں گی۔ وزیراعظم عمران خان کا بلوچستان میں خوشحالی اور ترقی کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ جلد پورا ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو صوبے کے عوام میں پہلے سے موجود مایوسی اور احساس محرومی میں مزید اضافہ ہونے سے اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اقتصادی مستقبل ہے خیبر پختو نخوا کے شورش زدہ علاقوں میں استحکام آنے کے بعد ہماری توجہ بلوچستان پر مرکوز ہے، جوملک کا مستقبل ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بلوچستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے سیکیورٹی فورسزکی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے اصل تشخص اور صلاحیتوں کو قومی کاوشوں سے ہی بروئے کار لایا جا سکتا ہے، اس حوالے سے وفاقی و صوبائی حکومتیں اور پاک فوج مل کر کام کریں گی اور بلوچستان کی اصل صلاحیتوںکو ابھاریں گے۔ انھوں نے کہا کہ انشاء اللہ جامع قومی کوششوں سے پاکستان کو پر امن اور ترقی یافتہ ملک بنائیں گے ۔
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا لیکن ترقی' خوشحالی ، تعلیم اور انفرااسٹرکچر کے حوالے سے سب سے پسماندہ صوبہ ہے' اس صوبے کی پسماندگی دور کرنے اور وہاں ترقی کا عمل شروع کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کا دورہ خوش آیند ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں انھی حقائق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کے ثمرات صوبے کوملنے چاہئیں، یہاں کے عوام کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیںکریں گے جس پر بعد میں معذرت کرنا پڑے، سی پیک معاہدے کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں' سی پیک سے متعلق بلوچستان کے تحفظات کا ازالہ کرکے منصوبہ میں اس کو اس کا پوراحق دیں گے۔
حکومت بلوچستان کو درپیش مالی بحران کے حل کے لیے وفاق ہر ممکن تعاون کرے گا، ماضی میں ہونے والی ناقص منصوبہ بندیوں سے عوام میں احساس محرومی میں اضافہ ہوا ہے ، بلوچستان کی ترقی سے پاکستانی کی ترقی وابستہ ہے، اس صوبے کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر غربت و پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کا بخوبی احساس ہے، وفاق صوبے کے ساتھ بطور پارٹنرکام کرے گا، حکومت بلوچستان کی تجاویز پر صوبے کی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی بنائیںگے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو ترقی کے دھارے میں لانے کے لیے صوبائی حکومت کو درپیش مالی بحران کے حل کے لیے وفاق ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور اس صوبے کو دیگر صوبوں کے مساوی ترقی کے مواقع فراہم کریںگے۔
اس سے پیشتر حکومتوں نے بھی بلوچستان میں ترقی کے وعدے کیے لیکن وہ ایفا نہ ہو سکے اور یہ صوبہ مسلسل پسماندگی اور غربت کا شکار چلا آ رہا ہے۔ بلوچستان کو بجٹ میں ایک بڑا حصہ فراہم کیا جاتا رہا مگر صوبے میں وہ ترقی نہ ہو سکی جو ہونی چاہیے تھی اس کی وجہ بھی وزیراعظم عمران خان نے بیان کرتے ہوئے بتائی کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے دنیا کا کوئی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ کرپشن پر قابو نہ پا لے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اس صوبے میں سونا' تانبا' کوئلہ' کرومائیٹ کے ساڑھے چار سو ارب ڈالر کے ذخائر اور تیل موجود ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں غربت ہے جس کی بڑی وجہ ان وسائل سے فائدہ نہ اٹھانا ہے۔
اگر ان وسائل سے بھرپور انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ خوشحال اور ترقی یافتہ صوبہ بن سکتا ہے۔ بلوچستان میں عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو انقلابی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا' دریائے سندھ سے بلوچستان کو اس کا مکمل حصہ دیا جائے تو زرعی شعبے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ بلوچستان کو ترقی کے دھارے میں لانے کے لیے وہاں لوگوں پر سرمایہ کاری کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہ امر پریشان کن ہے کہ بلوچستان کو ماضی میں جو وسائل مہیا کیے جاتے رہے ان کا ایک بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہوتا رہا' جب تک کرپشن کے ناسور کو ختم نہیں کیا جائے گا ترقی کی باتیں صرف خواب ہی رہیں گی۔ وزیراعظم عمران خان کا بلوچستان میں خوشحالی اور ترقی کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ جلد پورا ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو صوبے کے عوام میں پہلے سے موجود مایوسی اور احساس محرومی میں مزید اضافہ ہونے سے اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔