افغانستان میں جنگ کا کھیل

افغانستان میں طالبان کے ساتھ ساتھ داعش بھی کارروائیاں کرتی ہے۔

افغانستان میں طالبان کے ساتھ ساتھ داعش بھی کارروائیاں کرتی ہے۔فوٹو: فائل

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے15صوبوں میں آپریشن کے دوران 57 جنگجو مارے گئے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق افغان فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف 15 صوبوں میں زمینی اور فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ یہ کارروائیاں کنڑ، ہلمند، بغلان، قندھار، ننگرہار، ہرات، غزنی، بدخشاں، اروزگان، نیمروز، پکتیا، فاریاب، خوست، سرائے پل اور لوگر صوبوں میں کی گئیں۔ اس آپریشن میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں اور اسلحے کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ ادھر دارالحکومت کابل میں2 بم حملوں کے نتیجے میں2 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے۔ ان دھماکوں میں 6 پولیس اہلکاروں کے علاوہ 3 شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات یہ ہیں کہ زخمیوں میں کابل پولیس کا سربراہ بھی شامل ہے۔ افغانستان میں مسلح باغی گروپوں اور حکومتی سیکیورٹی اداروں کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں' دونوں جانب سے خاصا جانی نقصان بھی ہورہا ہے ۔ افغانستان کی فورسز نے ملک کے پندرہ صوبوں میں جو آپریشن شروع کر رکھا ہے' وہ کتنا موثر رہتا ہے' اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ افغانستان میں لڑنے والے مزاحمتی گروپ بھی خاصے مضبوط ہیں' ان کی تربیت گاہیں اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے ٹھکانے بھی موجود ہیں، ان کا مالیاتی اور اسلحہ کی خرید وفروخت اور ترسیل کا نظام بھی موثر ہے ، اس کی وجہ سے ہی وہ کارروائیاں کررہے ہیں۔ اس کا ثبوت کابل میںبم دھماکے ہیں' اس سے قبل بھی افغان طالبان خاصی موثر کارروائیاں کرتے رہے ہیں' افغانستان میں طالبان کے ساتھ ساتھ داعش بھی کارروائیاں کرتی ہے۔


افغان فورسز اپنی صلاحیت کے مطابق جنگجو گروپوں کا مقابلہ کر رہی ہیں لیکن وہ جنگجوؤں کی مزاحمت کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں کیونکہ ان کی تربیت و تیاری کا معیار اعلیٰ نہیں ہے' امریکا اور نیٹو کی فوجیں بھی افغانستان میں موجود ہیں اور وہ بھی کارروائیاں کر رہی ہیں لیکن ان کا کردار انفارمیشن' ٹریننگ اور مدد گار کا ہے' جب افغان فورسز انھیں مدد کے لیے بلاتی ہیں تب وہ کارروائیاں کرتے ہیں' موجودہ صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ افغانستان میں لڑنے والے جنگجوؤں کے خلاف معیاری اور بھرپور عسکری انداز میں کارروائیاں کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا آپشن بھی کھلا رکھا گیا ہے۔

ادھر افغانستان میں برسراقتدار طبقے کی منافقت کو بھی سمجھا جائے اور اس حکمران طبقے کے دہرے معیار کو کڑی کسوٹی پر پرکھا جائے کیونکہ افغانستان میں مکاری' جھوٹ اور دغا بازی ایک کلچر اور روایت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ حکمران طقبہ امریکا، یورپ اور دیگر ممالک سے اربوں ڈالر کی امداد لے رہا ہے لیکن اس کا رزلٹ کچھ بھی نہیں۔ جنگجو گروپوں کی مالیاتی لائف لائن بھی اربوں ڈالر کی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ان پہلوؤں پر غور کر کے پالیسی ترتیب دینی چاہیے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو بھی انھی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر افغانستان کے بارے میں پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔
Load Next Story