ڈائویونیورسٹی کا کانووکیشن 1100 طلبا کو اسناد تفویض

گورنر سندھ شرکت نہ کرسکے،نمایاں طلبا میں گولڈ میڈل اور سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے.

ڈائو یونیورسٹی کے چوتھے کانووکیشن پر وائس چانسلر ڈاکٹر مسعود حمید خان طالبہ کو سند دے رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

COLOMBO:
ڈائویونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے چوتھے کانووکیشن میں ایم بی بی ایس ، بی ڈی ایس ، نرسنگ، میڈیکل ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں پاس آؤٹ ہونے والے 1100 طلبہ وطالبات میں اسناد تفویض کی گئیں کاونوکیشن میں چانسلر وگورنر سندھ شرکت نہ کرسکے۔

اوجھاکیمپس میں اتوارکو کانووکیشن وائس چانسلرپروفیسر مسعود حمید خان کی صدارت میں ہواجس میں ڈائویونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر محمد عمر فاروق، ڈائو میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر جنید اشرف، ڈائوانٹرنیشنل میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹرمحمد مسرور،پروفیسر رعنا مسعود سمیت بڑی تعداد میں معززین،اکیڈمک کونسل کے اراکین، پروفیسرز، چیئرمینوں، ارکان فیکلٹی، طالب علموں اوران کے والدین نے بھی شرکت کی۔




جلسہ تقسم اسناد سے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود حمید خان نے پاس آؤٹ طلبا اوران کے والدین کومبارک باد دیتے ہوئے کہاکہ اب آپ پرملک وقوم کی خدمت کیلیے بھاری ذمے داری عائد ہو گئی، 2003 میں یونیورسٹی کے آغازکے وقت صرف 3 انسٹی ٹیوٹ تھے لیکن سب کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے یونیورسٹی میں40 انسٹی ٹیوٹ قائم کیے جاچکے ہیں،ڈاکٹر مسعود حمید خان،پروفیسر محمد عمر فاروق اور پروفیسر ڈاکٹر جنید اشرف نے طلبا میںگولڈ میڈل اور سرٹیفکیٹ تقسیم کیے،2012 کی بہترین ایم بی بی ایس گریجویٹ، مومینہ وقار، ڈائو میڈیکل کالج کی 3 نمایاں طالب علموںکو رشیقہ محمود، روعما، امارہ آصف کونمایاں گریجویٹس جبکہ سابقہ سندھ میڈیکل کالج کی 3 نمایاں طالبات نیلم کھٹپال، سائمہ ریاض اور فریال شریف کو گولڈ میڈلز اور سرٹیفکیٹس دیے گئے۔
Load Next Story