ذہنی صحت کا عالمی دن

پاکستان میں بے شمار خاندانوں کو اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں بے شمار خاندانوں کو اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فوٹو: فائل

آج (منگل) ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جس کو نوجوان افراد اور ذہنی صحت کا عنوان دیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ عنوان اس بنا پر خاص طور پر اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستان کی30فیصد آبادی 15سے 29سال کے درمیان ہے گویا ایک تہائی آبادی پندرہ سے انتیس سال کی عمر کی حدود میں آتی ہے۔

عمر کی متذکرہ حدود کی اس بنا پر بھی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ذہنی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں جو کہ انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ انسانی زندگی میں عمر کا یہ لمحہ نفسیاتی عوارض کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب نوجوان اپنی ذات کی شناخت کے بحران سے دوچار ہوتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ وہ دنیا کے کس مقام پر مقیم ہیں۔

عمر کے یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب نوجوانوں کی آرزوئوں کا زمینی حقائق سے مسابقہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں وہ اس قدر ذہنی کشمکش سے دوچار ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں فرد اپنی زندگی کو ختم کر دینے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ نفسیاتی ٹائم لائن میں یہ بہت تشویش کا مقام ہوتا ہے جیسا کہ پہلے بتایا گیا اس کیفیت کا دنیا کے کسی خاص مقام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس حوالے سے بین الشخصی interpersonal سلوک کی مثال دی جاتی ہے۔


پاکستان جیسے ملک میں حالات مغربی ممالک سے یکسر مختلف ہیں اس وجہ سے زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں سماجی عدم مساوات اور رسوم و رواج پر قدامت پسندی کا غلبہ ہے لہذا وہاں پر قدیم نسل اور جدید نسل میں اختلافات کی خلیج زیادہ نمایاں ہے یا اگر زیادہ نہیں تب بھی محسوس زیادہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں ایسی قسم کی صورت حال ہو تو ان کو دبانے میں کوئی چیز مانع نہیں ہوتی۔ شادی بیاہ کے معاملات میں ایک نوجوان اپنی پسند کا حق استعمال کرنا پسند کرتا ہے گو کہ اس راہ میں بھی رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں جنھیں نظرانداز کرنے کو بغاوت سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اقتصادی وجوہات کے باعث کچھ لوگوں کو اپنی تعلیم یا کیرئیر ترک کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں بے شمار خاندانوں کو اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ ذہنی طور پر توانا نوجوان نسل کسی قوم کی ترقی کا انجن ہوتی ہے' یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو قوموں کو ترقی کی منزل تک برق رفتاری سے پہنچاتے ہیں لہٰذا حکومت اور معاشرے دونوں کو اس پہلو پر غور کرنا چاہیے۔
Load Next Story