ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس

ملک بھر میں نفرت کا بیج بونے والی قوتوں کو ناکام بنانا اور پاکستان کا مثبت بیانیہ اجاگر کرنا میڈیا کی بھی ذمے داری ہے۔

ملک بھر میں نفرت کا بیج بونے والی قوتوں کو ناکام بنانا اور پاکستان کا مثبت بیانیہ اجاگر کرنا میڈیا کی بھی ذمے داری ہے۔ فوٹو: فائل

پاک فوج کے ترجمان اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ہفتے کو لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان میں عام انتخابات انتہائی شفاف اور آزادانہ تھے، (ن) لیگ کی حکومت نے ہماری ہر ضرورت پر توجہ دی اور سرحد محفوظ بنانے کے لیے رقم فراہم کی۔

ن لیگ کی حکومت نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی منظوری دی اور مکمل تعاون کیا، کرپشن کے خلاف مہم میں فوج کا کوئی کردار نہیں، سرجیکل اسٹرائیک صرف دیومالائی کہانی ہے، بھارت جھوٹ بول رہا ہے، بھارت نے ایک سرجیکل اسٹرائیک کی تو پاکستان 10 اسٹرائیکس کرے گا، پاک فوج سی پیک کی محافظ ہے، عام انتخابات میں فوج نے ممکن بنایا کہ ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دے، کسی کو نہیں کہا گیا کہ کس کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں۔

پاکستان میں آزادی اظہار رائے موجود ہے، فوج پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے لیکن کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا اگر کسی کے پاس ثبوت ہے تو لے آئے، وقت بتائے گا کہ حالیہ الیکشن تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے۔ تبدیلی کے سال سے متعلق میری ٹویٹ کو غلط معنوں میں لیا گیا۔

پاکستان میں سیاستدانوں کے احتساب کے حوالے سے جاری مہم کے بارے میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کرپشن کے خلاف مہم اور احتساب میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے، اس کا کام ملک کی سلامتی برقرار رکھنا ہے اور وہ پوری طرح مشرقی اور مغربی سرحد پر مصروف ہے۔ احتساب کے لیے فوج کا اپنا میکنزم ہے، اس کا احتسابی نظام سب سے قوی، سخت اور کثیرجہتی ہے جس سے کوئی ماورا نہیں ہے۔ اگر پورے ملک میں فوج میں رائج احتساب کا نظام لاگو کردیا جائے تو تمام مسئلے حل ہو جائیں گے۔


موجودہ حالات میں پاکستان کو داخلی اور خارجی سطح پر مختلف چیلنجز درپیش ہیں، داخلی سطح پر کچھ قوتیں پاک فوج پر مختلف حوالوں سے الزامات کے علاوہ ملکی سلامتی کے لیے بھی مسائل پیدا کر رہی ہیں، خارجی سطح پر بھارت اور افغانستان ایک منصوبے کے تحت پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اس پیچیدہ صورت حال کے تناظر میں یہ ناگزیر ہو گیا تھا کہ پاک فوج پر لگائے گئے الزامات اور اس کے خلاف شروع کی گئی منفی مہم کا موثر اور واضح جواب دیا جائے، اسی لیے ڈی جی آئی ایس پی آر نے لندن میں میڈیا سے گفتگو میں تمام صورت حال کو کھل کر بیان کیا اور پاک فوج کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی تھیں اس کے منفی تاثر کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاسی مداخلت کے حوالے سے غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے واضح کیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کام ملک کی سلامتی برقرار رکھنا ہے، فوج یقین رکھتی ہے کہ جمہوریت آگے بڑھنے کا راستہ ہے، پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

بھارت پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کا بہت واویلا مچاتا ہے لیکن آج تک وہ اس کا کوئی ثبوت منظرعام پر نہیں لا سکا۔ میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے کوئی بھی مہم جوئی کی گئی تو دس گنا زیادہ طاقت سے جواب دیں گے، پاکستان کی طاقت پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، اس وقت پاک فوج کے پاس زیادہ تر وہ افسر ہیں جو جنگوں میں لڑ چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج نے جو جنگ لڑی، اس کی کامیابی کا اعتراف عالمی سطح پر کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امن واستحکام کے لیے 76ہزار سے زائد جانیں قربان ہوئیں۔ پاک فوج کی جدوجہد اور قربانیوں ہی کا ثمر ہے کہ آج کراچی سمیت پورے ملک میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔

جرائم اور دہشت گردی امریکا اور یورپ میں بھی ہوتی ہے لیکن وہاں کا میڈیا اپنے ملک کے بارے میں کوئی بھی منفی تاثر قائم نہیں کرتا اور ہر طرف مثبت رویوں اور سوچ کو اجاگر کیا جاتا ہے جب کہ پاکستان کے بارے میں انٹرنیشنل میڈیا کا رویہ متعصبانہ اور جانبدارانہ ہے جس کی شکایت کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انٹرنیشنل میڈیا میں پاکستان سے متعلق مثبت خبروں کو اجاگر نہیں کیا جاتا جب کہ آج کا پاکستان ماضی سے بہتر ہے اور یہاں خرابیوں سے زیادہ اچھائیاں ہیں۔

ملک بھر میں نفرت کا بیج بونے والی قوتوں کو ناکام بنانا اور پاکستان کا مثبت بیانیہ اجاگر کرنا میڈیا کی بھی ذمے داری ہے۔ ملکی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور احتساب کا ایسا مضبوط اور کثیرجہتی نظام رائج کیا جائے کہ کوئی بھی مجرم خواہ وہ کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، سزا سے نہ بچ سکے۔
Load Next Story